آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍جمادی الاوّل 1440ھ 21؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کافی پینےوالے سردیوں کا انتظارنہیں کرتےبلکہ روزانہ ایک سے دوکپ کافی پی کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دن بھر کی تھکن دور کرنے کے لیے بھی کافی پی جاتی ہے کیونکہ ایک کپ کافی پینے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جسم میں توانائی بھر گئی ہو۔ کافی پینے کے بعد جسم چاق و چوبند لگنے لگتا ہے۔ طلباء میں تو چائے اور کافی کا استعمال بہت ہی مقبول ہے، بالخصوص امتحانات کے دنوں میں وہ خود کو تازہ دم رکھنے اور رات میں جاگ کر امتحانات کی تیاری کرنے کے لیے کافی یا چائے ضرور پیتے ہیں۔ یہ تو کافی کے وہ فوائد ہیں، جو ہر خاص و عام کو معلوم ہیں لیکن سائنس کیا کہتی ہے ،آئیے اس بارے میں جانتے ہیں۔

کافی پر ہوئی کافی تحقیق

اسپین کے ماہرین نے ایک تحقیق کے ذریعے بتایا ہے کہ کافی بیماریوں سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ لمبی عمر کا بھی باعث ہوتی ہے۔ یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی جانب سے تمام یورپی ممالک میں 37سال8مہینے اوسط عمر رکھنے والے تقریباً20ہزار افراد کا سروے کیا گیا۔17دن تک ان لوگوں کو روزانہ اوسطاً 4کپ کافی پلائی گئی، ان میں کسی بھی وجہ سے ناگہانی موت کےامکانات ایسے افراد کے مقابلے میں64فیصد کم دیکھے گئے، جو کافی نہیں پیتے تھے۔ ماہرین نے جب کافی کی روزانہ مقدار اور عمومی صحت میں تعلق کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ روزانہ 2کپ کافی کے اضافی استعمال سے ناگہانی موت کے امکانات 22تک فیصد کم ہورہے تھے۔45سال یا اس سے زائد عمر والے افراد کےلیے2کپ اضافی کافی استعمال کرنے کا یہی فائدہ30فیصد تک سامنے آیا۔

دانتوں کی خرابی میں کمی

کیٹرز اِن اپلائیڈ مائیکروبائیولوجی نامی جریدے میںشائع ہونے والی ایک اور تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دیگر فوائد کے علاوہ بلیک کافی دانتوں کیلئے بھی خاصی مفید ہے۔ برازیل میں ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلیک کافی، جو بغیرچینی اور دودھ کے ہو، کے مناسب استعمال سےدانت خراب اور کمزور ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں 30فیصد کافی کین فورا (Canephora) نامی بیجوں سے بنائی جاتی ہے۔ ریوڈی جنیرو کی فیڈرل یونیورسٹی میں ان بیجوں پر کئے گئے تجربات سے سائنسدانوں نے معلوم کیا ہے کہ بلیک کافی دانتوں پر بیکٹیریا کی تہہ جمنے نہیں دیتی، جس کی وجہ سے ان کو کیڑا نہیں لگتا۔ تحقیق کے سربراہ آندرے انٹونیونے بتایا کہ دانتوں کا کیڑا دانت خراب کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہےاورانسانی دانتوں پر لگی بیکٹیریا کی یہ تہہ کافی میں پائے جانے والے مرکبات کی وجہ سے تحلیل ہو جاتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا کی تہہ کو کافی میں پایا جانے والا مادہ پولی فینول ختم کردیتا ہے۔

الزائمر اور پارکنسنز سے حفاظت

جولوگ کافی کا کم استعمال کم کرتے ہیں ان کے اند رکافی پینے والوں کے مقابلے میں پارکنسنز کا خطرہ زیادہ پایا جاتاہے۔ یہاںتک کہ سویڈن کی تحقیق کے مطابق اگر پارکنسنز بیماری موروثی بھی ہوتو کافی پینے سےخاصا افاقہ ہوسکتاہے۔

دل کےامراض میں کمی

ایک تحقیق میں شامل وہ شرکاء جو دن میں تین سے پانچ کپ کافی پیتے تھے، ان میں ابتدائی امراض قلب کا خطرہ کافی حد تک کم دیکھا گیا۔ برازیل میں ہونے والی تحقیق کےمطابق وہ لوگ جو دن میں کم سے کم تین کپ کافی پیتے ہیں، ان کے دل کی شریانوں میں کیلشیم سالٹ کے جمع ہوجانے کا خدشہ کم ہوتاہے۔

ذیابطیس کے خطرے میں کمی

آرکائیو آف انٹرنل میڈیسن کی تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو دن میں 6یا اس سے زائد کپ کافی پیتے ہیں، ان میں ذیابطیس ہونے کا خطرہ 22 فیصد کم ہوتاہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فرینک ہو کے حالیہ جائزے کے مطابق جو لوگ روزانہ دن میں ایک بار کافی پیتے ہیں، ان کے ذیابطیس ٹائپ ٹوکے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات 9فی صد تک کم ہوجاتے ہیں۔

اعصابی خلیات کی نشوونما

ذہن کے خلیات کی نشو ونما کیلئے بھی کافی بہت کام آتی ہے۔ یہ خلیےایسی توانائی پیدا کرتے ہیں، جس سے ذہن صحت مند اور توانا رہتا ہے ۔ کافی سے یادداشت بہتر ہونے اور ردعمل میں تیزی آنے جیسے فوائد شامل ہیں۔ اگر آپ امتحان دینے جارہے ہیں تو اس سے قبل کبھی کافی کا ایک کپ پی کر دیکھیے، یقین جانیے اس سے آپ کا دماغ بہتر کام کرے گا۔

نیند کا اثر دور کرے

یہ انسانی جبلت ہے کہ کوئی پریشانی ہو یا مشکل ، سب سے پہلے نیند ہی متاثر ہوتی ہے۔ اگر کئی دن تک نیند ٹھیک سے نہ آئے تو طبیعت بھاری اور بوجھل محسوس ہونے لگتی ہے۔ اگر آپ نیند نہ آنے کے باعث ہونے والی سستی دور کرنا چاہتے ہیں تو کافی پیجئے، ہشاش بشاش ہوجائیں گے۔

ڈپریشن میں کمی

بہت سے لوگ ڈپریشن کی وجہ سے اپنی زندگی سے بیزار نظر آتے ہیں۔ آرکائیو آف جنرل میڈیسن نے اس سلسلے میں86ہزار خواتین نرسوں کو 10سال تک کافی پلا کرتحقیق کی تو ان میں خودکشی کے بارے میں سوچنے کے تناسب میں کمی پائی گئی۔ ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ چار کپ یا اس سے زیادہ کافی پیتے ہیں، ان کے اندر ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خدشہ20فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں