آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عظیم قائد عظیم ترین، کرشماتی لیڈروں میں ممتاز ترین۔ بیسویں صدی میں کرشمائی لیڈروں کی بھرمار۔ لینن، ماؤزے تنگ،کمال اتاترک، گاندھی ،نہرو، چرچل، ڈیگال، ٹرومین، روزویلٹ، فیڈل کاسترو قائدین کا ایک لامتناہی سلسلہ۔قائد اعظم اپنی مثال آپ۔ان جیسے کارنامے، ایسا دیدہ ور، کو ئی دوسرا جو عظیم قائد کی ٹکر کا ہو؟ اسٹینلے وولپرٹ نے گَل مُکا دی،’’ تاریخ سیاست میں بہت کم لوگوں نے مؤثر طریقے سے تاریخ کا دھارا بدلا۔ان سے بھی کم ترلوگوں نے دنیا کا نقشہ بدلا۔ایک لیڈر بھی نہیں گزرا جس نے ایک قومیتی ملک بنایا ہو۔ تاریخ سیاست میںجناح اکیلا،تینوں کارنامے سر انجام دے گیا‘‘۔

ڈاکٹر سکندر حیات کی چند روز پہلے منظر عام پر آنے والی کتاب QUAID E AZAM THE CHARISMATIC LEADER میںبذریعہ فلسفہ ،سوشیالوجی ، علم السیاسیات اتنی بات اَزبر کرائی ’’ قائد اعظم خیرہ کُن کرشماتی لیڈر کی ساری جہتیں برتتے ،زاویے پورے کرتے تھے‘‘۔

CHARISMATIC کا ترجمہ کرشماتی ( کرشمہ سے تعلق نہیں) اردو لغت میں مستعمل۔ابتدائی دور میںعیسائی طریق عبادت میں والہانہ نعرہ زنی ، ولولہ انگیز کیتھولک تحریک کے بارے میں پہلی بار لفظ CHARISMATIC استعمال ہوا۔

سال 2018ء اختتام پذیر ، وطن عزیز میں 3 1 دسمبر کا سورج اس طرح ڈوبا کہ ہر طبقہ ہر طریقے سے فرق مگر انتہائی خودوارفتگی،اچھے برے سکتے کی کیفیت میں۔ نئے سال کے آغاز پر سب سے اُمید افزا پیغام میجر جنرل آصف غفور کی ٹویٹ میں ۔ ’’2019ء ترقی کا سال ہے، انشاء اللہ ’’ اتحاد‘‘ سے ہم اپنی کامیابیوں کو سہارا دیں گے ۔آمین ! ‘‘ نیک تمناؤں والی ٹویٹ میں ’’اتحاد ‘‘ کی کڑی شرط اول ہے،اتحاد ہی تو پارہ پارہ ہے ۔عظیم قائد تین اصول ’’اتحاد،تنظیم ،یقین محکم ‘‘پکڑا گئے تھے۔ تنظیم پہلے دن سے پنپ نہ پائی۔ 1971ء کا اختتام سقوطِ مشرقی پاکستان پر ہوا تو یقین مُحکم متزلزل کر گیا۔ گاہے گاہے ’’ یقین مُحکم ‘‘میں جان ڈالی گئی ،کبھی کبھار بہتری کے آثار بھی رہے، اگرچہ کہنہ مشق مقتدر وںنے زور زبردستی تختہ مشق بنائے رکھا۔

2018ء کا قبیح پہلو، سیاسی جماعتیں جو جمہوری عمل کا ناگریز حصہ ،کمال مہارت سے انکو نیست و نابود کرنے کی جسارت عروج پررہی۔بلوچستان میں’’ سب اچھا‘‘ کی رپورٹ ضرور مگر، ’’سب کچھ اچھا ‘‘ نہیں ہے۔ 2018ء کے آخری دنوں میںبلا سوچے سمجھے سندھ جیسے حساس صوبے کو عاقبت نااندیشی کی بھینٹ کیوں چڑھانے کی کوشش ہوئی؟سندھ کے اندر کسی قسم کی مداخلت بلوچستان سے کہیں زیادہ تشویشناک صورت حال سے دوچار کر سکتی تھی۔ بھلا ہو چیف جسٹس کااور سمجھداری کا کہ آخری دن نئے بحران کے غبارے سے فی الحال ہوا نکل چکی۔بانی پیپلز پارٹی بھٹو صاحب کے دور اقتدار میں سانحہ مشرقی پاکستان کا زخم تازہ،کشمیر کا قیمتی تزویراتی علاقے پر بھارت کے نئے نویلے قبضے کی حزیمت منسلک ، سندھ میں علیحدگی وقومیت پرست تحاریک اُٹھ چکیں، چاروں کونوں سے مصیبتیں ۔حد یہ کہ پیپلز پارٹی کا اپناوزیر اعلیٰ ممتاز بھٹو سر پرست اعلیٰ بن چکا تھا۔کئی رہنماؤں کے قوم پرستوں اور علیحدگی پسندوں سے گٹھ جوڑ تھے۔ذوالفقار علی بھٹو نے کمال مہارت اور سیاسی عاقبت اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ممتاز بھٹو کو سندھ سے نکال کر مرکز میں وزیر مواصلات لگا دیا ۔ممتاز بھٹو کی یہ رنجش آج تک دور نہ ہوئی۔اگر کوئی شک شبہ ہوتو ڈاکٹر صفدر محمود سے ،جو اس وقت IB کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سیل کے ڈائریکٹر تھے، معلوم کر لیں۔انکی نگرانی میں ڈاکٹر طاہر امین ( سابقہ وائس چانسلر BZU) کی مرتب کردہ رپورٹ پڑھ لیں۔ کاش ڈاکٹر صفدر محمود اپنے انٹیلی جنس بیورو کے زمانے کی تحقیقی و تفتیشی دستاویزات شائع کر پاتے۔

بھٹو سے یہ کریڈٹ بھلا کون چھین سکتا ہے کہ شکست و ریخت سے اٹی قوم ،اتحاد و تنظیم قصہ پارینہ ،یقین مُحکم متزلزل،93ہزار فوجی و سویلین کئی ماہ سے بھارتی قید وطنی خواری،ذلت، رسوائی ساتویں آسمان پر۔ بھٹو نے سندھ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کا قلع قمع کیا۔ دسمبر کا مہینہ عظیم قائد کا یوم پیدائش،جشن کیا مناتے ؟ پاکستان کی دو لختگی کی یاد درد ناک،میرے لئے یہ یاد، عذاب جان ۔APSکا واقعہ بھی دسمبر میں ہوا۔سیکورٹی پیرا ڈائم، KPپولیس ریفارمز ،ہماری چوکسی، خبرداری، سب تہس نہس رہے ۔ قاتل نامعلوم،حکومت، ادارےکسی کان پر جوں نہ رینگی۔کس کے ہاتھ پر وطنی لہو تلاش کروں؟ وزیر اعظم پاکستان کمان کے سارے تیر سندھ پر وار کر چکے۔ ’’سندھ کی چیخیں ‘‘ سننے پر مصر و متمنی ۔شکر ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر صورتحال کی سنگینی ،سیاسی مضمرات کا جائزہ لیا گیا کہ سال کے آخری دن ٹھنڈ پڑ گئی۔پچھلے دنوں لندن سے انتہائی قریبی ترقی پسند دوست علی جعفر زیدی تشریف لائے۔جب بھی تشریف لاتے ہیں،ترقی پسند دوستوں کی محفلیں جم جاتی ہیں۔ترقی پسندانہ خوابوں کی دنیا میں سیر کرنے کا کما حقہ موقع ملتا ہے۔چند روز پہلے بذریعہ زیدی صاحب معلوم ہوا کہ بہت پرانے دوست ، محقق،تاریخ دان ، علوم پاکستان کے ماہر ڈاکٹر سکندر حیات کی ایک کتاب کی افتتاحی تقریر ایف سی کالج یونیورسٹی ساؤتھ ایشین ڈیپارٹمنٹ زیر صدارت نابغہ روزگار ،پُر مغز، ماہر بین الاقومی امور عزیز دوست ڈاکٹر سعید شفقت منعقد ہو ا چاہتی ہے۔ڈاکٹر سکندر حیات کو ملے عرصہ بیت چکا تھا، کتاب سے زیادہ انکو ملنے کا جذبہ و شوق۔ڈاکٹر سکندر حیات اوائل زندگی جب دوست بنے تو ترقی پسند وںکے جلو میں پایا، ترقی پسند ہونے کا حسن ظن تھا۔ آج ۔ان کی تحریریں،بالکل برعکس۔ ڈاکٹر صاحب نے ساری زندگی قائد اعظم اورتحریک پاکستان پر لاجواب تحقیقی شاہکار کی جستجو اور تحریر میںغرق رکھی۔آکسفورڈ پریس کی شائع کردہ THE CHARISMATIC LEADER کتاب ایک عرصہ پہلے ضبط تحریر میں آچکی تھی۔کتاب کے اندر کمی بیشی کو دیانتداری سے قبول کیا۔ نئے روپ اور زاویوں سے ترامیم ،اضافے اور ترتیب دی ۔تقریباً نئی کتاب لکھ ڈالی ۔ڈاکٹر سکندر حیات کی تحقیق،حوالہ جات،ریفرنس پوائنٹس میں جتنی وسعت دیکھی ، عظیم قائد پر کوئی اور کتاب شاید ہی قریب پھٹک پائے۔ڈاکٹر صاحب کی تحقیق و تحریر کا محور ایک ہی، عظیم قائد کی شخصیت کے کرشماتی پہلو کوفلسفہ ،سوشیالوجی اور علم سیاسیات کی منطق پرپرکھنا تھا۔فلسفیانہ بنیاد پر استوار کیا۔

اس کاوش میں 1937تا1948 کا تفصیلی جائزہ اور پہلے کے ادوار کا سرسری احاطہ کیا۔ہندوستان کے معاندانہ معروضی حالات،انگریز اور ہندو لیڈر شپ کا متحدہ ہندوستان پر ایکا، مسلمانوں کی اپنی کسمپرسی،افراط تفریط،سکہ بند علماء کا دو قومی نظریہ کی مخالفت اورقائد اعظم کا ان ساری مخالفتوں سے اکیلے نپٹنا،ڈاکٹر صاحب نے عظیم قائد کا کرشماتی کارنامہ گردانا ہے۔دوسری جنگ عظیم اور انگریز گاندھی چپقلش سے بروقت فائدہ اُٹھانا،سیاسی زیرک پن ،سب کچھ کتاب میں درج ہے۔ڈاکٹر صاحب نے عظیم قائد کو تاریخ سیاست کا عظیم ترین کرشماتی لیڈر ثابت کرنے کے لئے جرمن SOCIOLOGIST میکس ویبر کا فلسفہ استعمال بھی کیا اور پھر اسکو چیلنج بھی کیا۔بلا شبہ کارل مارکس کے بعد MAX WEBER سے بڑا SOCIOLOGIST شاید کوئی تیسرا نہ ہو۔میکس ویبر کا اصل کارنامہ کرشمائی لیڈر کی اداراتی تعمیرو ترقی میں رول ا و ر بیوروکریسی کا جدید نظام متعارف کروانا تھا۔ یقین ہے اگر عظیم قائد کو چند سال مل جاتے آئین، ملٹری، سول بیوروکریسی کے ادارے ایک لڑی میں پرو جاتے،اقتدار کی چھینا جھپٹی کبھی جنم نہ لے پاتی۔عظیم قائد بین ہی میکس ویبر کے بتلائے اصول کے مطابق اداروں کو مظبوط و مستحکم بھی بنا جاتے۔عظیم قائد پلک جھپکتے سیاستدانوں ،افواج پاکستان ،سول بیوروکریسی کوحدود و قیود بتلائے گئے ،نافذ کر جاتے۔آئین، زبان،نظریہ کے رہنماء اصول وضع کر گئے۔

حاصل مطالعہ ، ڈاکٹرسکندر حیات کی کتاب ایک قیمتی تحقیقی دستاویز ہے۔پڑھنے کے ساتھ ساتھ مجموعہ کتب کو چار چاند لگانے کے لئے کافی سے زیادہ۔