آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات10؍جمادی الاوّل 1440ھ 17؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناہید خان

2007میں بے نظیر بھٹو کے قتل نے نہ صرف دنیا کو حیران کردیا تھا بلکہ پاکستان کے لوگوں کو بھی خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ ان کی موت سے ملک کے مستقبل کو سنگین خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ اپریل 1986میں ان کی پاکستان واپسی پر گرمجوشی سے ان کا استقبال کیاگیا اور پھر ان کی زندگی کولاحق سنگین خطرات کے باجود اکتوبر2007میں واپسی پر بے مثال استقبال کیاگیا، یہ سب پاکستان کی تاریخ کے سنہری باب ہیں۔ 35سال کی عمر میں جمہوریت کی بحالی کیلئے ایک بے رحم جدوجہد کے بعد اسلامی ریاست کی پہلی خاتون چیف ایگزیکٹوکے طورپر ان کا عروج اور 27دسمبر 2007کوفوجی ہیڈکوارٹرزسے چند کلومیٹرکےفاصلےپر ان کےافسوسناک اختتام سے ہمارایہ ایمان مضبوط ہوتا ہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ آج زندہ ہوتیں تووہ پاکستان کی سربراہی کررہی ہوتیں۔ بے نظیر بھٹو ایک سچی فائٹر تھیں جوفوجی آمروں کے خلاف بہادری سے لڑیں۔ جمہوریت کیلئے ان کی قربانیاں بے مثال ہیں جن سے ان کے لاکھوں پیروکاروں کو آج تک یہ امید ملتی ہے کہ کبھی ہمت نہ ہاریں اور اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہ کریں۔ پاکستانی الیٹ اور بالخصوص عام آدمی کے معاملات پر روایتی خیالات کے خلاف لڑنے کا حوصلہ اور عزم ان کے پاس تھا۔ انھوں نے اپنے خیالات کے اظہار میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی اور عام آدمی سے ان کاپیار ان کے خیالات سے جھلتا ہے جنھیں محترمہ بے نظیر بھٹومیں امید کی کِرن نظر آتی تھی۔ انھیں یقین تھا کہ تیسری صدی میں پاکستان بہتر حالت میں ہوگا جب امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ کم ہوگا اورہر بچے تک ریاست کی مدد سےتعلیم پہنچا کر خواندگی کا مسئلہ کم ہوجائےگا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہےکہ ان کےوالدکےعدالتی قتل کےبعدانھوں نےاپنازیادہ تروقت جیل میں گزارا محنت اور فوجی آمر کے خلاف جدوجہدسے تاریخ میں جگہ بنائی۔ مزیدبرآں پاکستان کےغریب لوگوں پران کااعتماد جن کا یقین تھا کہ وہ ان کی زندگی میں تبدیلی لائیں گی۔ وہ جمہوریت کی سپورٹر تھیں اور کمزوروں کی حمایتی تھیں۔ ان کی بنیادی مقصد یہ تھاکہ تمام پاکستانیوں کوان کے آئینی حقوق ملیں۔ وہ ایک لبرل، جدید اور ترقی پسند پاکستان چاہتی تھیں اور انتہاپسندوں کواپنے ایجنڈے کو فروغ نہیں دینا چاہتی تھیں۔ مسائل پر ان کا ویژن انتہائی واضح تھا اورعام آدمی کے ساتھ ان کی گفتگو کی مہارت انتہائی اچھی تھی۔ پاکستان کے لوگوں کی قسمت بدلنے کیلئےوہ پُرعزم، پُرجوش اور پُراعتماد تھیں۔ انھوں نے ایک فوجی آمر ضیاءالحق کو چیلنج کیا اور ان کے عزم اور حوصلے کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم بھٹو کو بچانے ہزاروں بھٹو گلیوں میں نکل آئے۔ ان میں سے سیکڑوں کو پھانسیاں دی گئیں، تشدد کیاگیا اور ہزاروں کو شاہی قلعہ لاہور میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ اور سیکڑوں نے وزیراعظم بھٹوکو بچانے کیلئے خود سوزی کرکے موت کو گلے لگالیا۔ 1988 میں انتخابات کے بعد وزیراعظم بننے کے بعد انھوں نے شہریوں کو آئینی حقوق کو بحال کیاجنھیں ضیاءالحق نے ختم کیاتھا۔ انھوں نے طلبہ اور ٹریڈ یونین کی پابندی کو ختم کیا، پریس کو آزادی دی اور عدلیہ کو ایگزیکٹو سے آزاد کرنے پر اتفاق کیا۔ 1993میں اپنے دوسرے دورِ حکومت کے دوران انھوں نےاعلیٰ عدلیہ میں خواتین کو تعینات کرکے، بیرونِ ممالک مشنز میں سفیر تعینات کرکے، ویمن بینک بنا کراور سیاست میں خواتین کو لاکر خواتین کو مضبوط کیا۔ آج پاکستان تاریخ کے خلاف جارہاہے۔ آج ملک میں پیچیدہ سیاسی صورتحال ہے۔ آج جو فیصلے ہم کرتے ہیں وہ یقیناً پاکستان کے مستقبل پر اثرانداز ہوں گے۔ کرپشن، دہشتگردی اور سرحدوں پر کشیدگی کے علاوہ سیاسی استحکام پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان کے سیاسی بیانیے کوبدلنے کیلئےہماری مشترکہ اور سنجیدہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہوئے سیاستدان اپنی ساکھ کھوچکے ہیں اور ان کیلئے سیاسی فاصلےاس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ دیگر قوتیں نئےایجنڈے کے ساتھ مداخلت کررہی ہیں۔ اب اداروں میں جمہوریت کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی جماعتوں سمیت اداروں کو دوبارہ تعمیر کیاجائے اور ملک کو مستقبل کی نسلوں کیلئے دوبارہ تعمیرکیاجائے۔ اس طرح کے کشیدہ سیاسی ماحول میں جب ملک مشکل میں ہے تو بے نظیر بھٹو کی طرح کی قومی لیڈر کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے جو ملک کو بحران سے نکال سکتی تھیں۔ وہ ایک دوراندیش رہنما تھیں جو یہ دیکھ سکتی تھیں کہ جو کچھ عزت مآب چیف جسٹس آج کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنی آبادی کنٹرول کرنی ہوگی۔1994میں بے نظیر بھٹونے اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈویژن قاہرہ میں اپنے خطاب میں کہاتھاکہ ’’اگر پاکستان اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول نہیں کرسکتا تو یہ ترقی نہیں کرسکتا۔‘‘ یہ پاکستان کے لوگوں کی قسمت نہیں ہے کہ وہ تنگی اور غربت میں رہیں اور ان کا مستقبل بھوک اور خوف میں گھراہو۔‘‘ وہ چاہتی تھیں کہ پاکستانی انتظامیہ ان مسائل کو حل کرے۔ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ موجودہ حکومت پاپولیشن پلاننگ کے مسئلے کو حل کرے۔ اسلام اور مغرب کے درمیان مصالحت کیلئے ان کی کاوش پاکستان کےجیوپولیٹیکل حالات کےمطابق تھیں۔ انھوں نے ملک کو جمہوریت کی راہ پرگامزن کیا لیکن انھیں کبھی انصاف نہیں ملا اور اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے انھیں دیوار سے لگا دیا، جس طرح ان کے ساتھ سلوک کیاگیاآج اسٹیبلشمنٹ کو اس پر افسوس ہوگا۔ آج ان کے پیروکار گہرے رنج کے ساتھ ان کی 11ویں برسی منارہے ہیں اورسندھ کے چند شہروں تک محدود ہیں۔ بے نظیربھٹو کا خواب کہ پاکستان ایک لبرل اور جدید جمہوریت ہواورجہاں ہرشخص کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہو، وہ ٹوٹ رہاہے۔ بدقسمتی سے موجودہ سیاسی صورتحال ملک کے سارے نظام کیلئے خطرہ ہے۔ اکثریت اور اقلیتوں، لبرلزاور شدت پسندکے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے جس سے پاکستان میں تباہی آسکتی ہے۔ انھوں نے پاکستان کے لوگوں کی بنیادی ضروریات پر توجہ دی یعنی صحت، تعلیم، غربت وغیرہ۔ موجودہ حکومت نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کی مالی معاونت سے معاشی حالات کو بہتر کرنے کیلئے چند اقدامات کیے ہیں لیکن یہ عارضی انتظامات ہیں۔ ڈالر کی قدر میں اتارچڑھائو سے تاثر ملتا ہے کہ معیشت کو سٹاک بروکر چلا رہے ہیں۔ اچھی معاشی پالیسیوں سے مستقل حل کرنے کی ضرورت ہےتاکہ ملک کو درست معاشی راہ پر گامزن کیاجاسکے۔ ہماری مسلح افواج نے دہشتگردی پر توجہ مرکوز کرکے ملک کو ماضی کی مشکل صورتحال سے نکال لیاہے۔ ملک نے اپنے ہزاروں فوجیوں اور شہریوں کی جانیں قربان کرکے بھاری قیمت ادا کی ہے، اس میں عظیم رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو بھی شامل ہیں جن کے بعد سنجیدہ نوعیت کا لیڈرشپ کاخلاپیداہوگیاہے۔ اس وقت غربت کے مسئلے کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ محترمہ بےنظیربھٹونے درست فرمایاتھا کہ غربت کے خلاف جنگ کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ اس وقت غربت اور بھوک بڑھ رہی ہے۔ امیراور غریب کے درمیان خلا بڑھ چکاہے۔ غریب لوگ قابلِ رحم حالات میں رہ رہے ہیں۔ ایک اوسط پاکستانی کی آمدنی اتنی کم ہے کہ انکا گزارہ مشکل ہوچکاہے۔ بنیادیِ ضروریاتِ زندگی تک رسائی سے باہر نکل چکی ہیں، لوگ اپنے یوٹیلٹی بل اداکرنے سے قاصر ہیں اور وہ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے۔ پاکستان اکانومک سروے نے تسلیم کیا ہے کہ 1996میں محترمہ بےنظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے بعدجب جمہوریت کو پٹری سے اتاراگیا تھا تب سے غربت میں اضافہ ہواہے۔ شدت پسندی اور کرپشن کسی ایسے ملک کا تعارف نہیں ہوسکتےجسے بڑی امید سے بنایاگیاہو۔ اب ہم سب کیلئے دوبارہ سوچنے کاوقت آن پہنچا ہے کہ ہم سب کس طرح حقیقی جمہوریت کی جانب کس طرح بڑھ سکتے ہیں۔ ہم ایسے اداروں کو کیسے تعمیر کرسکتے ہیں جولوگوں کومعاشی اور معاشرتی انصاف فراہم کرسکیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا ورثہ ان کی جموریت کیلئے جدوجہد تھی جو 30سالہ دورپر محیط ہے اور دوسرایہ کہ ایک حقیقی قومی وفاقی پارٹی جسے چاروں وفاقی اکائیوں میں، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں بھی حمایت حاصل تھی۔ فوجی آمرجنرل ضیاءالحق کی جانب سے تیار کردہ منصوبےکےتحت ان کےوالدکےعدالتی قتل کے بعد ان کی جدوجہد کاآغازہوا۔ ایک نوجوان خاتون کے طورپر انھوں نے اپنی والدہ اور ہزاروں سیاسی کارکنوں کے ساتھ ضیاءحکومت کے ظلم کو برداشت کیا۔ پی پی پی کارکنان نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں جبکہ ان کی لیڈرشپ پر قذافی اسٹیڈیم میں لاٹھی چارج کیاگیا، سہالہ، کراچی اور سکھر جیل میں قید کیاگیا۔ 1988اور 1993میں حکومتوں کےدو مشکل ادوار کے علاوہ ان کا تیس سال پر محیط سیاسی جدوجہد کا دورضیاءحکومت، نواز شریف کے جمہوریت مخالف سیٹ اپ اور مشرف کی فوجی حکومت کے خلاف ایک مستقل جدوجہد تھا اس دوران انھیں عدالتوں اور مختلف شہروں میں تنگ کیاگیا حتیٰ کہ انھوں نے دبئی میں طویل جلاوطنی کاٹی جو 8سالوں پر محیط تھا۔ جلاوطنی کے دور کے دوران اُن کے بڑے مخالف میاں نواز شریف کے ساتھ چارٹرآف ڈیموکریسی پراس فیصلے کے ساتھ دستخط کیے گئے کہ دونوں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کریں گے اور ماضی میں کی گئیں غلطیوں کو دہرایا نہیں جائے گا۔ 27دسمبر 2007کو ان کے قتل کے بعد پی پی پی اور پی ایم ایل(ن) کی لیڈرشپ نے کوئی سبق نہیں سیکھا بلکہ اپنے دس سالہ دورِ حکومت میں ماضی کی غلطیوں کو دہرایاجس سےسیاستدانوں کیلئےسیاسی میدان تنگ ہوگیا۔ پی پی پی کی موجودہ لیڈرشپ اپنی غلط پالیسیوں سے اور کرپشن کے بڑے الزامات کے باعث بھٹو جیساکرشمہ اور معیار قائم رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے اور چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر میں جڑیں رکھنے والی پارٹی اب ایک کمزور جماعت بن چکی ہے، مرکزی سیاست سے باہر ہے، سندھ کے چند شہروں تک محدود ہے اور وہ بھی چند بڑے جاگیرداروں کے ہاتھوں میں ہے جن کا پی پی پی کی بنیادی سیاست جس کی بنیاد شہید ذوالفقارعلی بھٹونے رکھی، اس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بھٹو کےنظریہ کےکارکنان اور سپورٹرزاپنی کرشماتی لیڈرکی موت پر ماتم کرتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں