آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر17؍ رجب المرجب 1440ھ 25؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لوڈشیڈنگ نہیں،پریشر کم، وزیرپٹرولیم، طلب اور رسد کی غلط معلومات دینے پر دونوں گیس کمپنی سربراہوں کیخلاف انکوائری

اسلام آباد (نیوز ایجنسیز) وزیراعظم عمران خان نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں کی جانب سے گیس کی طلب و رسد کی تخمینہ سازی میں نااہلی برتنے اور کمپریسرز کی معلومات پوشیدہ رکھنے ، طلب اور رسد کی غلط معلومات دینے پر دونوں گیس کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز کیخلاف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے 72؍ گھنٹےمیں رپورٹ طلب کرلی ۔ جبکہ وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے بتایا کہ بعض گیس کمپریسر پلانٹس کی خرابی سے متعلق معلومات کو حکومت سے پوشیدہ رکھا گیا ،جنوب اور شمال میں واقع گیس فیلڈز کی پیداوارمیں 80اور 50؍ ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی ہوگئی۔ تحقیقات کیلئے چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل کی سربراہی میں 4رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی گئی جسے کسی بھی ماہر کو معاونت کیلئے بلانے کا اختیار ہوگا ، دونوں ایم ڈیز سے منظم گورننس کی ناکامی کی تحقیقات کی جائیں گی اور کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ تفصیلات کےمطابق گزشتہ روز وزیراعظم عمران

خان کی زیر صدارت ملک میں جاری گیس بحران پر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر پٹرولیم غلام سرور خان، وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر ِاعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی، چیئرمین ٹاسک فورس برائے انرجی ندیم بابر، وفاقی سیکرٹریز اور دیگر اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیر اعظم کو ملک میں گیس کی بحرانی صورتحال، گیس کی پیداوار اور ضروریات سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں نے نااہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گیس کی طلب و رسد کی معلومات چھپائیںجس پر وزیراعظم عمران خان نے دونوں کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز کیخلاف انکوائری کا حکم دیدیا۔وزیر اعظم نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ایم ڈیز کیخلاف تحقیقاتی کارروائی 72؍ گھنٹے میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر پٹرولیم تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔اجلاس میں وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے وزیراعظم کو گیس کی صورتحال اور پیدا ہونیوالے حالیہ بحران پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گیس کے حالیہ بحران کی ذمہ داری بنیادی طور پر ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں نے نہ صرف حکومت سے بعض گیس کمپریسر پلانٹس کی خرابی سے متعلق معلومات کو پوشیدہ رکھا بلکہ دسمبر کے مہینے میں گیس کی طلب کے حوالہ سے تخمینہ سازی میں بھی غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ملک میں گیس کی مقامی پیداوار کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت جنوب میں واقع گیس فیلڈز کی کل پیداوار 1200؍ ایم ایم سی ایف ڈی ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 80؍ ایم ایم سی ایف ڈی کم ہے، اسی طرح شمال میں کنڑ پساکی اور گیمبٹ فیلڈ زمیں بھی گیس کی پیداوار میں50 ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی واقع ہوئی ہے۔وزیراعظم نے تحقیقات کے حوالے سے چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل خان کی سربراہی میں 4؍ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کردی ہے جس کا پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ڈی جی نجکاری کمیشن قاضی سلیم صدیقی، ڈی جی گیس شاہد یوسف اور ڈی جی ایل جی عمران احمد کمیٹی کے رکن ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ،کمیٹی ایم ڈی سوئی ناردرن اور ایم ڈی سوئی سدرن کیخلاف انکوائری کریگی۔کمیٹی دونوں ایم ڈیز کیخلاف انکوائری رپورٹ 72گھنٹے میں پیش کریگی۔ کمیٹی اپنی کارروائی کے دوران کسی بھی ماہر کو معاونت کیلئے بلاسکتی ہے۔ دونوں ایم ڈیز کیخلاف وزارت کو حقائق کے بارے میں آگاہ کرنے میں غفلت اور حکومت سے معلومات چھپانے کے حوالے سے تحقیقات کی جائینگی۔ جاری کردہ اعلامئے کے مطابق ،سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ایم ڈیز سے منظم گورننس کی ناکامی کی تحقیقات بھی کی جائینگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں