آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ لوگ بے انتہاVisionaryہوتے ہیں۔ صاحب بصیرت ہوتے ہیں۔ آنے والے وقت میں بہت دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ یہ خالق ومالک کی دین ہے۔ کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے کراچی میں رہنے بسنے والے پارسی اور کرسچن، خاص طور پر گوا اور بمبئی سے آکر کراچی میں بسنے والے کرسچن صاحب بصیرت تھے۔Futuristicتھے۔ مستقبل کا تجزیہ کرسکتے تھے اور اندازہ لگاسکتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد ہندو اور سکھوں کے ساتھ پارسی اور کرسچن بڑی تعداد میں کراچی چھوڑ کر چلے گئے ۔ کراچی کے ہم پرانے باسیوں سے اگر کوئی پوچھے کہ تقسیم ہند کے بعد پارسی اور کرسچن کراچی چھوڑ کر کیوں چلے گئے تھے؟ہم ایک سادہ ساجواب دے سکتے ہیں۔ آج کے شہر کراچی اور تقسیم ہند سے پہلے والے شہر کراچی میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ آج کا شہر کراچی قطعی طور پر وہ شہر کراچی نہیں ہے، جس میں ہم انیس سو سینتالیس1947سے پہلے رہتے تھے۔ آج جو حال ہمارے پرانے شہر کراچی کا ہے، دوررس بصیرت رکھنے والے پارسی اور عیسائیوں نے تقسیم ہند کے وقت دیکھ لیا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ پچاس، ساٹھ ،ستر برس بعد کراچی کا کیا حشر ہوگا۔ آج کے تقسیم ہند سے پہلے والے بمبئی، کولکتہ، احمد آباد، بنارس، سورت، نینی تال، شملہ، مدراس، شہر ویسے کے ویسے ہیں جیسے تقسیم ہند سے پہلے تھے۔ پرانے شہروں کے اطراف بے انتہا توسیع ہوئی ہے، مگر پرانے شہروں کی رعنائی اور شان وشوکت وہی ہے جو انیس سو سینتالیس سے پہلے تھی ۔ ہندوستان کو رہنے دیجئے۔ ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھتے ہیں۔ لاہور کا شہرآج بھی اپنی انہی رعنائیوں اور تمکنت کے ساتھ رواں دواں ہے،جیسا کہ انیس سوسینتالیس سے پہلے ہوتا تھا ۔ وہی انارکلی ہے، شاہ عالمی ہے، لکشمی چوک ہے، بیڈن روڈ ہے، ٹولنٹن مارکیٹ ہے، اندرون شہر کی دیدہ وری ہے۔توسیع، لاہور کے اطراف ہوئی ہے۔ پرانے تاریخی شہر لاہور سے کسی نے کسی قسم کی چھیڑچھاڑ نہیں کی۔ حسن ابدال اورننکانہ صاحب ویسے کے ویسے ہیں۔ منٹگمری کانام ساہیوال ہوا ہے، مگر ستر برس پہلے والا منٹگمری ویسے کا ویسا ہے۔ توسیع شہر کے اطراف ہوئی ہے۔ لائل پورکا شہر انگریز نے بڑی پلاننگ کے ساتھ بنوایا تھا ، فیصل آباد بن جانے کے بعد بھی لائل پور شہر کی خوبصورت عمارتوں کو ملیا میٹ نہیں کیا گیا، گھنٹہ گھر کا گھڑیال کسی نے نہیں چرایا ۔ یہی شاہانہ شان پشاور کی ہے۔ وہی گلیاں، وہی بازار، وہی چوراہے۔ اپنے شاندار ماضی سے محروم ہوئے ہیں صرف سندھ کے شہر۔ کراچی شہر کی تقریباً تمام دیدہ زیب، خوبصورت، فن تعمیر کی عالیشان عمارتیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ کراچی کے اصلی اور قدیم میوزیم کی خوبصورت عمارت میں اب عدالت لگتی ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہونے والے شہر کراچی میں ڈھنگ کا میوزیم نہیں ہے جو کہ آپ فخریہ کسی غیر ملکی مہمان کو دکھا سکیں۔ لاہور اور پشاور کے میوزیم آج بھی اپنی شان برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ٹیکسلا کا میوزیم آج بھی اتنا ہی باوقار ہے جتنا کہ تقسیم ہند سے پہلے تھا ۔ تقسیم ہند کے بعد کسی صوبے کے تاریخی شہر اس قدر بیدردی سے نہیں اجڑے جتنا کہ صوبہ سندھ کے شہر ۔حیدرآباد قطعی وہ حیدرآباد نہیں ہے جوکہ انیس سوسینتالیس سے پہلے ہوا کرتا تھا ۔ سکھر اور روہڑی اپنے شاندار ماضی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ روہڑی اور سکھر کے درمیان دریائے سندھ گزرتا ہے۔ دونوں شہر ایک دوسرے کے سامنے آباد ہیں۔ ایسے دوشہر اگر یورپ میں ہوتے تو دونوں شہروں کے درمیاں کیبل کار اور فیری سروس فعال ہوتی دریائے سندھ کے دونوں کنارے سیاحوں کے لیے کشش رکھتے۔ شکار پور جو کہ تقسیم ہند سے پہلے بڑی اہمیت کا حامل تھا ، تقریباً ویران ہو چکا ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی پہلی برانچ شکارپور میں کھولی گئی تھی۔ تب شکارپور ریونیو کمانے میں کراچی سے آگے تھا۔اس کے برسوں بعد انگریز نے کراچی میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی برانچ ، خاص طور پر بنوائی گئی ایک عمارت میں کھولی تھی ۔ اس کا افتتاح مہاتما گاندھی نے کیا تھا ۔ سن تھا ، شاید انیس سوبائیس۔ اس عمارت میں اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ذیلی دفتر ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے تقسیم ہند اور پاکستان کے حوالے سے کتاب اور مضامین لکھے تھے۔ ان کی تحریروں میں حیرت انگیزپیش گوئیاں ہیں جوکہ تقریباً صحیح ثابت ہوئی ہیں۔ مثلاً مالی طور پر ہم پریشان حال رہیں گے۔ ہم کئی ممالک اور اداروں کے مقروض ہونگے۔ پڑوسیوں سے ہمارے تعلقات اچھے نہیں رہیں گے۔ ہم اندرونی خلفشار کا شکار رہیں گے۔ ہماری سول حکومتیں ناکام ہوتی رہیں گی۔ ان پیش گوئیوں میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیاں کھنچائو اور پاکستان کے دولخت ہونے کی باتیں کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں میری اپنی کچھ یادیں ہیں جوکہ میں آپ سے شیئر کرناچاہتا ہوں۔ آپ کوسنانا چاہتا ہوں، آج نہیں ، آنے والے منگل کے روز۔ وعدہ نہیں کرتا۔ کیا پتہ پرندہ کب اڑ جائے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں