آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (نیوز ڈیسک) کائنات کے بارے میں موجودہ سائنسی نظریات میں صرف 5؍ فیصد میں یہ بتایا گیا ہے کہ خلا میں آخر کیا ہے لیکن نئے نظریے میں بتایا گیا ہے کہ اب تک خلا میں جتنے بھی اجرام فلکی کا مشاہدہ کیا جا چکا ہے وہ سب ایک پراسرار، نظریاتی اور ’’کائناتی سوُپ‘‘ میں تیر رہے ہیں۔ باقی ماندہ 95؍ فیصد کائنات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈارک میٹر یا ڈارک انرجی سے بنی ہے، نظریاتی لحاظ سے دیکھیں تو خلا میں جن چیزوں کے بارے میں ہمیں علم ہے وہ ہم اس لیے معلوم کرپائے ہیں کہ ان کی کشش ثقل ارد گرد کی چیزوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، آکسفورڈ کے ماہر فلکی طبعیات جیمی فارنیس نے رائے پیش کی ہے کہ ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر دراصل مل کر ایک گہرا سیال مائع بناتے ہیں جس میں منفی مادہ بھی ہوتا ہے اور یہ پوری کائنات میں پھیلا ہوا ہے۔ ڈارک میٹر (Dark Matter) کا نظریہ 1930ء کی دہائی میں پیش کیا جانا شروع ہوا اور 1998ء تک ڈارک میٹر کے حوالے سے سائنسدانوں نے کئی نظریات پیش کیے۔ ان

میں انتہائی مشترکہ ورژن کو معیاری ماڈل کہا جاتا ہے جسے سائنسدان Lambda-CDM Model کہتے ہیں، یہی ہمارا بہترین اندازہ ہے کہ آخر 95؍ فیصد کائنات کس مواد سے بنی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں