آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ23؍ صفرالمظفّر 1441ھ 23؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بتوں نے ستایا تو خدا یاد آنے لگا!! کارزار

یہ نومبر 2012ء کی بات ہے۔ نقشبندی سلسلے کے شیخ محمد ناظم عادل القبرصی الخاقانی کی خانقاہ پر سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے قائد پرویز مشرف قبرص کے شہر ”ارجان“ گئے۔ وہاں پہنچنے پر ان کا استقبال کیا گیا۔ ان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔ ظہرانے میں صوفیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شیخ محمد ناظم عادل القبرصی الخاقانی نے پرویز مشرف کی الیکشن میں کامیابی کے لئے خصوصی دعا کرائی۔ جب ہم نے یہ خبر پڑھی تو ہمارے ذہن کے کینوس پر حکمرانوں کی ایک تاریخ گردش کرنے لگی۔ پتہ چلا پرویز مشرف پہلے حکمران نہیں جو کسی روحانی بزرگ کے پاس کامیابی کی دعا کرانے گئے ہیں۔ ہماری 64 سالہ تاریخ کے تمام حکمرانوں کا کسی نہ کسی پیر، بابے، درگاہ، خانقاہ اور روحانی مرکز سے تعلق رہا ہے۔ آئیے! اس کا سرسری سا جائزہ لیتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری جس وقت قید میں تھے، اس وقت انہوں نے مطالعہ شروع کیا۔ انہیں تصوف کی چند کتابیں میسر آئیں۔ ان کتابوں میں بزرگوں کے احوال پڑھ کر انہوں نے کسی سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ کچھ لوگوں نے ان کی ملاقات میانوالی کے نواب جہانگیر ابراہیم المعروف ”ابرا“ سے کرائی۔ ”ابرا“ نے آصف علی زرداری کے سامنے چند پیشگوئیاں کیں جو بعد میں سچ ثابت ہوئیں۔ اس طرح آصف علی زرداری کو ان سے نسبت ہوگئی اور عقیدت مند

بن گئے۔ کہا جاتا ہے جب پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو اس وقت ”ابرا“ وزیراعظم ہاؤس میں آتے تھے اور بعض حساس اجلاسوں میں بھی شریک ہوجاتے تھے۔ اسی طرح 1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو انتخابات کی مہم پر تھیں۔ فیصل آباد میں ان کی ملاقات ایک نجومی سے کرائی گئی۔ نجومی نے زائچہ بنایا اور محترمہ سے کہا آپ یہ انتخابات جیت جائیں گی مگر یہ اقتدار صرف ڈھائی سال تک ہی چل پائے گا اور واقعی ایسا ہی ہوا۔
وہ تصویر بھی بہت سے لوگوں کے پاس محفوظ ہے، جس میں محترمہ پیرتنکہ کے قریب بیٹھی ہوئی ہیں۔ 1996ء میں محترمہ اپنے اقتدار میں دوام کے لئے ”پیرتنکہ“ کی درگاہ پر گئی تھیں۔ پیرتنکہ نے ان کی کمر پر چھڑیاں مارکر انہیں لمبے اقتدار کی بشارت دی تھی۔ میاں نواز شریف کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ بھی فیصل آباد کی ایک روحانی شخصیت سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا نام سالار تھا اور سالار ہمیشہ خاموش رہتے تھے۔ ایک مرتبہ میاں نواز شریف کو یہاں کا دورہ کرایا گیا۔ ”سالار“ نے ان کے لئے خصوصی دعا کرائی۔ میاں صاحب ایک طویل عرصے تک ان کے پاس حاضری دیتے رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے بارے میں جاننے والے بتاتے ہیں کہ ان کا علماء ومشائخ اور دین داروں کے ساتھ بہت گہرا ربط رہتا تھا۔ وہ اکثر ان کے پاس حاضری دیتے تھے۔ ان میں مشہور حکیم فاضل ظہیر تھے یہ لاہور میں رہتے تھے، ان کا تعلق صابریہ سلسلہ سے تھا۔ حکیم فاضل نے انہیں اس وقت اقتدار کے بارے میں بتایا تھا جب ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے17/اگست 1988ء کی صبح حکیم صاحب نے جنرل ضیاء الحق کو بہاولپور کے سفر سے روکنے کے لئے ایوان صدر فون کیا، مگر ان کی صدر سے بات نہ ہوسکی۔ معاملہ چونکہ حساس تھا، اس لئے حکیم صاحب نے ایوان صدر کے کسی دوسرے شخص کو رازدارانہ بتایا مگر وہ بہاولپور چھاؤنی فون کرتے رہے اور صدر ضیاء الحق سے ان کا رابطہ نہ ہوسکا۔ شام کو جنرل ضیاء الحق کے جہاز کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔ اسی طرح جنرل غلام محمد نے اپنا تعلق ”دیوا شریف“ سے رکھا تھا۔ تقسیم سے قبل غلام محمد ان کے مزار پر حاضری دیا کرتے تھے۔ وہاں پر دعائیں کرایا کرتے تھے۔ قارئین! یہ دنیا دارالاسباب ہے اور اللہ مسبب الاسباب۔ ہر کامیاب شخص کو کسی نہ کسی کی دعا لگی ہوتی ہے۔ یہ دنیا کبھی بھی اولیاء اللہ سے خالی نہیں ہوتی۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی ولی، قلندر، روحانیت سے بھرپور شخصیت موجود رہتی ہے۔
کہتے ہیں اگر قسمت یا پہنچی ہوئی شخصیت مہربان ہوجائے تو بگڑی بھی بن جاتی ہے۔ لاریب نگاہِ مرد مومن سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ یہ بھی مسلّمہ حقیقت ہے انسان کے بننے اور بگڑنے،کامیابی اور ناکامی میں ہمیشہ کسی نہ کسی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ان کی رہنمائی سے گمراہ لوگ صراطِ مستقیم پر آجاتے ہیں، ناکام کامیاب ہوجاتے ہیں۔ حیرت تو اس پر ہوتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو درگاہ، خانقاہ اور روحانیت کے مراکز اس وقت یاد آتے ہیں جب وہ مشکل میں ہوں۔ یہ لوگ بزرگوں اور اولیاء اللہ کے قدموں میں اس وقت جاتے ہیں جب الیکشن کی آمد آمد ہوتی ہے۔
اپنے پیشروؤں کی طرح پرویز مشرف کو بھی جب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا ہے تو قبرص میں سلسلہ نقشبندیہ کے صوفی اور گدی نشین کے قدموں میں پہنچ گئے ہیں تاکہ وہ ان کی دعاؤں سے الیکشن میں کم ازکم حصہ ہی لے سکیں حالانکہ یہ وہی پرویز مشرف ہے جس نے طاقت کے نشے میں مست ہوکر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کو سرعام روندا تھا، جس نے قرآن پڑھتی معصوم بچیوں کو کیمیکل سے جلا ڈالا تھا، جس نے علامہ عبدالرشید غازی اور ان کی بوڑھی ماں کو معافی مانگنے پر بھی معافی نہ دی، جس نے قوم کی عفت مآب بیٹیوں کو میراتھن کے نام پر سڑکوں پر سرعام دوڑایا تھا، جس نے پاکستان کی 64 سالہ کشمیر پالیسی پر یوٹرن لیا جس کی بنا پر کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قرار پائے، جس نے اسلامی ملک کا صدر ہوتے ہوئے ڈانس کیا اور طبلے بجائے، جس کے حکم پر اسلامی حدود کو پامال کیا گیا، جس کے حکم پر فحاشی وعریانی کو فروغ دینے کے لئے ”حقوقِ نسواں“ جیسے بل منظور کرائے گئے، جس کی خواہش پر آئین پاکستان کا حلیہ بگاڑا گیا، جس کے حکم پر محب وطن قبائلی رہنما اکبر بگٹی کو راستے سے ہٹایا گیا، جس نے ڈالروں کی خاطر قوم کی بیٹیوں کو فروخت کیا، جس نے راتوں رات فلاحی تنظیموں پر پابندیاں لگائیں، جس نے 74 ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے پر مجبور کیا، جس نے ذاتی عناد اور انا کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ کا تیا پانچہ کیا۔
پرویز مشرف نے دس سال تک طاقت اور غرور کے نشے میں دھت ہوکر وہ سب کچھ کیا جو کسی بھی اسلامی ملک کے صدر کو کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا تھا۔ اب جبکہ ان کی حیثیت استعمال کرنے کے بعد پھینکے گئے ٹشو پیپر کے برابر ہوکر رہ گئی ہے، اپنے وطن سے کوسوں دور جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں تو کف افسوس مل رہے ہیں۔ پرویز مشرف کی آواز درحقیقت ٹوٹی ہوئی بانسری کی وہ آواز ہے جس پر کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ جب وہ ہر طرف سے ناکام ہوگئے ہیں، ان کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہورہی تو روحانیت کے مراکز اور خانقاہوں میں جانے لگے ہیں۔ پیروں اور صوفیوں سے دعائیں کرانے لگے ہیں۔ واہ میرے مولا واہ! تو کیسوں کیسوں کا غرور خاک میں ملاتا ہے، تو کیسے کیسے حالات بدلتا ہے، تو کیسے شاہوں کو گدا بناتا ہے۔ اس کا ایک اور قریبی مشاہدہ بھی ہم نے اپنی زندگیوں میں کرلیا۔