آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ16؍ ذیقعد 1440 ھ 20؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حبیب جالب میموریل فورم کا قیام، مسرور سبزواری چیئرمین منتخب

اردو کے معروف عوامی وانقلابی شاعر اورجمہوریت کےلیے ہرجابر اور آمر حکمران کے سامنے بے باک کلمہ حق بیان کرنے اور سینہ سپررہنے والے حبیب جالب مرحوم کے نظریات کوعالمی سطح پر روشناس کرانےکے حوالے سے حبیب جالب میموریل فورم کے نام سے ایک عالمی سطح کا ادارہ بنایاگیا ہے۔

اس ادارے کے مقاصدحبیب جالب مرحوم کی فکر اور کردار کو پوری دنیا میں عملی طورمتعارف کرانے کے لیے عالمی سطح پر فکرجالب کے پروردہ دانشوروں کو ایک پلٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں سے وہ آمریت اور غیرجمہوری قوتوں کے خلاف حق وسچ بات اور عام آدمی پر ظلم کے خلاف ایک متحد وطاقتور آواز بن سکیں۔ اس فورم میں ہر شعبہ زندگی کے لوگ شامل ہوں گے۔

فورم کے روح رواں برطانیہ میں طویل عرصے سے مقیم اور فورم کے نومنتخب چیئرمین مسرور سبزواری نے اس موقع پر کہا کہ جس طرح جالب مرحوم نے زندگی بھر بے لاگ اور بے باک لکھا، نہ ظلم وستم کو لطف وکرم سے تشبیہ دی اور نہ دکھ کو دوالکھا، ان کی آنکھ نے جو دیکھا اور دل نے جومحسوس کیا اس کو من وعن اشعار میں ڈھال دیا ۔

نتائج کی پرواہ کئے بغیر انہوں نے ترقی پسند شاعر ہونے کی حیثیت میں ایوب خان اور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف لکھا، جالب نے قلم سے ہمیشہ تیغ کا کام لیا۔ اسی جرم کی پاداش میں جالب نے اپنی آدھی زندگی قیدوبند کی صعوبتیں جھیلنے میں گزاری، ان کا قریباً ہر شعری مجموعہ ضبط کیا گیا لیکن اسے شہرت دوام ہی ملی ۔ حبیب جالب شاعر عوام تھے۔ وہ جو تادم حیات نہ کبھی کسی حکمراں کے سامنے جھکے اور نہ ہی عوام کے مسائل اور ان پر ہونے والے مظالم سے چشم پوشی کی۔

برطانیہ میں مقیم ممتازسیاسی اور سماجی رہنما اور فورم کی صدر ڈاکٹر اسماء مسرور نے کہاکہ پاکستان اور دنیا بھر میں معاشرتی ناانصافیوں اور حکمراں طبقہ کے ظلم کے خلاف جو علم جالب نے بلند کیا تھا اسے کبھی جھکنے نہیں دیا جائے گا، جالب نے مظالم کے خلاف منظوم آواز اٹھائی۔ وہ اپنی نظموں سے عوام کو بیدار کرتے ہوئے ان میں انقلاب پیدا کرنے کی بھی کامیاب کوشش کرتے رہے، جالب ہمیشہ ایک عام آدمی کی طرح سوچتے تھے۔

وہ پاکستان کے محنت کش طبقہ کی زندگی میں تبدیلی کے خواہاں تھے اسی لیے سماج کے ہر اس پہلو سے جنگ چھیڑی جس میں آمریت کا رنگ جھلکتا تھا۔ وہ اپنی انقلابی سوچ سے آخری سانس تک سماج کے محکوم کو اعلیٰ طبقات کے استحصال سے چھٹکارا دلانے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے صرف اپنی نظموں سے ہی نہیں، غزلوں سے بھی مجبوراً انسانوں کی حالت زار بیان کی اورانہیں ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے کا حوصلہ بخشا۔

انہوں نے مزید بتایاکہ حال ہی میں رجسٹرڈ ہونے والے اس فورم کے پیٹرن انچیف حبیب جالب مرحوم کے صاحبزادے ناصر جالب ہوں گے جبکہ مسرورسبزواری چیئرمین اور ڈاکٹراسماء مسرور صدرمنتخب ہوئے ہیں۔ فورم کی باقاعدہ افتتاحی تقریب مارچ میں حبیب جالب مرحوم کی یوم پیدائش پر برطانیہ میں منعقد ہوگی جس میں دنیا بھرسے معروف وممتاز شخصیات کو مدعو کیا جائےگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں