آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍رجب المرجب 1440ھ 19؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان بھر میں پانی کا مسئلہ سنگین’’ڈیم بنائوــ‘‘اب تحریک بن چکی،نقل مکانی کی نوبت نہیں آئیگی،چیف جسٹس

کوئٹہ(نمائندہ جنگ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے قلت آب کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطرے کی یہ تلوار ہمارے بچوں کے سروں پر لٹک رہی ہے اور یہ پورے پاکستان کیلئے تھریٹ بن چکا ہے مگر اب نقل مکانی کی نوبت نہیں آئیگی کیونکہ ایک تحریک بن گئی ہے ،صحت ، تعلیم اور پانی کی طرح انصاف بھی بنیادی انسانی حق ہے جو ہم نے یقینی بنانا ہے۔ سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان ناقابل تسخیر قلعے ہیں جنہیں آپ دلیل، آئین اور قانون کے سواکسی چیز سے تسخیر نہیں کرسکتے، مجھے اپنی عدلیہ پر فخر ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کی جانب سے کوئٹہ میں دیئے گئے عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ ،جسٹس گلزار احمد ،جسٹس مشیرعالم، جسٹس مظہر عالم خان میاخیل،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ محترمہ طاہرہ صفدر ، گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی،

جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان ، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ،جسٹس عبد اللہ بلوچ، جسٹس نذیر احمد لانگو، جسٹس ظہیر الدین کاکڑ اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئر مین کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ سمیت وکلاء کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آئین میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے آئین کے آرٹیکل 199، آرٹیکل 184کے تحت یہ ذمہ داری ہے کہ یہ حقوق دلائیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جن معاملات میں ضرورت محسوس کی وہاں سوموٹو ایکشن لیا لیکن یقین دلاتا ہوں کہ اس میں نیت یہی تھی کہ لوگوں کے جو حقوق پامال ہورہے ہیں اس کا سلسلہ روک سکیں غریب کا کوئی حال نہیں استحصال بہت زیادہ ہوتا ہے صحت تعلیم پانی یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جس کیلئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں بلوچستان آیا تو مجھے پتہ چلا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کرچکا ہے جسکے بعدہم نے پانی کے مسئلے پر کام کرنا شروع کیا جو آج ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکا ہے اورانشاء اللہ تعالیٰ اب کوئی بھی پانی کی کمی کے باعث نقل مکانی نہیں کریگا۔بھاشا اور دیگر ڈیم ضرور بنیں گے اسکے ساتھ ساتھ ہم نے ایک اہم کام یہ کیا کہ منرل واٹرانڈسٹری ایک پیسہ نہیں دے رہی تھی کم از کم ہم نے فی الوقت ایک روپیہ فی لیٹر ان پر ٹیکس لگالیا اور مختص کردیا کہ یہ ٹیکس پانی کیلئے ہوگا اور پانی ہی کی ڈویلپمنٹ کیلئے ہر صوبہ اس کو خرچ کریگا یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اسوقت یہ اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں