آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پی پی پی کی قیادت نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق جارحانہ رویہ اختیار کرلیا ہے تو دوسری طرف نیب کی کارروائیاں بھی تیز ہوگئی ہیں جسے پی پی پی کی قیادت اور رہنما یک طرفہ انتقامی کارروائیاں قرار دے رہے ہیں گزشتہ ہفتے بے نامی بنک اکاؤنٹس سے متعلق تحقیقات کے لیے سابق صدرآصف علی زرداری کے دست راست انورمجید کی رہائش گاہ پر جےآئی ٹی نے چھاپہ مارا اور اہم شواہد تحویل میں لیے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے ہمراہ ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور انسپکٹرز بھی تھے، جبکہ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے حکام بھی ان کی معاونت کے لیے موجودتھے ذرائع کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران رینجرز حکام سیکیورٹی پر موجود رہے اور ایف آئی اے کے اہلکار دوگھنٹے سے زائد انورمجید کی رہائش گاہ پر موجود رہنے کے بعد گئے۔ ذرائع کا کہنا کہ تحقیقاتی ٹیم اپنے ساتھ اہم دستاویزات اور کمپیوٹرز(بشمول لیپ ٹاپ) بھی لے گئی۔ فارنسک جانچ کے بعد ملنے والے شواہد کو رپورٹ کا حصہ بناکر سپریم کورٹ کوآگاہ کیا جائے گا۔یہی نہیں بلکہ نیب ایگزیکٹوبورڈ کے اجلاس میں پی پی پی سندھ کے صدرنثارکھوڑو اور پی پی پی کے رہنما شرجیل انعام میمن سمیت 16 انکوائریوں کی منظوری دی گئی ہے جبکہ پی پی پی سے تعلق رکھنے والے بعض دیگر سابق اور موجودہ وزراء کے خلاف بھی جلد انکوائریاں شروع ہونے کاامکان ہے ان اقدامات کو پی پی پی سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے ذرائع کے مطابق پی پی پی کے رہنماؤں نے ان اقدامات کا جارحانہ انداز میں سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ بھی کہاجارہا ہے کہ اگر پی پی پی کی قیادت کو گرفتار کیا گیا تو کے پی کے، پنجاب میں بلاول بھٹو، اور قمرزمان کائرہ جبکہ سندھ میں خورشید شاہ اور نفیسہ شاہ کارکنوں کو متحرک کریں گے اور احتجاجی سیاست کریں گے جس کے لیے مسلم لیگ(ن) سمیت جے یو آئی، اے این پی اوردیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے کئے جائیں گے آصف علی زرداری کے سندھ میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری دوروں کو اس تناظر میں دیکھاجارہا ہے کہ آصف علی زرداری جو کچھ عرصہ قبل انتہائی محتاط بیانات دے رہے تھے اب جارحانہ موڈ میں نظرآتے ہیں ٹنڈوالہ یار اور حیدرآباد میں جلسہ سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ قبل ازوقت الیکشن کا اشارہ ملا ہے ظالم حکمرانوں سے جلد عوام کی جان چھڑائیں گے، صاف اور شفاف الیکشن ہوتے تو آج عمران خان وزیراعظم نہ ہوتے، جب بھی سیاسی پودالگتا ہے تواسے کاٹ دیاجاتا ہے، ہر بار عجیب کہانی لکھی جاتی ہے، پیپلزپارٹی نے ہردور میں ڈکٹیٹر کامقابلہ کیا ہے مجھے گرفتارکرناہے تو کرلیں لیکن غریبوں کی دکانیں اور گھر نہ گرائیں، جیل دوسراگھر ہے گرفتار ہواتو کیا ہوگا،ان کو غلط فہمی ہے کہ ہم خوف میں مبتلا ہیں ہمیں ان سے صرف غیرجانبداری لینی ہے باقی پاور ہم خودلیں گے ان کوکھیلنا آتا ہی نہیں اسی لیے انہیں انڈر16 کھلاڑی سمجھتاہوں جلد ملک میں پی پی پی کی حکومت بنے گی تجزیہ نگاروں کے مطابق مذکورہ جلسہ میں انہوں نے بعض اداروں سمت بیورو کریسی کو بھی یہ پیغام دیا کہ وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہ بنے کیونکہ پی پی پی کی حکومت جلد آنے والی ہے۔تودوسری جانب انہوں نے حکومت کوواضح پیغام دیا کہ پی پی پی مڈٹرم الیکشن کامطالبہ کرسکتی ہے۔ اس سے قبل حیدرآباد کے جلسے میں انہوں نے بین السطور اداروں کو مخاطب اور ان پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ جس کی نوکری تین سال ہواسے قوم کے فیصلے کرنے کا کوئی حق نہیں، ہر شخص اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے۔ میں اسلام آباد کے گونگے بہرے لوگوں سے مخاطب ہوں، فیصلے کرنے کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے، مستقبل صرف سیاستدانوں کا ہے کبھی آپ کہاں پہنچ جاتے ہیں اور کبھی کہاں پہنچ جاتے ہیں آپ کا واسطہ کیا ہے؟ 9 لاکھ کیسز پھنسے ہوئے انہیں حلکریں جس کی آئینی ذمہ داری ہے وہ اسے ادا کرے ملک آگے جاتا ہے پھر ایک لکڑی اٹھاتاہے تو ملک 15 سال پیچھے چلاجاتا ہے۔ انہوں نے ایک ادارے کو بلواسطہ مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر انہیں عقل نہیں تو پھر انہیں کیوں لے کر آئے ہیں اس سے بہتر تھا کہ آپ الیکشن ہونے دیتے جو بھی پارٹیاں آتی وہ لڑجھگڑ کر قومی حکومت بنالیتی پی پی پی کی قیادت اور ان کے رہنماؤں کے لہجے میں تلخی آتی جارہی ہے بعض حلقے کہتے ہیں کہ آصف زرداری ایک بار پھر سندھ کا رڈ کھیلنا چاہتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کا کارڈ کھیلیں گے دوسری جانب کرپشن کے الزامات میں پکڑدھکڑ بھی عروج پر ہے حکومتی وزراء کی بھی یہ خواہش ہے کہ آصف زرداری اسی ماہ سلاخوں کے پیچھے ہو جس کا اظہار وزیراطلاعات فواد چوہدری سمت سندھ میں اپوزیشن لیڈر فردو س شمیم نقوی بابنگ دہل کرچکے ہیںحکومت اور پی پی پی کے درمیان نفسیاتی جنگ جاری ہے اور یہ جنگ آتے دنوں میں مزید زور پکڑ تی نظرآرہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اب سیاسی مصلحت سے کام لیتی ہے یا پھر آنے والے دنوں میں اپوزیشن کا تیسرا محاظ کھولتی ہے بعض حلقوں کے مطابق پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) میں واضح فرق یہ ہے کہ پی پی پی کے پاس اب بھی نظریاتی کارکن موجود ہے جو احتجاج کی راہ اختیار کرسکتے ہیں ادھر کراچی سمت سندھ بھر میں گیس کے مسئلہ گزشتہ ہفتہ انتہائی سنگین صورتحال اختیار کرگیا گو کہ یہ مسئلہ حل ہوگیا ہے لیکن مستقبل میں بھی ایسے مسائل کی روک تھام کیلئے مستقل بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوگے ۔ کراچی سمت سندھ بھر میں گیس کی بندش کے خلاف مظاہرے کئے گئے صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت نے اس ضمن میں ایک دوسرے پہ الزامات عائد کئے عوام اس دوران ٹرانسپورٹ سے محروم رہے جبکہ صنعتیں گیس نہ ملنے کے سبب بند رہی عوام کو ٹرانسپورٹ کے حصول میں دشواری کا سامنا کرناپڑا سڑکوں پر ٹرانسپورٹ ناپید رہی کراچی کے عوام بجلی اور پانی کے ستائے ہوئے ہیں اور اب گیس کی بندش تیسرامسئلہ بن کرسامنے آئی ہے جماعت اسلامی، جے یو آئی، پی ٹی آئی نے گیس بندش کے خلاف مظاہرے کئے جبکہ پی پی پی نے گیس بندش کے خلاف سندھ بھر میں مظاہرے کئے اور گیس بندش کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹھہرایا وزیراعلیٰ سندھ نے بھی اس ضمن میں گیس بندش کا ذمہ دار وفاقی حکومت کوٹھہرایا پی پی پی نے کراچی پریس کلب پر بڑا مظاہرہ کیا۔جس میں وفاقی حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا اور نعرے لگائے گئے مظاہرین سے خطاب میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے کہاکہ تبدیلی کے دعویدار حکومت کے لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کردیئے ہیں اٹھارویں ترمیم آصف زرداری نے منظور کرائی تھی جس کی سزا اب سندھ کو دی جارہی ہے مقررین نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے وزراء عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے نیب کے ترجمان بن کر سیاسی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں مظاہرے سے وزیربلدیات سعیدغنی، مرتضی بلوچ، لیاقت آسکانی، جاویدناگوری اورذوالفقار ناگوری نے بھی خطاب کیا۔ قبل از وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور اور وفاقی وزیر برائے بجلی عمرایوب خان نے وزیراعلیٰ سندھ سے الگ الگ ملاقاتیں کی اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ صوبے میں گیس بندش سے ہرطرف بے روزگاری ہورہی ہے، صنعتی یونٹ بند اور ہزاروں مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔سندھ میں بڑھتے مسائل کے ساتھ ساتھ عوامی غصہ بڑھتا جارہا ہے اگر مسائل کے حل کی جانب توجہ نہیں دی گئی تو عوامی غصہ احتجاج کا روپ دھارسکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں