آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خضر حیات گوندل، لاہور

العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کو نیب عدالت اسلام آباد کی جانب سے سات سال کی سزا اور بھاری جرمانے کے بعد گرفتار کیا جا چکا ہے اور اب وہ سنٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور میں قید ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب و صدر مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف بھی نیب کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں اور پروڈکشن آرڈرز کے نتیجے میں قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شامل ہو رہے ہیں اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔ نیب عدالت اسلام آباد کے فیصلے کے بعد نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا بڑھانے کے لئے اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ میاں نواز شریف کی طرف سے سزا کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اس طرح اب گیند اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہے۔ مگر اس بات سے سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو سنائی گئی اس سزا کے سیاسی منظر نامے پر گہرے اور دوررس اثرات پڑیں گے۔ اس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ شریف فیملی کی سیاست کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ اگر حمزہ شہباز اور مریم نواز شریف نے سمجھ داری سے کام لیا تو پھر شاید وہ مسلم لیگ (ن) کو سنبھالا دے سکیں مگر اب تک اس میں وہ خاطر خواہ کامیاب دکھائی نہیں دے رہے۔ 30دسمبر کو مسلم لیگ کے یوم تاسیس پر ایک کمزور تقریب کے انعقاد سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے منظر نامے سے پیچھے ہٹنے سے معاملات کا رخ کیا ہے۔ میاں نواز شریف کو سزا سنائے جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کا ردعمل مایوس کن تھا جس سے صورتحال کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنمائوں میں سے سوائے مریم نواز کے کسی کی طرف سے کوئی قابل ذکر ردعمل سامنے نہ آنا معنی خیز ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں سیاسی سرگرمیاں ماند پڑ رہی ہیں یہ وہی شہر لاہور ہے جہاں پر مسلم لیگ (ن) کی مین قیادت کے باعث تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ بھرپور سرگرمیاں رہیں۔ مگر اب سیاسی افق پر ہُو کا عالم ہے۔ لے دے کر نمبر ٹانکنے والے چند بیانات آتے ہیں یا ٹی وی پروگراموں میں بحث مباحثے ہیں۔ حمزہ شہباز کے ساتھ ساتھ اب ایک مرتبہ مریم نواز کے ٹویٹس اور بیانات رک گئے ہیں جس سے مسلم لیگ (ن) کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ خواجہ سعد رفیق ہر مشکل وقت میں مسلم لیگ (ن) کے ہراول دستہ کے آگے آگے رہے ہیں مگر اب وہ بھی اپنے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے ساتھ نیب کی حراست میں ریمانڈ پر ہیں جس سے مسلم لیگ (ن) اندرونی طور پر گھبراہٹ اور بددلی کا شکار لگتی ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) نے پہلے بھی مشکل وقت دیکھے ہیں مگر اس مرتبہ مصائب نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے جن سے چھٹکارا آسان نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو آئے ہوئے چار ماہ ہونے کو ہیں مگر کاغذی جمع تفریق اور بیان بازی کے علاوہ ابھی کوئی کام ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ اداروں اور محکموں کا یہ حال ہے کہ فائلوں پر دستخط کرتے ہوئے بیورو کریسی خوفزدہ ہے۔ چھوٹے چھوٹے اور معمول کے کاموں میں بھی غیرمعمولی تاخیر ہو رہی ہے۔جہاں پر بیورو کریسی ہچکچاہٹ کا شکار ہے وہاں پر محکموں کے ٹیکنیکل لوگ اپنے اپنے محکموں کے وزراء کو اپنے پیچھے لگانے میں کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور وزراء تباہی کے اصل ذمہ دار اس طبقہ پر ایک مرتبہ پھر نہ صرف اعتماد کر رہے ہیں بلکہ ان سے ہی پالیسیاں بنوا رہے ہیں سوائے ایک دو صوبائی وزراء کے باقی آج بھی پہلے قدم پر کھڑے ہیں۔ وہ سابقہ حکومت کی ایسی پالیسیوں کو اس لئے اپنانے کو ذہنی طور پر تیار نہیں ہیں کہ وہ سابقہ حکومت کی پالیسیاں تھیں اور ناقص پالیسیوں سے چھٹکارے کے لئے اور نئی عوامی پالیسیوں کے بنانے سے عاری ہیں جس سے عوام کی مایوسیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ افسر شاہی اپنے وزراس کو سب اچھا کی رپورٹ دے رہی ہے جبکہ وزراء ’’اوپن ڈور‘‘ پالیسی کے تحت ملنے والی معلومات سے مناسب استفادہ نہیں کر پا رہے۔ پچھلے دنوں چند محکموں کی طرف سے آئندہ کے لئے بنائی جانے والی پالیسیوں کے حوالے سے بریفنگز میں شرکت کا موقع ملا تو یہ جان کر دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ جن لوگوں نے ماضی میں ناکام ترین پالیسیاں بنائیں اور ان کی وجہ سے آج ہم اس تباہی کے دہانے پر ہیں، وہی لوگ پھر رہبر بنے بیٹھے ہیں اور ان کے ’’چج چالوں‘‘ میں بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی۔ پالیسیاں بناتے ہوئے اصل سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا تو دور کی بات ہے ان سے پالیسی سازی کے عمل کو خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ اپنی صلاحیت اور کارکردگی کو سب سے بہتر بنا کر پیش کیا جا سکے۔ ایک محکمے نے تو حکومت کو آئندہ کے لئے ایسی پالیسی بنا کر دی ہے جس سے اس کی اپنی بنائی ہوئی پالیسی کی نفی ہو رہی ہے مگر سب اس پر تالیاں بجا رہے ہیں۔ محکموں کے نام لے کر بتانے سے چونکہ یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید کوئی ذاتی مفادات ہیں اس لئے صرف اشارے سے بات کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے جنوبی پنجاب (بہاولپور) میں پنجاب کابینہ کا اجلاس اور صوبائی سیکرٹریوں کو چند دن بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں موجود رہنے کے احکامات سے مسائل حل نہیں ہو سکتے اس لئے شاید مسائل میں کمی تو نہ ہو مگر اضافہ ضرور ہو سکتا ہے۔ اس سے اشک شوئی کے علاوہ کچھ حاصل ہونے کی امید نہیں ہے البتہ اس اقدام سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ ضرور پڑا ہے جس سے بچا جا سکتا تھا۔ ہر وزیر اور سیکرٹری کے ساتھ دیگر عملہ کے ٹی اے/ڈی اے اور ان کے سیکورٹی کے انتظامات پر بھاری مالی اخراجات کرنے کی بجائے صرف وزیر اعلیٰ خود ہی دورہ کر کے مسائل سے آگاہی حاصل کرتے اور پھر اس پر لاہور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس میں غور کیا جا سکتا تھا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں