آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کی سیاست کا ڈھول بے سُرے انداز میں بج رہا ہے۔ اس ہی کے کارن عوام بے زاری کے ساتھ جمہوریت کی موسیقی گزشتہ چند سال سے سن رہے ہیں۔ اقتدار کے مرکز اسلام آباد میں لوگ جوڑ توڑ کے آزمودہ کھیل کو بڑی سیاسی ہوشیاری کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ اعلیٰ ملکی قیادت عدلیہ اور قانون کو خاطر میں نہیں لاتی بلکہ اصول اور قانون کو نظر انداز کر کے اپنی طاقت کا احساس دلایا جاتا ہے۔ یہ روش صرف مرکزی سرکار کی نہیں۔ اس میں ملک کے باقی صوبے بھی شریک ہیں۔ وہ اس حبس زدہ سیاسی پانچ سالہ میچ میں ہر نوبال پر مرکز کے خلاف اپیل کر کے اپنا زور شور دکھانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ ہمارے اس سیاسی کھیل جمہوریت کی خوبصورتی اور جمہوریت ایک بہترین انتقام کے ریفری کچھ ملک کے اندر اور کچھ باہر کے ہیں۔ اس پانچ سالہ میچ کے تماشائی بے زار اور اب تو کھلاڑی بھی تھکے تھکے نظر آ رہے ہیں مگر میچ جاری ہے۔ بقول ہمارے مہرباں اور قدر داں دوست ملک امریکہ کے بھی Game Still going on
چاروں صوبوں کے گورنر جو مرکز اور صدر کی نمائندگی کرتے ہیں مرکز اور صدر کو اندر کی بے چینی سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ بڑے صوبے پنجاب کے صوبے دار صاحب بہادر آنے والے دنوں کے کھیل کی تیاری بڑی جانفشانی سے کر رہے ہیں۔ اس بار اس تیاری میں ان کا پورا پری وار بھی شریک سفر ہو گا۔ پہلے تو سستی روٹی کا

منصوبہ سامنے لایا گیا تھا اور ساتھ ہی متروک منصوبہ پیلی ٹیکسی کو دوبارہ آزمایا جا رہا ہے۔ ایسے جز وقتی منصوبے عموماً سیاسی جماعتیں نہیں بناتی۔ ایسے منصوبے نوکر شاہی کے شاطر دماغ میں پلتے ہیں۔ پھر مناسب اوقات کار کے مطابق ان کا تذکرہ سیاسی لوگوں کے کلب میں شروع ہوتا ہے۔ ان منصوبوں پر نگرانی نوکر شاہی کی ہوتی ہے۔ وہ ایسے کرتب گزشتہ کئی سال سے دکھا رہی ہے، ان کا اس سے پہلے آخری تماشا پڑھا لکھا پنجاب تھا۔
ہماری سیاسی اشرافیہ کسی بھی آئینی اور قانونی نظام کے تابع نظر نہیں آتی۔ سو عیار نوکر شاہی ریڈی میڈ منصوبے تیار کروا کے کم وقت میں عوام کے دلوں میں اترنے کی کوشش میں قانون اور قوائد کو نظر انداز کر کے اپنا جال بن لیتی ہے۔ اس سارے گورکھ دھندے میں سیاسی لوگ اور نوکر شاہی مکر اور فریب کی سرمایہ کاری کر کے خوب کما بھی لیتے ہیں۔ جب ان کا پردہ فاش ہونے لگتا ہے تو بدنامی کا داغ ایک دوسرے پر ڈال کر منصوبہ بند کر دیا جاتا ہے یا پھر نیب سے اپنی صفائی کے لئے مدد مانگ لی جاتی ہے۔
اس جمہوری سرکار کے دور میں پختونخواصوبے والوں نے فاٹا پر خاصی نظر رکھی۔ بیرون ملک مہربانوں نے فاٹا میں ترقی کے لئے خاصی بڑی رقم دی اور ساتھ ساتھ ان کی مشاورت بھی تھی۔ مگر نتیجہ بڑا مایوس کن۔ وہاں پر حکمراں جماعت ترقی کے لئے کچھ زیادہ نہ کر سکی۔ مگر ہماری نوکر شاہی کی ہوشیاری کی وجہ سے امریکی دوست خاصے خوش نظر آئے اور پختونخوا کی حکمران جماعت امریکہ کی من پسند سرکار ہے۔ ماضی میں یہ جماعت روس کی حمایت یافتہ ہوتی تھی۔ مگر اب دونوں اطراف کے مفادات بدل چکے ہیں۔ صرف صوبے کے عوام لاچار اور بے بس ہیں۔
بلوچستان کا معاملہ خراب اور پُر اسرار بھی ہے۔ وہاں کے نمائندہ لوگ بلوچ عوام کی ترجمانی نہیں کرتے۔ صوبے کی مالی حالت بدانتظامی کی وجہ سے مشکوک ہے۔ وزیر اعلیٰ کا عمومی رویہ عوام دوست نظر نہیں آتا۔ بلوچستان کا کوسٹل ایریا اور سمندری حدود بین الاقوامی سیاست میں بہت اہم ہے پھر ایرانی سرحد کی وجہ سے امریکی اس علاقہ پر خصوصی نظر رکھتے ہیں۔ ان کو بالکل پسند نہیں کہ ایرانی سرکار پاکستان کے ساتھ میل ملاقات رکھے۔ حالیہ دنوں میں صدر پاکستان کا دورہ ایران کی منسوخی بھی امریکی دباؤ کے کارن تھی۔ چلو یہ بھی منظور مگر امریکہ اس کے بدلے دوستی کے نام پر پاکستان کو حیثیت یا اہمیت تو دے۔ مگر آج کل امریکہ کی اندرونی سیاست بھی دباؤ کا شکار ہے اور خارجہ کے معاملات امریکی فوج کی نگرانی میں چلائے جا رہے ہیں۔ بلوچستان کا کافی بڑا علاقہ نوگو ایریا ہے۔ وہاں پر ہمارے میڈیا کی بھی رسائی نہیں۔ فوج بلوچستان میں کسی حد تک ترقی میں شامل ہے۔ مگر برا ہو سیاست کا جو اپنی من مانی کے لئے عوام اور عدلیہ کو نظر انداز کر رہی ہے بلوچستان کے اسمبلی کے نمائندے عوام کی ترقی کے نام پر صوبے کے مفادات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ قومی دھارے کی تمام سیاسی جماعتوں کو بلوچستان کے لئے مثبت کردار بڑا ضروری ہے۔
سندھ کے معاملات ایم کیو ایم اور سندھی قوم پرست جماعتوں کی وجہ سے گرم سرد ہیں۔ کراچی کا امن مسلسل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کی مدد کرنی چاہئے۔ ایم کیو ایم گزشتہ کئی سالوں سے کراچی پر حکومت کر رہی ہے۔ مگر عوام کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سیاسی معذور دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ میں صوبے کی تقسیم کی باتیں اب تمام فریق کھلے عام کر رہے ہیں۔ ایسے میں سیاست کرنی تمام جماعتوں کے لئے مشکل ہو رہی ہے۔
ادھر مرکز میں پاکستان کے عوام کو خوش کرنے کے لئے اسلام آباد کے منتری اور صوبے کے لاٹ صاحب بہادران آئے دن کوئی نہ کوئی نوید سناتے رہتے ہیں۔ کبھی پنجاب میں مزید صوبوں کی نوید، پختونخوا میں ہزارہ صوبہ کی بات۔ سندھ میں حلقہ بندیوں کی سیاست، بلوچستان میں وسائل کی تقسیم کے معاملات آنے والے اگلے الیکشن میں اہم حیثیت کے حامل ہوں گے۔ ہماری کسی بھی سیاسی جماعت کے منشور میں ان معاملات پر توجہ نہیں ہے۔ ایک بے نظیر سپورٹ پروگرام چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی کی عوام میں سرمایہ کاری ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں