آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (ٹی وی رپورٹ) سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ عمران خان نے ماضی میں اسامہ بن لادن کا قتل سفاکانہ قرار دیا تو غلط بات نہیں ہے، پاک امریکا تعلقات بہتری کی طرف جائیں گے لیکن اس کی وجہ عمران خان نہیں ہیں، امریکا کو فی الحال پاکستان کی ضرورت ہے اس لئے تعلقات بہتر ہی رہیں گے،عمران خان کے دور میں پاک امریکا تعلقات بہتری کی طرف جانا مشکل ہے، عمران خان کا ممبئی حملہ کیس سے متعلق موقف پاکستان کے موقف سے مختلف نہیں ہے، وزیراعظم نے سابقہ موقف سے مختلف موقف اختیار کیا ہے، شیخ رشید کا اسد عمر کیخلاف شوگر مافیا کا اشارہ جہانگیر ترین کی طرف ہے، شیخ رشید دوسرے معاملات کے بجائے اپنی وزارت پر توجہ دیں، جہانگیر ترین ، اسد عمر اور شیخ رشید کی اپنی اپنی طاقت ہے ،معاملہ اسی طرح چلتا رہے گازیادہ سے زیادہ اسد عمر کی وزارت تبدیل ہوسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مظہرعباس، سلیم صافی، ارشاد بھٹی، محمل سرفراز، بابر ستار اور حفیظ اللہ نیازی نے جیوکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان ابصاکومل سے گفتگو کرتے ہوئے

کیا۔میزبان کے پہلے سوال ہم کرائے کی بندوق نہیں، امریکا کے ساتھ دوستی اور تجارت چاہتے ہیں، وزیراعظم کا امریکا کی طرف نرم رویہ، 2011ء میں عمران خان نے بن لادن قتل کو سفاکانہ قرار دیا تھا، مگر اب یاد نہیں، کیا عمران خان کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات میں بہتری آئے گی؟ کا جواب دیتے ہوئے بابر ستار نے کہا کہ عمران خان نے ماضی میں اسامہ بن لادن کا قتل سفاکانہ قرار دیا تو غلط بات نہیں ہے، امریکا ایک دوسرے ملک میں بغیر اجازت گھسا اور اسامہ بن لادن کو مارا تو ظاہر ہے سفاکانہ قتل ہی تھا،عمران خان نے واضح کردیا ہے کہ ماضی میں امریکا کے ساتھ جن شرائط پر تعلقات رہے اب ان پر نہیں ہوں گے، ماضی میں پاک امریکا تعلقات جس نوعیت کے تھے اس کا الزام صرف امریکا پر نہیں عائد کیا جاسکتا، ہمارے حکمرانوں نے جو فیصلے کیے اس کی ذمہ داری کسی دوسرے ملک پر نہیں ڈالی جاسکتی ہے۔سلیم صافی کا کہنا تھا کہ عمران خان کوا دراک ہے کہ پاک امریکا تعلقات کی نوعیت انہوں نے متعین نہیں کرنی ہے، بیانات سے قطع نظر زمینی حقائق اس وقت مختلف ہیں، پاکستانی اور امریکی اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں، طالبان سے مذاکرات کا عمل پاکستان کے تعاون سے ہورہا ہے، وزیراعظم نے دفتر خارجہ کے منع کرنے کے باوجود امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ عمران خان نے امریکی اخبار کو انٹرویو میں محتاط رویہ اپنا کر اچھا کیا ہے، امریکامیں شہنشاہِ یوٹرن ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ہے، موجودہ صورتحال میں ہمیں جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا چاہئے، امید ہے آئندہ پاک امریکا تعلقات میں بہتری آئے گی۔محمل سرفراز کا کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات بہتری کی طرف جائیں گے لیکن اس کی وجہ عمران خان نہیں ہیں، فی الحال ایسا لگ رہا ہے کہ امریکا کو ہماری ضرورت ہے اس لئے پاک امریکاتعلقات بہتر ہی رہیں گے۔حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ عمران خان کی یہ بات خطرناک ہے کہ امریکا افغانستان سے ایک دم نہیں نکلے بلکہ ترقیاتی کام اور استحکام پیدا کر کے جائے، پاکستان اور طالبان کا ہمیشہ مطالبہ رہا ہے کہ امریکا افغانستان سے فوری طور پر نکل جائے لیکن نقصان کا معاوضہ دے کر جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں