آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نامور شخصیت کی اولاد ہونے کا ہونے کا فائدہ ہو یا نہ ہولیکن نقصان ہونے کا احتمال ضرور رہتاہے کیونکہ لوگ بچوں سے بھی والدین جیسی صلاحیتوں کی توقعات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شوبزنس کی دنیا میں بہت سے نامور اداکاروں کے بچے ناکام ہوئے، لیکن چند ایک ایسے بھی ہیں جو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کی شوبز انڈسٹری میں کامیاب ’اسٹار کڈز‘ کا ذکر ہوتو ان میں شہزاد شیخ کا نام بھی آتاہے۔ لوگ آج انہیں جاوید شیخ کے فرزند کے طور پر نہیں بلکہ ان کی اپنی شناخت کی وجہ سے جانتے ہیں۔

ابتدائی حالات

شہزاد شیخ کا تعلق راولپنڈی کے شیخ گھرانے سے ہے۔ ان کے والد جاوید شیخ مشہور اداکار ہونے کے ساتھ ہدایتکار اور پروڈیوسر بھی ہیں۔ جاوید شیخ کی زینت منگی سے شادی کے بعد ان کے والدین کراچی منتقل ہوگئے اور یہیں شہزادشیخ کی دنیا میں آمد ہوئی۔ ان کی بہن مومل شیخ، ان سے دو برس چھوٹی ہیں۔ شہزاد کراچی کے ایک انسٹیٹوٹ سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کرنے کے بعد امریکا چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے ’’نیویارک فلم اکیڈمی‘‘ سے باقاعدہ اداکاری کی تربیت حاصل کی اور پھر وطن واپسی کے بعد سے تاحال نہ صرف چھوٹی اسکرین، بلکہ بڑے پردے پر بھی اداکاری کے جوہر دکھارہے ہیں۔

کیریئر کا آغاز

شہزاد شیخ چونکہ مشہور اداکار جاوید شیخ کے بیٹے ہیں، مگر پھر بھی انہوں نے اپنی صلاحتیوں کےبل بوتے پر انڈسٹری میں اپنے قدم جمائے۔ یہاں تک کہ آڈیشن کے وقت بھی کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ جاوید شیخ کے اکلوتے فرزند ہیں۔2011ء میں شہزاد نے پہلا ڈراما کیا اور اُس کے بعد اداکاری کے جوہر دکھانے کے لیے مزید دروازے کھلتے چلے گئے۔

2008ء میں، جاوید شیخ نےفلم’’کھُلے آسمان کے نیچے‘‘ بنائی تو اُس میں شہزاد نے چھتری پکڑنے، چائے لے کر آنے، اسکرپٹ دینے اور لائٹس پکڑنے جیسے چھوٹے موٹے کام کیے، جس کا انہیں باقاعدہ معاوضہ بھی ملا۔ اس معاوضے کی کچھ رقم شہزاد نے اپنی والدہ کو دی اور باقی پیسوں سے دوستوں کے ساتھ دعوت اُڑائی۔

فیلڈ میں آنے کے بعد شہزاد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ ڈرامے کے لیے منتخب کرنے کے بعد اگلے ہی روز ان سے معذرت کرلی جاتی۔ انہیں بہت دُکھ بھی ہوتا تھا، مگر دِل میں آگے بڑھنے کی ٹھانی ہوئی تھی، اس لیے وہ دِل برداشتہ نہیں ہوئے۔ پہلی بار جب کیمرے کا سامنا کیا تو شہزاد بہت نروس تھے، ہاتھ کانپ رہے تھے اوروہ بار بار ماتھے سے پسینہ پونچھ رہے تھے۔ پھر بعد میں جب شہزاد نے پراعتماد طریقےسے کیمرے کا سامنا کرنا شروع کیا تو ان کی صلاحیتوں میں نکھار آتا گیا۔ شہزاد اپنے سب سے اچھے کردار ’’مِی رقصم‘‘ ڈرامے میں’’ذیشان‘‘ کو قرار دیتے ہیں۔

فی الحال شہزاد کی پہلی ترجیح ٹی وی انڈسٹری ہی ہے لیکن اگر انہیں بھارتی فلموں میں جاندار کردار کی آفر ہوئی تو وہ بخوشی قبول کرلیں گے۔

نجی زندگی

شہزادا پنی زندگی کا یادگار ترین لمحہ اسے قرار دیتے ہیں، جب انہوں نے ایک شادی کی تقریب میں حنا (اہلیہ) کو دیکھا اور بس، وہ دیکھتے ہی رہ گئے۔ شہزاد کا کہنا ہے ،’’حنا، میری شریکِ سفر ہی نہیں، بہت اچھی دوست بھی ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے بہترین مزاج آشنا ہیں۔ وہ ایک کمپنی سے بطور وکیل منسلک ہے مگر اچھی بیوی، ماں کا کردار بھی بہت عُمدگی سے نبھارہی ہے۔ رومانوی کردار ادا کرنے پر یا خواتین مداحوں کی کالز آنے پر وہ بُرا تو نہیں مناتیں، البتہ چھیڑتی ضرور ہیں۔ مگر بعد میں یہ بھی کہتی ہیں کہ جو بھی کرو، صرف کردار کی حد تک‘‘۔

شہزاد شیخ ایک عدد بیٹے شاہ میر شیخ کے والد ہیں اور مصروف زندگی میں گھر، اہلیہ اور بچّے کیلئے وقت نکالتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ گھر اور اہلِ خانہ نظر انداز نہ ہوں، اسی لیے چُھٹی کے دِن سارا وقت بس گھر ہی پہ گزارتے ہیں۔ باورچی خانے میں اپنی اہلیہ کی مدد کرنے میں بھی انہیں کوئی تامل نہیں ہوتا۔

شہزاد تنہائی پسند ہیں۔ سرد موسم اور گہرا نیلا رنگ انھیں بے حد پسند ہے۔ نثر اور شاعری دونوں ہی شوق سے پڑھتے ہیں۔ شعراء میں غالب اور اقبال پسند ہیں جب کہ اُردو ادب کا مطالعہ انہوں نے حال ہی میں شروع کیا ہے۔ کرکٹ اور فٹ

بال کے دلدادہ ہیں، جب بھی موقع ملتا ہے تو خود بھی کرکٹ کھیلتے ہیں۔ انھیں کھلاڑیوں میں شاہد آفریدی اور کرسٹیانو رونالڈو پسند ہیں۔ وہ آملیٹ بہت اچھا بناتے ہیں۔ محمّد قوی خان، شکیل اور مرینہ خان کے مداح ہیں۔ انھیں ساتھی اداکاروں میں اقرا عزیز، ایمن، عائزہ خان، عمران اشرف، میکال ذوالفقار کے ساتھ کام کرنے میں مزہ آتاہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں