آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

٭٭٭

اب لوک داستانیں نہیں لکھی جاتیں اور ہمارے پاس اٹھارہویں صدی کے بعد کی تخلیق کی ہوئی کوئی لوک داستان نہیں ملتی۔ جو کچھ مختلف لوک داستانوں میں لکھا گیا وہ بھی وقت کے دھارے کے ساتھ تبدیل ہوتا رہا۔ ہیر رانجھا کی جو داستان دمودر داس نے سولہویں صدی میں لکھی اسی کو وارث شاہ نے اٹھارہویں صدی میں سرے سے ہی تبدیل کر دیا۔ تقریباً تمام لوک داستانوں میں بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ مرد اور عورت اپنی پسند سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن معاشرے کے ڈھانچے (ذات پات، مذہب اور معاشی حیثیت وغیرہ) ایسے تھے کہ ایسا ہو نہیں سکتا تھا۔ اس لئے آخر میں اکثر ہیرو اور ہیروئنیں موت کا شکار ہو جاتی تھیں۔ وارث شاہ سے پہلے لکھی گئی ہیر رانجھا کی داستان میں دونوں بنیادی کردار معجزے کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں لیکن وارث شاہ نے ان کا انجام موت دکھایا کیونکہ اس کے زمانے میں اس طرح کے کردار معاشرے کو کسی بھی قیمت پر قابل قبول نہیں تھے۔ وارث شاہ سے پہلے شعراء بھی رانجھے کی مدد کے لئے پانچ پیروں اور ہندو جوگی بالناتھ کی امداد کا ذکر کرتے ہیں اس لئے وہ ان روحانی ہستیوں کو غلط نہ ثابت کرنے کے لئے انہیں پراسرار طریقے سے گم کر دیتے تھے۔ وارث شاہ نے بھی پیروں اور جوگی کی بھرپور مدد کا ذکر کیا لیکن اس کو ٹریجڈی بنا کر یہ دکھایا کہ کوئی روحانی طاقت تاریخ کے بہاؤ کے آگے بند نہیں باندھ سکتی۔ وارث شاہ نے پانچ پیروں کو پانچ انسانی حواس اور جوگی کو عورت کی علامت کا نام دیا۔ وارث شاہ نے جس طرح ہیر کی مدد کے لئے تمام عورتوں کی خفیہ تنظیم سازی دکھائی وہ آج کی ’’می ٹو‘‘ تحریک میں نظر آتی ہے۔ وارث شاہ نے ہیر رانجھا کو آفاقی کرداروں کے طور پر پیش کیا لیکن سعادت حسن منٹو تک آتے آتے یہ کردار نئے معاشرے کے ’افراد‘ بن جاتے ہیں۔

وارث شاہ کے بیانیے میں عورت کی آزادی کا تصور خیالی تھا کیونکہ اس زمانے کے معاشرے میں ایسا ہونا ناممکن تھا لیکن وارث شاہ کا عورت کی آزادی کا تصور بے معنی نہیں تھا بلکہ اپنے وقت سے بہت آگے کا اشارہ تھا۔ اب دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہیر اور رانجھا کو اکٹھے رہنے کے لئے کٹھن مراحل سے گزر کر مرنا نہیں پڑتا بلکہ وہ چرچ گئے بغیر بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ان دو صدیوں میں جاگیر دارانہ نظام نئے صنعتی دور میں ڈھل چکا ہے اور اب قبیلے، ذات پات حتیٰ کہ طبقاتی اختلافات بھی انسانوں کی ذاتی زندگی کی ترجیحات کو متاثر نہیں کر پاتے۔ بہت سے لوگ لیکن سوال اٹھائیں گے کہ برصغیر جیسے ممالک میں اب بھی عورت کو دبانے کے لئے نئے نئے ہتھیار کیوں استعمال کئے جاتے ہیں؟ اگر برصغیر میں بھی معاشی نظام کی بنیادیں تبدیل ہو گئی ہیں، انسانی طاقت سے ہونے والے اکثر کام مشینیں کرتی ہیں تو ایسا کیوں ہے کہ سارے خطے میں مذہبی بنیاد پرستی غالب آ گئی اور آزادانہ اختلاط مشکل تر ہو گیا ہے۔ اس سوال کا ہم کئی طرح سے جواب دے سکتے ہیں اور معاملہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

اس سوال کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ معاشرے میں بہت تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں بہت سے نظریات لایعنی ہو چکے ہیں اور اس خلا میں محض ردعمل کے طور پر مذہبی بنیاد پرستی اپنے پاؤں پھیلا رہی ہے۔ یورپ میں بھی صنعتی ترقی کے آغاز میں مذہبی اور قوم پرست نظریات کی گرفت مضبوط ہوئی تھی۔ جنگ عظیم اول و دوم بھی قومی ہیجان کے تحت لڑی گئیں لیکن آخر میں قوم پرستی کے رجحانات ختم ہو گئے اور معاشی سطح پر ایک رفاہی نظام قائم ہو گیا۔ اس تبدیلی کے عمل میں چند دہائیاں نہیں صدیاں صرف ہوئیں۔ اس تجربے کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ برصغیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عارضی ہے اور بالآخر نئے روشن نظام نے قائم ہونا ہے۔ وارث شاہ کی ہیر کو پسند کی شادی کرنے کے لئے تقریباً دو سال انتظار کرنا پڑا لیکن ہم بیتابی میں مایوس ہو رہے ہیں جس پر غالب کا یہ شعر بہت درست بیٹھتا ہے:

آرزو صبر طلب اور تمنا بے تاب

دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک

ہم اوپر اٹھائے گئے سوال کا دوسرا جواب دیتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ مشینی انقلاب کے نتیجے میں بہت سی بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں جن کو ڈھانپنے کے لئے مذہبی انتہا پسندی کی چادر اوڑھائی گئی ہے جو جلد یا بدیر تار تار ہو جائے گی کیونکہ وہ نئے معاشی نظام کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔ اب دیکھیں آج کی عورت ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ آزاد ہو چکی ہے اور اس پر نئے ظلم اس لئے ڈھائے جا رہے ہیں کہ وہ ایسی آزادیاں مانگ رہی ہے جو مرد شاہی نظام کے محافظ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس سارے ظلم و ستم کے باوجود عورتوں کو آگے بڑھنے سے روکنا ممکن نہیں رہا۔ اسی طرح دیہات میں ’کمیوں‘ (نچلی سطح کے دستکار) کا نظام مسمار ہو چکا ہے اور غلامی کی زندگی گزارنے والے شہروں میں منتقل ہو کر کسی نہ کسی سطح پر اپنی روزی آزادانہ طریقے سے کما رہے ہیں۔ شہروں میں ذات پات کا پرانا نظام اب سرابِ صحرا بن چکا ہے۔ بنیادی سطح پر تبدیلیوں کے کچھ منفی اشاریے بھی ہیں:منشیات کے استعمال میں روز بروز اضافہ بروری کمپنی کے ہر سال بڑھتے ہوئے منافع سے بھی ناپا جا سکتا ہے۔ میری مصدقہ اطلاعات کے مطابق دیہات میں مردوں کے ساتھ عورتوں میں بھی شراب نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے جس (عورتوں کی شراب نوشی) کا پہلے تصور بھی نہیں تھا۔ غرضیکہ اپنے چاروں طرف نظر دوڑائیں تو آپ کو سب بدلا ہوا نظر آئے گا۔ ان سب تبدیلیوں کو ریاست کے طاقتور عناصر نے روکنے یا مخفی رکھنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہے جو آخرش ناکام ہو جائے گی۔ پرانا نظام لمحہ بہ لمحہ مٹ رہا ہے جس کو ہم نجم حسین سید کی ایک شعری سطر سے شاید پہلے بھی بیان کر چکے ہیں:

چٹی جاندے نیں پُرانیاں کندھاں، نیانے ہتھ کنیاں دے

(بوندا باندی کے ننھے منے ہاتھ بڑی بڑی دیواروں کو چاٹتے جا رہے ہیں)

ادارتی صفحہ سے مزید