• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان میں چیف سیکرٹری اور آ ئی جی مقامی کیوں نہیں ہوتے، ناانصافی نہیں ہونے دینگے، چیف جسٹس

کوئٹہ (نمائندہ جنگ، نیوز ایجنسیاں) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نےکہا ہے کہ میں رہوں نہ رہوں یہ ادارہ برقرار ہے اداروں کے حوالے سے کسی کا رہنا یا نہ رہنا معنی نہیں رکھتا، میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں، ڈیم بنانا ہمارے اور ہمارے بچوں کی زندگی کی بقاء کیلئےناگزیرہو گیا ہے، بلوچستان پاکستان کا اہم حصہ ہے، دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان میں چیف سیکرٹری اور آئی جی مقامی کیوں نہیں، ناانصافی نہیں ہونے دینگے، آپکے حقوق اسی طرح ہیں جیسے کسی دوسرے صوبے کے کسی بھی شہری کے حقوق ہیں، بلوچستان کے حقوق کا تحفظ کرینگے، صوبے کیساتھ نا انصافی نہیں ہونے دینگے، خدا کا واسطہ اس ملک سے محبت کریں، ایک سال اس ملک کو دیں اور پھر دیکھیں کتنی بہتری آتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹر ی کی بلڈنگ کی افتتاح اور بلوچستان ہائی کورٹ بار روم میں دیئے گئے ظہرانے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیلف گورننس کا حقیقی کونسیپٹ بلوچستان میں بھی اسی طرح رائج ہونا چاہئے جس طرح دیگر صوبوں میں ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز کی خالی آسامیوں پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سیدہ طاہرہ صفدر جتنی جلدی بار کی مشاورت سے نامزدگیاں کریں گی اورسفارشات بھجوائیں گی اتنی جلدی ہم اس کمی کو پورا کر دینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچستان کی نمائندگی بھی ہو گی جبکہ اس میں دیگر صوبوں اور اسلام آباد کی اپنی بھی مناسب نمائندگی بھی ہوگی تاکہ کسی کو اس بارے میں عذر نہ رہے۔

تازہ ترین