آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا میں کچرے اور کوڑے کی مقدار خطرناک انداز سے بڑھ رہی ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ اسے کہاں ٹھکانے لگایا جائے۔ سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق، ابھی کچھ ہی عرصہ قبل کی ہی بات ہے کہ یہ مسئلہ چین کو درپیش تھا لیکن اب امریکا سر فہرست ہے۔ برسوں سے امریکا اپنا کچرا ری سائیکل کرنے کیلئے کوڑے اور کچرے سے بھرے 4؍ ہزار شپنگ کنٹینرز روزانہ چین کو بھجواتا رہا ہے۔ 1992ء سے چین اور ہانگ کانگ نے دنیا بھر کا کچرا صاف کیا ہے جس میں زیادہ تر پلاسٹک ہوتا ہے۔ بھارت، ویتنام اور انڈونیشیا میں بھی اتنا دم نہیں کہ وہ چین جتنا بوجھ سنبھال سکے۔ لیکن اب چین دنیا بھر کا کچرا چننے سے تنگ آ چکا ہے، اور 2020ء تک، چین دیگر ملکوں سے کچرا نہیں لینا چاہتا۔ مقامی سطح پر آلودگی سے نمٹنے کیلئے چینی حکومت نے حال ہی میں ایک نئی پالیسی کا نفاذ کیا ہے جس کے تحت 24؍ مختلف اقسام کے ٹھوس فضلے کی درآمد پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جس میں زیادہ تر اشیا پلاسٹک اور کاغذ کی بنی ہیں۔ تبدیلی کا آغاز رواں سال سے ہوا ہے اور اس وقت سے ہی امریکا میں ری سائیکلنگ کا کام بڑھتا جا رہا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں