آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک برطانوی سفارت کار نے میرے انگریزی کے کالموں پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ سوال پوچھا کہ آپ کے پاس سوالیہ نشانوں کا کتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ ان کا اشارہ میری تحریر میں سوالوں کی گردش یا تکرار کی جانب تھا۔ اکثر تو کالم کا دروازہ ہی کسی سوال سے کھلتا تھا۔ میں نے جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ ان کا اعتراض واقعی مناسب تھا۔

تب میں نے سوچا کہ میں نے یہ روش کیسے اپنائی۔ آزاد اور بالغ معاشروں میں لکھنے والے اپنی بات بلا جھجک پورے اعتماد سے کہتے ہیں۔ ہم کیونکہ تذبذب اور احتیاط کے مارے ہوئے لوگ ہیں تو سیدھی بات کہنے کی ہمیں عادت نہیں ہے۔ ہم یہ فن سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ بات جس کا سارے فسانے میں کوئی ذکر نہ ہو، وہ کہہ بھی دی جائے۔ اسی لئے شاعروں سے پوچھتے ہیں کہ کتنی بات کہنی ہے اور کتنی چھپانی ہے۔ ویسے سوالوں کی ضرورت اور ان کے استعمال کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ علم کے میدان میں سوال پوچھنا گویا قدم بڑھانے کے مترادف ہے۔ فلسفے کی تو بنیاد ہی وہ سوال ہیں جو زندگی اور کائنات کے اسرار و رموز جاننے کی کوشش بن جاتے ہیں۔

پھر ایسے بھی سوال ہیں جو کسی جواب کی توقع یا امکان کے بغیر پوچھے جاتے ہیں۔ آپ بتائیے، ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے؟ گفتگو میں سوال پوچھنے کی اہمیت کی بات ہو تو سقراط کی یاد بھی آتی ہے۔ ان کا تو تدریس کا طریقہ ہی یہ تھا کہ وہ انتہائی پیچیدہ خیالات اور مسائل کی تشریح کے لئے انتہائی سادہ سوال پوچھا کرتے تھے اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ صحیح سوال پوچھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ کبھی کبھی تو سوال کسی سوچ، کسی جذبے کا مثبت اظہار بن جاتا ہے۔ فیضؔ نے بھی تو آپ سے پوچھا کہ ’’اب تم ہی کہو کیا کرنا ہے... اب کیسے پار اترنا ہے‘‘۔

یہ سوال بجا طور پر اٹھایا جا سکتا ہے کہ میں سوالوں اور سوالیہ نشانوں سے کیوں الجھ رہا ہوں جبکہ میرا طریقہ یہ ہے کہ میرے ہر کالم کا کسی تازہ واقعہ، بیان یا تجربے سے کوئی تعلق ضرور ہوتا ہے۔ سو ہوا یہ کہ بدھ کی دوپہر سے پہلے میری نظر ٹیلی وژن کی اسکرین پر پڑی تو یہ ٹکر چل رہا تھا ’’ کیا ہم غیر مہذب معاشرے میں رہ رہے ہیں؟: چیف جسٹس‘‘ اس خبر کا تعلق شاید کراچی میں زمین کے قبضے کے کسی مقدمے سے تھا

لیکن میں تو صرف اس سوال پر اٹک گیا، چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے یہ پوچھا کہ کیا ہم غیر مہذب معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اسی نوعیت کے سوال ہی تو میں اپنے کالموں میں اٹھاتا رہا ہوں۔ اس برطانوی سفارت کار کا مطالبہ شاید یہ ہوتا ہےکہ بات گھما پھرا کر کیوں کرتے ہو۔ صاف بات کرو۔ میرا جواب یہ تھا کہ یہ سوال اور اس قسم کے دوسرے سوال ہمیں اپنے آپ سے کرنا ہیں۔ یہ سوچنے اور سمجھنے کے اس عمل کا مسئلہ ہے جس سے ہم بڑی حد تک بے بہرہ ہیں۔ جن دکھوں کا میں بار بار اظہار کرتا رہتا ہوں ان میں یہ دکھ بھی شامل ہے کہ ہمارے ملک میں بنیادی مسائل کے بارے میں سنجیدہ اور منطقی گفتگو نہیں ہو پاتی۔ ایک مجبوری تو یہ ہے کہ لوگوں میں برداشت کی بہت کمی ہے۔ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر جس انتہا پسندی نے عوامی ذہن کو اپنے قابو میں کر رکھا ہے، اس نے بڑے سوال اٹھانے اور آزادانہ گفتگو کرنے کے امکانات کو بہت کم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اقتدار سے منسلک کچھ خیالات ایسے ہیں جو مکالمے اور تنقید کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اب یہ تاکید بھی ہے کہ میڈیا اپنے ملک کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے مثبت انداز اختیار کرے۔ اب اس کا مطلب کیا ہے، میں پوری طرح سمجھ نہیں پا رہا۔

میرا یہ کالم ہفتے کے دن شائع ہوتا ہے۔ یعنی آج جب آپ یہ لفظ پڑھ رہے ہیں تو 15دسمبر کی تاریخ ہے۔ یہ دن گزرے گا تو ایک لمبی رات کے بعد ایک نئے دن کا سورج طلوع ہو گا، کیا یہ آپ کو بتانے کی ضرورت ہے کہ اس دن کی یعنی کل کی تاریخ کیا ہے؟ اس آنے والے دن آپ اپنے آپ سے کئی سوال پوچھ سکتےہیں۔ 1971کے حوالے سے اور ہاں 2014کے حوالے سے بھی۔

یہ کیسا اتفاق ہے کہ دسمبر کے اس بدنصیب دن ہمیں ایک اور ناقابل برداشت زخم سہنا پڑا۔ دیکھئے وقت گزرتا جا رہا ہے اور ان سوالوں کی چبھن کم نہیں ہو رہی، جو اپنے جواب کی تلاش میں ہمارے ذہن میں سرگرداں ہیں۔ یہ تاریخ ہر سال آتی ہے اور گزر جاتی ہے۔ ویسے دسمبر کے مہینے کی ایک اور یاد بھی ہے جو بہت دل دکھاتی ہے۔ اس دن میں اپنی بیٹی کے گھر جنوبی کیلی فورنیا میں تھا جب واشنگٹن سے عزیز دوست نیئر زیدی کا فون آیا اور میری بیٹی پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی مجھے جگانے آئی۔ ’’ابو۔۔ بے نظیر۔۔ آدھی دنیا پرے وہاں صبح کا وقت تھا۔ یہ میں اس لئے بتا رہا ہوں کہ تب میں اس اجتماعی سوگ میں شریک نہیں تھا، جس نے پاکستان اور خاص طور پر سندھ کی فضا کو نڈھال کر دیا تھا۔

ذاتی طور پر جو کچھ برداشت کرنا پڑا وہ ایک الگ بات ہے۔ یہ بھی کتنا بڑا سانحہ تھا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے اور پھر وہی بات کہ سوال بہت ہیں، جواب کہیں نہیں ہیں۔ جن سانحوں کی جانب میرا اشارہ ہے ان میں سے ایک اور کا ذکر اس لئے مناسب ہےکہ منگل کی شام کارگل کے موضوع پر لکھی جانے والی نسیم زہرہ کی معرکہ آرا کتاب کی کراچی میں رونمائی تھی۔ نسیم زہرہ نے اس کتاب کی تحقیق میں کوئی 15سال لگائے اور یہ شاید پہلی بار ہے کہ ہم نے ایک قومی المیے کو اتنی سچائی کے ساتھ بے نقاب ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ گویا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ سوالوں کے اس جنگل میں اب ہمارے پاس چند جواب بھی ہیں۔ پھر بھی، وہ سوال ایک پہاڑ بن کر سامنے کھڑا ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ سیکھتے کیوں نہیں؟ کتاب کی رونمائی کی تقریب میں یہ بات بار بار کہی گئی۔ اس موقع پر مجھے بھی ایک چھوٹی سی تقریر کرنے کا موقع ملا۔ میرا سوال یہ تھا کہ اتنے سانحے ہم نے برداشت کئے ہیں، اتنی بار ہم نے گہرے زخم کھائے ہیں لیکن حکمراں خیالات میں تبدیلی پیدا کیوں نہیں ہوتی؟ 1971کا غم ہم نے برداشت تو کر لیا مگر 1971کو سمجھنے کی کوئی منظم کاوش ہم نے کیوں نہ کی؟ درسی کتابوں میں اور ہمارے اکابرین کی یادداشتوں میں 1971گرم ہوا کے ایک جھونکے کی طرح گزر جاتا ہے۔

کسی میں اتنی جرأت نہیں کہ ٹھہر کر، آنکھیں کھول کر تاریخ کے اتنے اہم سانحے کے مضمرات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ یہ تو دور کی بات ہے۔ اب تو پاکستان کا اس ملک سے موازنہ بھی کہ جو کبھی ہمارا تھا، بہت مشکل ہے۔ آخر کیوں ؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں