آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیکس دینے سے جائیداد قانونی نہیں ہوگئی،ثبوت ملنے پر علیمہ خان کیخلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ ہوسکتا ہے،وزیر اعظم کے معاون خصوصی

کراچی(نیوزڈیسک، ٹی وی رپورٹ)عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ ٹیکس جمع کرانے سے علیمہ خانم کی جائیداد قانونی نہیں ہوگئی، شواہد ملنے پرعمران خان کی بہن کے خلاف بھی منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے،اپوزیشن کے پاس ثبوت ہے تو نیب کو پیش کرے، جعلی اکاؤنٹس کا ذمہ دار اسٹیٹ بینک اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ ہے، سیاستدانوں سمیت کئی افراد کے بیرون ممالک40کروڑ پاؤنڈز کے اکاؤنٹس منجمد کرواچکے ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے جیو نیوز کے پروگرام جیو پارلیمنٹ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے پاس اگر علیمہ خانم کیخلاف ثبوت ہے تو نیب کو پیش کرے،حکومتی ارکان کی گرفتاری میں جلدی نہ کرنے اور مخالفین کی گرفتاری میں عجلت کے سوال پر شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ نیب اور ملزمان کا معاملہ ہے۔معاون خصوصی کاکہنا ہےکہ وہ کسی عمران شفیق کو نہیں جانتے۔ میزبان ارشد وحید چوہدری نے دوران

گفتگو سوال کیا کہ اگر منی لانڈرنگ کے کہیں پر بھی شواہد ملتے ہیں تو علیمہ خان کیخلاف بھی ویسے ہی منی لانڈرنگ کے جرم میں مقدمہ ہوسکتا ہے جیسے باقی؟ اس پر شہزاد اکبر نے کہا کہ جی بالکل ہوسکتا ہے، یہ بہت سادہ سی بات ہے، میرا نہیں خیال کہ وزیراعظم عمران خان کا کوئی ایسا ریکارڈ ہے کہ ان کیلئے کوئی فیورٹ ہوگا، اپوزیشن جو شور مچارہی ہے وہ کوئی ایسا ثبوت ہے تو نیب کے سامنے ریفرنس ڈال دے۔ایک سوال ’’وزیراعظم صاحب نے اس کیس میں کچھ مداخلت نہیں کی؟‘‘ کے جواب میں شہزاد اکبر نے کہا کہ نہیں، کوئی مداخلت وزیراعظم صاحب نے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس طرح میں انہیں جانتا ہوں وہ اس چیز میں کوئی مداخلت کر ہی نہیں سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ منی لانڈرنگ کے ضمن میں سب سے اہم ایف ایم یو ہے جو ہمارا مانیٹرنگ یونٹ ہے جسے دنیا میں انٹیلی جنس یونٹ کہتے ہیں اور وہ پاکستان کا سب سے کمزور ہے جس وجہ سے ہم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہیں اور بلیک میں جاسکتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ایف ایم یو کو مضبوط نہیں کیا، یہ جو فیک کیسز ہوئے اس میں سب سے بڑا سوالیہ نشان اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فائنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور ان کی فعالیت کے اوپر اٹھتا ہے ۔ میزبان نے سوال کیا کہ نیب پراسیکیوٹر کہتے ہیں زلفی بخاری نے تعاون نہیں کیا، آپ دوسری طرف کہہ رہے ہیں ان کا نام ای سی ایل سے ہٹایا جائے، یہاں بھی آپ نہیں دیکھتے کہ آپ جو کہہ رہے ہیں اس کے برخلاف جارہا ہے اور پھر عمران شفیق صاحب جس طرح ان سے استعفیٰ لیا گیا ، یہ بھی تو حکومت پر بڑا سوال آتا ہے؟ جس پر شہزاد اکبرنے کہا کہ میں نہیں جانتا عمران شفیق صاحب کون ہیں، اس بات پر میزبان نے یاد دلایا کہ نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر تھے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ نیب میں 300 پراسیکیوٹر ہوتے ہیں اگر کوئی استعفیٰ دیتا ہے یا کسی کو نکال دیا جاتا ہے تو یہ چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کا معاملہ ہے اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں