آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍جمادی الاوّل 1440ھ 23؍جنوری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی بیٹنگ لائن جنوبی افریقا میں بھی دھوکا دے گئی، پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں پوری ٹیم صرف 181 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

سینچورین میں پاکستان اور جنوبی افریقا کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا مقابلہ شروع ہوا، کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

پاکستان الیون نے ڈوائن اولیوئر، رباڈا اور ڈیل اسٹین کی بولنگ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، خاص طور پر جنوبی افریقا کی طرف سے اپنا چھٹا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ڈوائن اولیور نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کی بہترین بولنگ کی اور 37 رنز کے عوض 6 پاکستانی کھلاڑیوں کو پویلین کا راستہ دکھایا۔

گرین کیپ کی طرف سے اظہر علی اور بابراعظم نے مزاحمت کی تاہم دیگر کھلاڑیوں میں کوئی بھی خاطر خواہ پرفارمنس دینے میں ناکام رہا۔

نویں آؤٹ ہونے والے بیٹسمین بابر اعظم نے مشکل ترین حالات میں انتہائی زبردست بیٹنگ کی، 75 گیندوں پر 15 چوکوں کی مدد سے 71 رنز بنائے،انہوں نے جنوبی افریقا کے کامیاب ترین فاسٹ بولر ڈیل اسٹین کی 24 گیندوں کا سامنا کیا اور 10 چوکے لگائے۔

کھیل کے آغاز پر پاکستان کے امام الحق اور فخر زمان نے اننگز کا آغاز کیا،پہلا اوور ڈیل اسٹین نے میڈن کیا،دوسرے اوور سے جنوبی افریقا کو کامیابی مل گئی،امام الحق صفر پر آوٹ ہوگئے۔

جنوبی افریقا کی باؤنسی پچ پر قومی ٹیم کے بلے باز پروٹیز فاسٹ بولر کے سامنے گھبرائے ہوئے دکھائی دیے اور کوئی بیٹسمین پر اعتماد انداز سے زیادہ دیر تک کریز پر کھڑا نہ رہ سکا۔

دوسری وکٹ فخر زمان( 12 رنز) کی گری،17 کے مجموعی اسکور پر ڈیل اسٹین نے انہیں میدان سے واپسی کا راستہ دکھایا،اس وکٹ کے ساتھ ہی وہ جنوبی افریقا کی طرف سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر بن گئے۔

تیسری وکٹ پر اظہر علی اور شان مسعود نے ٹیم کو اچھی شراکت دینے کی کوشش کی تاہم 54 کے مجموعی اسکور پر شان مسعود ہمت ہار گئے، وہ 19 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔

تھوڑی دیر بعد اسد شفق 7 رنز بناکر واپس لوٹ گئے، یوں پاکستان نے 4 وکٹ صرف 62 رنز پر کھودیں، پانچویں وکٹ 36 رنز بنانے والے اظہر علی کی گری، انہیں اولیور نے بولڈ کیا۔

یاسر شاہ صرف4 بناکر رباڈا کا شکار بن گئے،کپتان سرفراز صفر، محمد عامر ایک رنز بناکر اولیور کا شکار بنے تو پاکستان نے 111 کے مجموعی اسکور پر اپنی 8 قیمتی وکٹ گنوادی تھیں۔

نویں وکٹ پر بابر اعظم نے حسن علی کے ساتھ مل کر اسکور 178 رنز تک پہنچادیا، بابراعظم 71 رنز بناکر رباڈا کا تیسرا شکار بن گئے ۔

آخری وکٹ شاہین شاہ آفریدی کی گری جو صفر رنز بناکر اولیور کا شکار بنے، یوں حسن علی 21 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

جنوبی افریقا کی طرف سے اولیور نے 6، رباڈا نے 3 اور ڈیل اسٹین نے 1 وکٹ حاصل کی۔

قومی ٹیم میں حارث سہیل کی جگہ شان مسعود کو شامل کیا گیا، پاکستان ٹیم کپتان سرفراز احمد، فخر زمان، امام الحق، شان مسعود، اظہر علی، اسد شفیق، بابر اعظم، محمد عامر، حسن علی، یاسر شاہ اور شاہین شاہ آفریدی پر مشتمل ہے۔

میزبان ٹیم پاکستان کے خلاف 4 فاسٹ بولرز کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔

پروٹیز ٹیم ایڈن مرکرم، ڈین ایلگر، کپتان فاف ڈوپلیسی، ہاشم آملہ، ڈی بریون، ٹیمبا باووما، کوائنٹن ڈی کوک، کیشو مہاراج، کگیسو رابادا، ڈیل اسٹین اور ڈین اولیور پر مشتمل ہے۔

پاکستان ٹیم اب تک جنوبی افریقا میں کوئی ٹیسٹ سیریز اپنے نام نہیں کرسکی اور 10 سال کے دوران گرین کیپ نے پروٹیز سرزمین پر کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں