آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍رجب المرجب 1440ھ 26؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی ٹیم حال ہی میں اپنے ہوم گرائونڈز(عرب امارات) میں نیوزی لینڈ سے سیریز ہاری،مجموعی طور پر آسٹریلیا سمیت 5 میچ کھیلے،2جیتے اور 2 ہارے،ایسے میں اس سرزمین پر جہاں ٹو ڈبلیوز اور انضمام الحق،محمد یوسف،یونس خان اور مصباح الحق جیسے بیٹسمینوں کی موجودگی میں کبھی نہیں جیت سکی تو ایسے میں اب کی بار ٹیم کیا گل کھلائے گی،جنوبی افریقی سر زمین پر 1995 سے اب تک 5 سیریز کھیلنے والی گرین کیپ ٹیم 4 میں ناکام رہی ،20 سال قبل کھیلی گئی 1998 کی 3 میچوں کی سیریز 1-1 سے ڈرا کھیل سکی ،جیتنا تو اس سے پہلے بھی ممکن نہ ہوا،اسکے بعد گزشتہ 2 عشروں میں تینوں سیریز ہار دیں۔پاکستان کی ناکامی کا اندازا اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ٹیم پروٹیز سر زمین پر کھیلے گئے 12 میچوں میں سے صرف 2 جیت سکی اور محض ایک میچ ڈرا کھیل سکی،9 ناکامیاں مقدر بنیں ،ویسے تو مجموعی باہمی مقابلوں میں بھی یہی حال ہے۔دونوں ممالک میں کھیلے گئے 23 میچوں میں سے پاکستان صرف اور صرف 4 میں فتحیاب ہوا ،12 ہارا اور 7 ڈار کھیلے،تاریخ میں اب تک کھیلی گئی مجموعی 10 باہمی سیریز میں پاکستان اکلوتی ٹیسٹ سیریز 2003 میں ہوم گرائونڈ میں 0-1 سے جیتا،میچ بھی 2 تھے۔جنوبی افریقا نے پاکستانی سر زمین پر 2 سیریز جیت رکھی ہیں ،عرب امارات میں کھیلی گئی دونوں سیریز ڈرا رہی ہیں ۔اس طرح 10 سیریز کا مجموعی پوسٹ مارٹم یوں بنتا ہے کہ پاکستان نے واحد سیریز اپنے نام کی،3 ڈرا کھیلیں جبکہ جنوبی افریقا 6 میں کامیاب رہا،کسی بھی ٹیسٹ ملک کے خلاف باہمی مقابلوں کا پاکستان کا یہ سب سے مایوس کن ریکارڈ ہے تو ایسے میں آنے والی سیریز کا متوقع نتیجہ بھی سامنے ہے۔جنوبی افریقی مقامات میں سے پاکستان پہلا ٹیسٹ سینچورین میں 26 دسمبر سے کھیل رہا ہے،یہاں پاکستان کبھی نہیں جیتا،اب تک کے دونوں میچ ہارے،یہاں ہائی اسکور 313 اور کم 156 رنز رہا،کیپ ٹائون میں قومی ٹیم تینوں میچ ہاری ہوئی ہے،338 اور 157 کی اننگز رہیں اور جوہانسبرگ میں 3 میچوں میں سے 2 ہارے،ایک ڈرا کھیلا،329 اور کم اسکور صرف 49 رہا،گویا اس سیریز میں قومی ٹیم جن 3 مقامات پر ایکشن میں ہوگی ،وہاں کبھی سنگل ٹیسٹ بھی نہیں جیتا جاسکا،پاکستان کی 2 کامیابیاں ڈربن اور پورٹ الزبتھ میں ہیں،جہاں اس سیریز میں کوئی میچ نہیں ۔پاکستان جنوبی افریقی سر زمین پر 2007 سے مسلسل 4 ٹیسٹ ہار چکا ہےجنوری 2007 میں پورٹ الزبتھ میں 5 وکٹ کی کامیابی ہے اور یا پھر فروری 98 میں ڈربن میں 29 رنز کی جیت،دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان فروری 1998 کے بعد اس سر زمین پر ٹیسٹ ڈرا بھی نہیں کھیل سکا۔پاکستانی کپتان سرفراز احمد کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں تو کوچ مکی آرتھر کو اس سائیڈ پر یقین ہے کہ یہ جیت سکتی ہے،وہ کہتے ہیں کہ بیٹسمین اگر 350 سے 400 رنز کرلیں تو ہمارے بولرز میچ جتوادیں گے،مسئلہ تو یہی ہے کہ 350 سے 400 رنز کون کرے ،افریقی سر زمین پر کھیلے گئے 12 میچوں کی اب تک کی 23 اننگز کا مکمل خلاصہ یہ ہے کہ ٹیم آج تک 350 رنز نہیں کرسکی،پاکستانی بڑی اننگ 338 سے زیادہ کی نہیں ہے،جنوبی افریقا کیپ ٹائون میں پاکستان کے خلاف 620 رنز کرچکا ہے جوہانسبرگ میں 460 اور سینچورین میں 417 رنز پاکستان کے خلاف بن چکے ہیں ۔ جیک کیلس19 میچوں میں پاکستان کے خلاف 1564 رنز بناچکے ،پاکستان کا کوئی بیٹسمین 1000 رنز مکمل نہ کرسکا،جنوبی افریقا کے خلاف یونس خان کا نمبر فہرست میں990 رنز کے ساتھ چوتھا ہے۔اسد شفیق 6 میچز میں 456 اور اظہر علی 7 میچز میں 422 رنز بناکر نمایاں ہیں۔ڈی ویلیئرز کی ناقابل شکست 278 اور خرم منظور کی 146 کی اننگ بڑی انفرادی کارکردگی ہے،بائولنگ میں ڈیل اسٹین 10 میچوں میں 47 شکار کے ساتھ آگے،8 رنز کے عوض 6 وکٹ کی انفرادی اور میچ میں 60 رنز کے عوض 11 وکٹ کی کارکردگی کے ساتھ اب بھی سر پر ہونگے۔انفرادی و اجتماعی میدان میں پاکستان کی تاریخ کا کوئی مقابلہ نہیں ،2013 کی آخری سیریز میں جنوبی افریقن میدانوں میں بیٹنگ لائن فلاپ رہی،ٹیم کو تینوں میچوں میں شکست ہوئی،اس وقت اسد شفیق نے 33 کی اوسط سے 199 اور اظہر نے 22 کی اوسط سے 133 رنز بنائے ،کیپ ٹائون کے دوسرے ٹیسٹ میں اسد نے اگرچہ سنچری کی ،تاہم 4 وکٹ کی ناکامی میں وہ دب گئی،مذکورہ پلیئرز ایک عرصے سے کھیل رہے ہیں،کپتان اور کوچ اعتماد بھی کرتے ہیں مگر انہوں نے کبھی ذمہ دارانہ اور فاتحانہ رول پلے نہیں کیا،اظہر علی کی ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈے نائٹ ٹیسٹ کی ٹرپل سنچری دوسری اننگ میں فلاپ ہونے کے بعد شکست میں گم ہونے لگی تھی کہ پاکستان بمشکل جیت گیا تھا تو ایسے میں ان کھلاڑیوں سے پروٹیز میدانوں میں میچ وننگ اننگ کی امید رکھنا ذرا مشکل ہے۔فاف ڈو پلیسی الیون کے خلاف ٹف ٹائم دینا کارنامہ ہوگا،سیریز ڈرا کھیل جانا بڑا اور جیت جانا عظیم ترین اعزاز ہوگا ۔پاکستان کرکٹ بورڈ ان دنوں ملتان میں ٹی20 کپ کا انعقاد کر رہا ہے،بڑے اسٹارز کی غیر حاضری اور ایونٹ کے حوالے سے چند وضاحت طلب امور بھی ہیں جن کا ذکر پھر سہی،جب تک ڈومیسٹک کرکٹ میں لانگ فارمیٹ کی کرکٹ درست نہیں ہوگی اس وقت تک ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے پلیئرز کے حالات بہتر ہونا مشکل ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں