آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیمی ادارے جو کبھی ہمارے بچوں کی تعلیم و تربیت کے وجہ سے جانے جاتے تھے، آج ان میں پڑھنے والے قوم کے بچوں کو نشہ کی صورت میں موت بیچی جا رہی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان تعلیمی اداروں میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اگر کوئی نشہ سے بچ جائے تو اُسے اخلاقی طور پر تباہ کر دیا جاتا ہے۔ آج (بروز بدھ 19دسمبر 2018) دو خبریں شائع ہوئیں جو تعلیمی اداروں کے متعلق تھیں اور جنہیں پڑھ کے ایک بار پھر محسوس ہوا کہ ہمارے بچوں کو کس قدر سنگین خطرات کا سامنا، اُس ماحول اور اُن اداروں سے ہے جہاں ہم اُن کے روشن مستقبل کے لیے اُنہیں پڑھنے اور کردار سازی کے لیے بھیجتے ہیں۔ ایک خبر وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کے حوالے سے پڑھنے کو ملی۔ اسلام آباد میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے انکشاف کیا کہ ایک سروے کے مطابق اسلام آباد کے بڑے تعلیمی اداروں میں 75فیصد لڑکیاں اور 45فیصد لڑکے ایک خطرناک نشہ‘ آئس کرسٹل ہیروئن استعمال کرتے ہیں۔یعنی ان بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والی ہر چار میں سے تین طالبات اور تقریباً نصف نوجوان لڑکے ایسا نشہ کرتے ہیں جو کسی بھی فرد کی زندگی تباہ کرنے کے لیے کافی ہے اور جس کے سبب اب تک لاکھوں افراد اپنی جان کھو بیٹھے ہیں۔ شہریار آفریدی نے یہ بھی بتایا کہ بڑے بڑے اسکولوں میں آئس ہیروئن بک رہی ہے، منشیات کینڈی کے ریپر میں لپیٹ کر دی جاتی ہیں۔ اگرچہ وزیر مملکت نے اس بات کا تہیہ ظاہر کیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق حکومت ڈرگ مافیا کو کچل دے گی لیکن یہ صورتحال پورے معاشرہ کے لیے ایک ایسی وارننگ ہے جسے اگر Ignore کیا گیا تو کسی کا بیٹا، بیٹی یا بھائی، بہن نشہ سے نہ بچ پائے گا کیونکہ یہ وہ نشہ ہے جو نہ صرف زندگی تباہ کرتا ہے بلکہ موت تک پیچھا نہیں چھوڑتا۔

دوسری خبر کے مطابق سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں تعلیمی اداروں کے متعلق اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو اخلاقیات سکھانے اور اُن کی کردار سازی کرنے کے برعکس اُنہیں ڈانس، فیشن اور مغربی ثقافت سکھائی جا رہی ہے جس کہ وجہ سے طرح طرح کی معاشرتی خرابیاں پیدا جنم لیتی ہیں اور ہمارے بچوں کے اخلاق اور اُن کے کردار تباہ ہو رہے ہیں۔ سینیٹ کمیٹی نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں اخلاقیات اور کردار سازی کو تعلیم کے ساتھ لازم جز کے طور پر شامل کیا جائے اور ایسا ماحول پیدا نہ جائے کہ ہمارے بچے اپنی معاشرتی اور دینی اقدار کو بھلا کے مغربی کلچر، ڈانس اور فیشن ہی کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیں۔ اگرچہ ہمارے درمیان موجود ایک طبقہ مغربی کلچر، فیشن اور ڈانس کو بُرا نہیں سمجھتا لیکن کسے نہیں معلوم کہ یہی وہ طور طریقے ہیں جو نہ صرف اخلاقی طور پر ہماری نئی نسل کو تباہ و برباد کر رہے ہیں بلکہ کئی بچوں کو منشیات کی طرف بھی دھکیل رہے ہیں۔

میں نے ان موضوعات پر پہلے بھی کئی بار لکھا اور اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں فیشن، ڈانس، نوجوان لڑکے لڑکیوں کا آپس میں ملاپ وغیرہ وہ چیزیں ہیں جو بچوں کو اصل مقصد یعنی پڑھائی لکھائی سے دور کرتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ جب یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مخلوط تعلیمی نظام کو ختم کیا جائے، جب کسی تعلیمی ادارہ کی انتظامیہ پڑھائی پر زور دیتی ہے اور فیشن، ڈانس اور لڑکے لڑکیوں کے بلاوجہ ملاپ کو روکتی ہے، جب طلباء و طالبات کو مہذب لباس پہننے کی تاکید کی جاتی ہے، جب کوئی حکومت طالبات کو سر ڈھانپنے کے ترغیب دیتی ہے تو ایک مخصوص مغرب زدہ طبقہ شور مچاتا اور ایسے اقدامات کو ترقی کے خلاف گردانتا ہے۔ ہمارا میڈیا اس طبقہ کی ہاں میں ہاں ملا کر تربیت اور کردار سازی کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اس طبقہ اور میڈیا کے ڈر سے حکومت اور پارلیمنٹ بھی کچھ نہیں کرتے جبکہ عام لوگ بھی میڈیا کے پروپیگنڈے سے مرعوب ہو کر فیشن، ڈانس اور مرد و عورت کے ملاپ کو ہی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ نتیجتاً ہم ایک ایسا معاشرہ بنا رہے ہیں جس میں ہماری نوجوان نسل کو تعلیم کے نام پر تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ جہالت کے زمانے میں لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے لیکن آج جو کچھ ہمارے تعلیمی اداروں میں ہو رہا ہے، وہ پورے معاشرہ کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں