آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وطن عزیز میں جس ذہنی اور جسمانی فشار سے ذوالفقار علی بھٹو کا خانوادہ ہم شناس رہا ہے، اس کی نظیر بے نظیر کے اجل سے ہم آغوش ہونے کے بعد شاید ہی ملکی تاریخ ڈھونڈ سکے۔ عین عالم شباب چار جوانیوں کی زندگی کی کھلی کتاب اگر بند کردی جائے تو پھر پڑھنے کو کیا رہ جاتا ہے! صرف وہ یادیں اور باتیں جو رفتگاں سے منسوب ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ، شاہنواز بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو… ان چاروں میں دیوانگی قدر مشترک تھی، یہ امتیاز انہی کو حاصل رہا کہ جسے مقصد جانا ، دار پر جھول کر اور زندگی کو بھول کر حاصل کیا، بلاشبہ درِشہادت عوام کی محبت کی دہلیز سے گزر کر ہی کھلتا ہے۔ شہادت کیا ہے، بس موت بے ریا ہے اور دہر کا مدعا ہے، شہید کا لہو وہ مقدس آب زم زم ہے جس سے گناہ اس طرح دھلتے ہیں کہ پھر کسی غسل ثانی کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ فلسفہ اسلام کی رو سے جو حق کی خاطر یا اپنے دفاع میں یا کسی کے قتل کا ارادہ نہ رکھتے ہوئے قتل ہوجائے تو وہ ایسا شہید ہے جو امر ہوجاتا ہے، جسے خدا کے ہاں سے رزق ملتا ہے اور جس کا شعور ہم جیسے انسان نہیں رکھتے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بی بی عوام کے معصوم جذبات کے حسین خواب کے حقیقت میں ڈھلنے کی خاطر لیاقت باغ گئی تھیں۔ جلسہ عام سے واپسی کے رخت سفر میں بھی کسی کے قتل کا ارادہ شامل نہیں تھا، اس لئے وہ

تو شہید متفق علیہ ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ کیوں اس بے قصور کی سانسوں کی ڈور مقراضِ آہن سے قطع کردی گئی؟ کیا قاتل نے اپنا مقصد پالیا!! خون ناحق کی قیمت پر اگر کوئی اپنا مقصد پاسکتا تو ان سے طاقتور تاریخ میں گزرے ہیں لیکن آج ان کا نام بھی ماسوائے حقارت کے کوئی نہیں لیتا، شاید سفاکی اسی کا نام ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے خون انسان سے پیاس بجھانا مقصد حیات ٹھہرے۔ اب جس نے محترمہ کی شہ رگ کو کاٹا، وہ جتنا اس شہ رگ کے نزدیک تھا اس سے کہیں زیادہ تو وہ تھا جو اس شہ رگ کا تخلیق کار اور اس سے ملحق حسین پیکر کا مصور ہے۔ وہ چاہتا ہی یہی تھا کہ اپنی بے نظیر کو اپنے بھٹو کے پاس بلالے لیکن سفاک قاتل کہاں جائے گا، وہ ٹھکانہ کہاں پائے گا!!؟
کریں گے مر کے بقائے دوام کیا حاصل
جو زندہ رہ کے مقام حیات پا نہ سکے
دوسری طرف محترمہ کو کوئی ابدی نقصان نہیں ہوا، ان کی قربانی رنگ لائی اور وہ اپنے والد کی طرح امر ہوگئیں۔ اگرچہ بھٹو مرحوم ان پر فخر کیلئے دنیاوی حیات سے حجاب کئے ہوئے ہیں لیکن اپنی بہادر بیٹی پر ان کی روح سرشار اور نازاں ہے۔ جگر مراد آبادی نے کیا خوب کہا ہے
نغمہ وہی ہے نغمہ جس کو
روح سنے اور روح سنائے
وہ موت سے چند ساعتیں قبل دوپٹہ سیدھا کرتے ہوئے جلسہ گاہ سے روانہ ہوئی تھیں اور اپنا پلّو اٹھاتے ہوئے اس خاک کو نظروں سے چوم رہی تھیں جو اس سے دامن گیر ہونے کیلئے بے تاب تھی۔ دراصل وہ نسوانیت کی شان تھیں، وہ ایسی ماں تھیں جو لبرل ہوتے ہوئے کنزرویٹو تھیں۔ مغرب میں تحصیل تعلیم کے باوجود ان پر مشرقیت کا رنگ غالب رہا ۔ وہ اس خصلت و جبلت سے قطعی ناآشنا تھیں کہ جس کی حامل مائیں اپنے بچوں کو ہاسٹلوں میں چھوڑ کر سالہا سال دیکھنے کی روادار نہیں ہوتیں۔ وہ جلاوطنی کے بعد جب دبئی سے کراچی پہنچیں تو سیاست بام عروج پر تھی اور پھر بھٹو خاندان کی سیاست تو جنون ہی سے عبارت ہے لہٰذا دیوانگی کے ایسے عالم میں جب انسان اپنے آپ کو فراموش کردیتا ہے اور حیات کا ہر لمحہ مشن کے اطراف رقص کرتا ہوا نظر آتا ہے، تو فرصت و فراغت کی کنجوسی کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے لیکن محترمہ میں موجزن ماں کی بے قرار تڑپ کا جذبہ اسے ہوا کے دوش بچوں سے ملانے سات سمندر پار لے جاتا رہا۔ درحقیقت ماں کی ہستی میں بچوں سے بے پایا محبت کی جو مستی ہے وہ ممتا کی صورت میں محترمہ کے طرز عمل سے عیاں تھی۔ بھارتی سخنور منور رضا نے ماں کی ایسی ہی لاثانی محبت کی کیا تصویر کشی کی ہے
میں نے روتے ہوئے پونچھے تھے کسی دن آنسو
مدتوں ماں نے نہیں دھویا دوپٹہ اپنا
کتنا ظلم ہے کہ وہ دوپٹہ پورے تزک و احتشام کے ساتھ لہو سے دھولیا گیا جو بلاول، بختاور اور آصفہ کے آنسوؤں کے لمس کا نگہبان تھا… نہ جانے جاہ وحشم کا وہ نشہ کب زائل ہوگا جو قیام پاکستان کے ساتھ ہی سر چڑھ کر بولنے لگا تھا۔ نہ جانے قائد ملت سے بنت ملت تک دراز قتل کا سلسلہ کب اور کہاں جاکر رکے گا!! کاش راولپنڈی کمپنی باغ خان لیاقت علی خان کے خون سے تر ہونے کے بعد اپنی آبیاری کیلئے مزید خون کا طالب نہ ہوتا اور یہ کمپنی باغ سے لیاقت باغ بننے پر جمہوری آزادیوں اور عوامی آدرشوں کا رکھوالا ثابت ہوتا…!لیکن یہ تو خواب ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ لیاقت علی خان سے لے کرمحترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت تک سربستہ راز، چشم بینا سے عریاں ہوتے ہوئے بھی راز ہی رہیں گے… پاکستان کے منتخب وزیراعظم جب سرِ…دار نظر آئے تو تخت نشین یہ جواز لائے تھے کہ بھٹو قتل کے مقدمے کے باعث مکافات عمل کا شکار ہوئے لیکن شہید بے نظیر بھٹو پر قتل تو کجا، کسی کو زخمی کرنے کا بھی کوئی الزام نہ تھا، پھر یہ ظلم کیوں روا رکھا گیا!! کیا قتل عمد کے مرتکب وحشی انسان محترمہ کے اس سوال کا جواب دے پائیں گے۔
کیا کس جرم پر تو نے مجھے قتل
ذرا تو دل میں شرمایا تو ہوتا
ہم نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا لیکن خود مسلمان تو کیا انسان بننے کے بھی قابل نہیں ہوسکے ہیں۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم 21ویں صدی کی مہذب ترین قوم کے فرد ہیں، ان سے مودبانہ استفسار ہے کہ پھر یہ کون لوگ ہیں جو لاشوں کے انبار اور سروں کے مینار بنائے جارہے ہیں۔ یہ وحشی انسانوں میں کس طرح اور کیوں کر رچ بس گئے ہیں؟ محترمہ کو اپنی نظر لگ گئی، اسے اپنی مقبولیت نے نگل لیا، کاش وہ اس رسم سے آگاہ ہوتیں تو زندہ رہتیں۔ فیض صاحب نے برسوں پہلے جس کی طرف اشارہ کیا تھا
نثار میں تری گلیوں کے، اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کرچلے
خیر محترمہ تو اپنی سیاسی زندگی کے خشتِ اول سے ہی ان رموز سے آگاہ تھیں۔ پاکستانی سیاست کے تمام بے رحم اسلوب ان کے روبرو ہی رنگ بدلتے رہے۔ جنرل مشرف نے انہیں خبردار کیا کہ وہ پاکستان نہ آئیں ان کی زندگی کو خطرہ ہے لیکن اس جری خاتون نے سب جانتے ہوئے پُرخار و پُرخطر راہ کا انتخاب آپ کیا۔ سر دے دیا لیکن کسی آمر کے دستِ باطل پر بیعت کرنا گوارہ نہ کیا… سنا ہے اب ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو اپنی والدہ کے مشن کو منزل مراد تک پہنچانے کیلئے میدان کارزار میں برسرپیکار ہونے والے ہیں۔خوب ، لمحہ موجود کا فیصلہ خوب، خوب تر!! کیا یہ خبر رجعت پسند گروہ پر برق بن کر نازل نہیں ہوئی ہوگی ۔ کیا یہ نعرہ قاتلوں پر حقیقت بن کر آشکار نہیں ہورہا ہوگا، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا، تم کتنے بھٹو ماروگے!! لاریب !یہ امر اس سچ کا اعلان ہے کہ محترمہ سے جان چھڑانے والے ان کا خون کرکے بھی ان سے جان چھڑا نہیں پائے ہیں۔
جس خون کو تم نے مقتل میں چھپانا چاہا
وہ آج کوچہ و بازار میں آنکلا ہے
کہیں شعلہ، کہیں نعرہ، کہیں پتھر بن کر