آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات10؍جمادی الاوّل 1440ھ 17؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (احمد نورانی) ایوان وزیراعظم نے دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی کے خلاف پریس کونسل آف پاکستان میں ان کی خبر پر شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ خبر کا عنوان تھا کہ کس نےوزیراعظم کو غلط معلومات فراہم کی کہ تحریک انصاف کی حکومت نے 26ممالک سے معلومات کے تبادلے کیلئے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ وزیراعظم کے ترجمان اور معاون خصوصی افتخار درانی نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انصار عباسی کی خبر کی سرخی غلط تھی جس سے دل آزاری ہوئی۔ درانی نے کہا کہ یہ کہنا صریحاًغلط ہے کہ وزیراعظم کو غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کا معیار بری طریقے سے گر چکا ہے اور صحافیوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایشوز کو سمجھیں۔ افتخار درانی سے پوچھا گیا کہ کیا وزیراعظم نے اس شرمناک اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد کسی انکوائری کا حکم دیا ہے جس کے مطابق انہیں 26ممالک کےساتھ پاکستانیوں کی دولت سے متعلق معلومات کے تبادلے کے معاہدوں کی معلومات غلط طور پر فراہم کی گئیں اور اس کا

انہوں نے کریڈٹ لیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ایسا ایک بھی معاہدہ نہیں کیا بلکہ اس طرح کے معاہدے اسحاق ڈار نے 2016میں کئے تھے جو اس سال ستمبر سے موثر ہو چکے ہیں۔ درانی کا کہنا تھا کہ میڈیا ایشوز کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے اور جو کچھ بھی اس حوالے سے ہوا، تحریک انصاف کی حکومت نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی حضرات کو ایشوز کو سمجھنے کا سنگین مسئلہ درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشنل ورک صرف تحریک انصاف کی حکومت نے شروع کیا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ جب اسحاق ڈار نے بطور وزیر خزانہ سوئٹزرلینڈ اور او ای سی ڈی سے یہ معاہدے کئے، میڈیا اس وقت سے ان تمام تر پیش رفت کی کوریج کررہا تھا، جبکہ ان معاہدوں کے آپریشنل ہونے کا تحریک انصاف کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں، درانی نے اس معلومات کی تردید کی اور کہا کہ ہر عملی قدم تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد اٹھایا گیا۔ افتخار درانی نے جو کچھ کہا اسے ایک طرف رکھا جائے، اعلی پی پی رہنما اور بہادر سیاستدا ن فرحت اللہ بابر نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 26ممالک کے ساتھ معلومات کے تبادلے سے متعلق جھوٹ پر قوم سے معافی مانگیں کیونکہ یہ معاہدے ن لیگ نے کئے تھے ۔ اپنے ٹوئٹ میں فرحت اللہ بابر نے کہا کہ باہر ممالک میں رکھی گئی دولت سے متعلق معلومات کے تبادلے کے معاہدوں کا سچ آخر کار باہر آہی گیا ہے، معاہدے اسحاق ڈار نے 2016میں کئے تھے ، تحریک انصاف کی حکومت نے نہیں، عمران خان نے جھوٹ بولا اور مخالفین کو بدنام کیا، جھوٹ بےنقاب ہوا، خودداری کا تقاضہ یہ ہے کہ معافی مانگی جائے۔نہ صرف فرحت اللہ بابر بلکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے اتوار کے روز ایک ٹاک شو میں اعتراف کیا کہ کثیر الجہتی معاہدے 2016میں طے پائے تھے جب اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے۔ تاہم اسی ٹاک شو میں انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کو اس کا کریڈٹ نہیں دیا جاسکتا کیوںکہ ان معاہدوں پر عمل درآمد تحریک انصاف کی حکومت نے کیا جبکہ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ معاہدے کی توثیق کی۔ جب انہیں یاد دلایا گیا کہ ان معاہدوں کو ستمبر میں نافذالعمل ہونا تھا جبکہ پاکستان کو معلومات کی فراہمی اسحاق ڈار کے معاہدے کرنے کے نتیجے میں ہی ممکن ہوئی، بیرسٹر شہزاد اکبر نے اعتراف کیا کہ اسحاق ڈار کو کریڈٹ دیا جاسکتا ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت ان معاہدوں کی توثیق اور عملی جامع پہنانے میں مصروف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ معاہدہ بھی اسحاق ڈار نے طے کیا تھا اور جس چیز پر تحریک انصاف کے رہنما کنفیوز ہو رہے ہیں وہ یہ کہ اس کی توثیق سوئز پارلیمنٹ سے اور بعد میں پاکستانی کابینہ سے ہونا ہے۔ افتخار درانی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم کا ان لوگوں کے خلاف انکوائری کا کوئی ارادہ نہیں جنہوں نے انہیں 26ممالک سے معاہدے سے متعلق غلط معلومات فراہم کیں۔ انصار عباسی نے خبر دی کہ مختلف چینلز کے اینکرز کےساتھ انٹرویو میں وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد انکی حکومت نے پاکستانیوں کی دولت کا پتہ لگانے کیلئے 26ممالک کے ساتھ معاہدے کئے۔ اس معاملے کا کریڈٹ لینے کے بعد انہوں نے یہاں تک کہا کہ پچھلی حکومت نے ایسا کوئی ایک معاہدہ بھی نہیں کیا۔ انصار عباسی نے خبر دی کہ ’’تاہم حقیقت جو دی نیوز نے جمعہ کے روز بیان کی یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستانیوں کی اربوں کی دولت کا پتہ لگانے کیلئے اب تک کوئی ایک معاہدہ بھی نہیں کیا ، بلکہ، جو معلومات اس حوالے سے پاکستان کو ملنا شروع ہوئی ہیں وہ ن لیگی حکومت کی جانب سے کئے گئے معاہدے کا نتیجہ ہے۔ یہ واضح نہیں کہ کس نے وزیراعظم کو اس حوالے سے غلط معلومات فراہم کی جس کی وجہ سے انہیں شرمندگی اٹھانی پڑی، کیونکہ جس معاملے کا سہرا وہ اپنے سر لینے پر تلے تھے وہ دراصل ن لیگی حکومت کو جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو غلط معلومات وزیراعظم کو فراہم کی گئی وہ انکے رفقاء نے چیک بھی نہ کی جس کی وجہ سے عمران خان کے مخالفین کو انہیں بدنام کرنے کا موقع ہاتھ لگ گیا۔ جیسا کہ دی نیوز نے خبر دی، اسلام آباد کو پاکستانیوں کے دولت سے متعلق معلومات آرگنائزیشن آف اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے ملٹری لیٹرل کنوینشن آن میچول ایڈمنسٹر یٹو اسسٹنس ان ٹیکس میٹرزکے ساتھ کئے گئے معاہدے کا نتیجہ میں ملنا شروع ہوئی۔ اس معاہد ے کا مقصد ٹیکس چوری کو روکنا ہے جو ستمبر سے نافذالعمل ہوا۔ اس معاہدے پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 14ستمبر 2016میں پیرس میں دستخط کئے جس کے تحت رکن ممالک سے خود بخود پاکستانیوں کی دولت سے متعلق معلومات ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں یہ قانون ستمبر میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے کچھ ہفتوں بعد نافذالعمل ہوا ۔ ایف بی آر کے سینئر ذریعے نے تصدیق کی کہ حکومت کو 26سے زائد ممالک سے ملنی والی معلومات اس لیگل فریم ورک پر دستخط کا نتیجہ ہے جو 2016میں طے پایا اور جو کچھ عرصے پہلے ہی نافذ العمل ہوا۔ او ای سی ڈی نے بھی خود اعلان کیا کہ پاکستان 104واں علاقہ ہے جو ٹیکس چوری کے خلاف سب سے مضبوط آلے کا حصہ بن چکا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں