آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ16؍ ذیقعد 1440 ھ 20؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ نے والد کا نام تبدیل کرنے سے متعلق تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کیس نمٹا دیا۔دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی معاونین کی رائے ہے نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا، باپ سے نان نفقے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالتی معاون مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ باپ کا نام دستاویزات پر لکھنے میں کوئی مفاد عامہ نہیں، امریکا، یو اے ای، سعودی عرب میں شناختی دستاویزات پر باپ کا نام نہیں ہوتا۔

جسٹس ثاقب نثار نےاستفسار کیا کہ یہ لڑکی کہہ رہی ہے کہ باپ کا نام نہ لکھا جائے، ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے۔

مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ نادرا کو کہہ دیں کہ والد کا نام نہ لکھیں، لیکن اس کے لیے نادرا کو نیا سوفٹ ویئر لگانا پڑے گا۔

عدالتی معاون وکیل نے کہا کہ بیرون ممالک سفر کے لیے تطہیر فاطمہ کو باپ کے نام کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ شرعی اور قانونی رائے کے مطابق باپ کا نام ہٹایا نہیں جا سکتا۔

تطہیر فاطمہ کی والدہ نے کہا میں چاہتی ہوں جہاں والد نہ ہو وہاں اس کی کفالت کرنے والے کا نام لکھ دیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے جائیداد تقسیم کے معاملات پیدا ہو سکتے ہیں، اس معاملے کو کابینہ میں لے جائیں اور اس پر قانون سازی کی جائے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت لاوارث بچوں کے معاملے پر عبد الستار ایدھی والے معاملے پر فیصلہ کر چکی ہے۔

سپریم کورٹ نے تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کا معاملہ کابینہ کو بھجواتے ہوئے قانون سازی کی ہدایت کر دی۔

خیال رہے کہ رواں برس ستمبر میں 22سالہ تطہیر فاطمہ نے اپنے برتھ سرٹیفکیٹ اور دیگر دستاویزات سے والد کا نام ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جس شخص نے کبھی اسے دیکھا نہیں اور ہی نہ کفالت کی، وہ والد کیسے کہلا سکتا ہے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں