آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلق خدا انتظار میں تھی کہ اب تخت گرائے جائیں گے تاج اچھالے جائیں گے۔

لیکن دیکھنے کو کیا مل رہا ہے چھجے گرائے جارہے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی دکانیں مسمار کی جارہی ہیں۔ وہی کے ایم سی اور وہی بلدیاتی ادارے یہ تجاوزات ہٹارہے ہیں جو اس کی اجازت دیتے رہے ہیں۔ جو یہ سب کچھ دیکھ کر نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ قانون کی خلاف ورزی باقاعدہ نیلام ہوتی تھی۔ ہر فٹ تجاوزات کے نرخ مقرر تھے ۔71سال کو تو چھوڑ دیں۔ 1971کے بعد کے پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں۔ ان برسوں کو بھی نظر انداز کردیں ۔ گزشتہ چالیس سال کے اندر کراچی ہی نہیں سارے شہروں کی صورت حال دیکھیں۔ سب کے ماسٹر پلان مسخ کرکے رکھ دیے گئے ہیں۔ کمرشلزم حاوی ہورہا ہے۔ راستے تنگ تر۔ رہائش گاہوں کی جگہ کاروباری مراکز ۔

مکان سب کی سکوں گاہیں

دکانوں میں بدلتی جارہی ہیں

سینما ،کارخانے گرادیے گئے۔ مارکیٹیں کھڑی کردی گئیں۔تجاوزات۔ خلاف قانون تھیں۔ جو لوگ یہ دکانیں خرید رہے تھے جو تعمیر کررہے تھے جو یہاں سے آکر سودا سلف خریدتے تھے۔ سب قانون شکنی کررہے تھے۔ پورا معاشرہ ہوس زر میں مبتلا ہے۔ راتوں رات امیر بننا چاہتے ہیں۔ نوکری ڈھونڈنے والا ایسی جگہ تلاش کرتا ہے جہاں اوپر کی آمدنی ہو۔ مائیں اپنے بیٹوں کیلئے ایسی بہوئیں لانا چاہتی ہیں جو اپنے ساتھ لاکھوں کروڑوں کا جہیز لائیں۔ چاہے وہ جائز کمائی کا ہو یا ناجائز کا۔ پہلے رشوت لینے والے معاشرے میں اچھوت سمجھے جاتے تھے ۔ محلّے والے ان کا بائیکاٹ کرتے تھے۔ اب ناجائز آمدنی والے سب سے معتبر ہیں۔ کونسلر ہیں ایم پی اے ہیں۔ ایم این اے ہیں ۔ وزیر ہیں۔

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا

یہی مساجد و مدارس کو سب سے زیادہ عطیات دیتے ہیں۔ غریبوں کیلئے دستر خوان سجاتے ہیں۔

بھاری رشوت دے کر غیر قانونی کاروبار کرنے والے آج مظلوم بن کر سامنے آرہے ہیں۔ اپنی رشوت کی رقم یہ گاہکوں سے وصول کرتے رہے۔ کم تول کر۔ زیادہ قیمت لے کر۔ ملاوٹ کرکے ۔جنرل ضیاء الحق کے دَور میں جب ہم حیدر آباد جیل میں نظر بند تھے۔ تو ایک مشہور ڈاکو بھی وہاں عمر قید کاٹ رہاتھا۔ نام شاید منگل خان تھا۔ وہ خودکئی قتلوں کا اعتراف کرتا تھا۔ اور بھی ایسے قصّے سناتا تھا اپنی دیدہ دلیری اور درندگی کے۔ لیکن وہ ساتھ اپنی مظلومیت کی داد بھی چاہتا تھا۔ وہ ہمدردی کا مستحق سمجھا جاتا تھا۔قانون شکن پھندے میں آنے کے بعد معصوم بن جاتے ہیں۔

تجاوزات ہٹانے کی زد میں آنے والے ان تاجروں کو تو چاہئے ان افسروں کو بے نقاب کریں جن کو لاکھوں روپے دے کر یہ غیر قانونی تعمیرات قانونی قرار پائیں۔شہر خوبصورت ہورہا ہے۔ اس کا دامن وسیع ہورہا ہے۔ شاہراہیں کشادہ ہورہی ہیں۔ایک بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ ماضی کی طرح ان کارروائیوں پر عدالتیں اسٹے آرڈر( حکم امتناعی) نہیں دے رہی ہیں ۔ کوئی بڑے جلوس نہیں نکل رہے ہیں۔ بلکہ کچھ دکاندار۔ یہ کرینیں۔ شاول پہنچنے سے پہلے خود ہی اپنے تھڑے توڑ لیتے ہیں۔ سائن بورڈ ہٹادیتے ہیں۔ کچھ کچھ شہری ذمہ داری اور مدنی احساس پیدا ہوتا نظر آتا ہے۔ اقبال سے کہنا پڑتا ہے کہ کارواں کے کچھ ارکان میں احساس زیاں واپس آگیا ہے۔سماج میں یہ رویے بہت اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ اس تبدیلی میں حکومت وقت کا فی الحال کوئی کردار نہیں ہے۔ اس کا سہرا سپریم کورٹ کے سر سجتا ہے۔ یہاں یہ بھی خیال آتا ہے کہ سپریم کورٹ کے پہلے کتنے چیف جسٹس آئے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری جیسے سرگرم اور فعال بھی۔ ان کا اس طرف دھیان نہیں گیا۔

ملک میں سب سے پہلا مارشل لا جب لگا تو فوجیوں نے سب سے پہلا کام یہی کیا تھا ۔ سڑکوں سے تجاوزات ہٹائی تھیں۔ کھوکے اٹھادیے۔ رستے کھول دیے۔ مارشل لاخود آئین سے تجاوز ہوتا ہے۔ لیکن جب مارشل لا والے ایسے زندگی آسان بنانے والے کام کرتے ہیں تو عوام ان کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ بعد میں آنے والے مارشل لا شہروں کی خوبصورتی سے زیادہ اپنی خوبصورتی پر توجہ مرکوز کرتے رہے۔ جنرل ضیا۔ اور جنرل مشرف کے دَور میں تجاوزات ختم کرنے کی بجائے بڑھائی گئیں۔ البتہ مشرف صاحب نے اختیارات کی تقسیم کے ذریعے ایسا مضبوط نظام دیا کہ بلدیاتی ادارے با اختیار ہوگئے۔ وہ یہ کام کرسکتے تھے لیکن وہ بھی ہوس زر میں مبتلا ہیں۔ہم تو کراچی میں دیکھ رہے ہیں کہ ان تجاوزات کے ہٹنے سے شہر حسین ہورہا ہے۔

ایمپریس ہوگئی جواں پھر سے

حسن باطن ہوا عیاں پھر سے

میری اس غزل کو فیس بک پر سب سے زیادہ Likesملیں۔ اس کا مطلب ہے کہ خلق خدا ان کارروائیوں کو پسند کررہی ہے۔ انہیں سہولتیں میسر آرہی ہیں۔ مگر ساتھ ساتھ یہ سوال ضرور ہوتاہے کہ جن شعبوں۔ محکموں اور افراد نے شہروں کو اک عذاب میں مبتلا کیا ۔ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا تھا۔ قوم کے کتنے قیمتی گھنٹے ضائع ہوتے رہے۔ ملک صنعتی بنیاد کھوتا رہا۔ مارکیٹیں۔ بڑے بڑے شاپنگ مال بنتے رہے۔ بن رہے ہیں۔جہاں غیر ممالک سے قانونی طور پر درآمد شدہ اور اسمگل شدہ اشیا فروخت ہورہی ہیں۔ زرعی اور صنعتی پہچان رکھنے والا پاکستان ایک منڈی بنتا جارہا ہے۔ یہ عجیب قسم کا کمرشلزم ہےکہ اس سے ملک غریب ہوتا ہے۔ چند افراد امیر سے امیر تر ہوتے جاتے ہیں۔ حرام مال کی کثرت بھی ہورہی ہے۔ عزت بھی ۔ پاکستانی روپیہ کمرشلزم کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ ڈالر ہرنوں کی طرح قلانچیں بھر رہا ہے۔

سپریم کورٹ اور خاص طور پر چیف جسٹس ثاقب نثار کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے ان تجاوزات کے خاتمے کو حقیقت بنایا۔ تجاوزات ہٹانے میں حکومت عدلیہ اور فوج ایک صفحے پر نظر آتی ہیں۔ پاکستانیوں کی زندگی میں یقیناََ آسانی آرہی ہے۔ اس کیلئے بلدیاتی اداروں کے اختیارات بحال کرنا ضروری ہے۔ شہروں میں ایک ہی اتھارٹی ہونی چاہئے۔ دوسرے شعبے اس کے ماتحت اس سے تعاون کریں۔زمین کسی کی بھی ملکیت ہو لیکن عملداری بلدیاتی ادارے کی ہو۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر مختلف اداروں کی عملداری میں ہے۔ کہیں کے ایم سی کی حکومت ہے۔ کہیں کنٹونمنٹ کا راج۔ کہیں کے پی ٹی کا۔ کہیں ڈی ایچ اے کا۔ ان ملائوں میں مرغی حرام ہوجاتی ہے۔ دوسرے شہروں میں بھی یہی حال ہے۔ اسی میں لینڈ مافیا والے بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ کچھ علاقے وہ ’نو گو ایریا‘ بنادیتے ہیں۔ رائے عامہ کے ایک بڑے حصّے کو یہ مہم قانون کی حکمرانی کا آغاز محسوس ہورہی ہے۔ آغاز تو اچھا ہے ۔ انجام بھی اچھا ہو۔ انشاء اللہ۔

دیکھیں میڈیا کو مشورہ دیا گیا ہے چھ ماہ سب اچھا دکھائے گا۔ میں نے اس تحریر میں یہی کوشش کی ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں