آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍جمادی الاوّل 1440ھ 20؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ سے گیس کہاں چلی گئی؟ سی این جی اسٹیشنز ویران ہوگئے،سڑکوں سے بسیں غائب ہوگئیں،شہری رل گئے،جو ایک دو بسیں چلیں ان کی چھتوں پر بھی جگہ کم پڑگئی۔

صوبے کی70 فیصد صنعتیں بھی ٹھپ ہوگئیں، گیس فیلڈز میں تکنیکی خرابی کا سوئی سدرن کا دعویٰ بھی غلط نکلا، گیس کب ملے گی؟ گیس کمپنی کے ترجمان کے پاس کوئی جواب نہیں۔

تین دن سے سی این جی غیر اعلانیہ بند تھی،پیر کی رات سوئی سدرن نے اعلانیہ طور پر غیر معینہ مدت کے لیے بند کردی،جو صوبہ 70 فیصد گیس پیدا کرتا ہے، وہاں گیس کے لالے پڑ گئے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شہری دہائیاں دیتے رہے کہ کوئی ہمارا پرسان حال نہیں،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ سچ چھپایا جارہا ہے، اصل کہانی سامنے نہیں لائی جا رہی۔

سی این جی ایسوسی ایشن کے رہنما شبیر سلیمان کا دعویٰ ہے کہ گیس سوئی ناردرن کو پہنچادی گئی جس کی وجہ سے سندھ میں گیس کا ناغہ اب گیس کے کال میں بدل گیا ہے،یعنی جو وقفے سے ملتی تھی اب وہ بھی ملنے سے گئی۔

گیس کیوں بند ہوئی،کیسے بند ہوئی،کہاں بند ہوئی،کب بحال ہوگی ،پہلے سوئی سدرن سے خبر آئی کہ 2 گیس فیلڈز گمبٹ اور کنرپسا گیس فیلڈز میں کوئی تکینکی خرابی ہوگئی۔

اس معاملے اس وقت ٹوئسٹ آیا جب پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے کہا ’ ایسا تو کچھ بھی نہیں،گیس پیداوار تو معمول پر ہے‘ لیکن جب سوئی سدرن کے ترجمان شہباز اسلام سے سوال ہوا تو انہوں نے ساری ذمے داری پھر پی پی ایل پر ڈال دی۔

حال صرف سی این جی کا ہی برا نہیں،سندھ کی صنعتیں بھی ٹھپ پڑی ہیں،گیس کا پریشر اتنا کم ہے کہ کام کا کوئی پریشر ہی نہیں بن رہا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں