آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ شوال المکرم 1440ھ 19؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تقریباً پچاس سال پہلے بارہ امریکی خلا بازچاند پر گئے تھے۔اس کے بعد ایک بھی نہیں گیا۔اُس وقت اِس کارنامے کوانسانیت کی اہم ترین کامیابی قرار دیا گیا۔چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دکھائے اور سنائے گئے۔اسے انسان کی سب سےبڑی چھلانگ کہاگیا۔کچھ امریکی اخباروں نے تواسے امریکہ کی ایک نئی ا سٹیٹ کا درجہ بھی دے دیا تھا۔چاند سےلائی گئی مٹی پر یونیورسٹیوں میں تحقیقی کام کرائے گئے تھے۔ہمارے مرحوم شاعر دوست ڈاکٹر سعید اختر درانی نے بھی چاند کی مٹی پر کام کیا تھا۔وہ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔اُن کے بارے میں کہا جاتا تھا ’’یہ چاند نہیں چاند کی مٹی کے ہیں عشاق ‘‘۔امریکیوں کی چاند نوردی کے بعد چاند کی اہمیت کو چار چاند لگ گئے تھے۔مگر رفتہ رفتہ چاند کے آباد ہونے کی امید کم ہوتی گئی۔لوگوں کا ’’ چاند گردی‘‘ پراعتماد بھی متزلزل ہونے لگا۔اہل ِ دانش کے ایک طبقے نے کہا کہ امریکی چاند پرنہیں گئے،یہ سب زمین پر کسی ہالی وڈ فلم کی طرح فلمایا گیا تھا۔ناسا کے اِس دعویٰ پر کچھ اِس طرح کے اعتراضات کئے گئے کہ ’’چاند پر ہوا نہیں مگر ویڈیوز میں امریکی پرچم لہراتا دکھائی دیتا ہے ‘‘۔’’آسمان میں ستارے نظر نہیں آرہے۔ ‘‘۔ ’’تصاویر میں سایوں کی مختلف سمتیں نظر آ رہی ہیں ‘‘۔’’چاند سے واپس آتی چاند گاڑی کی تصویر کس نے لی؟کیمرے تو خلا بازوں کے پاس تھے‘‘۔ناسا والوں نے اپنے طور پر ہر سوال کا جواب دینے کی بھرپور سعی کی مگر نکتہ چیں حضرات کی تشفی نہ ہو سکی۔سو یہ بحث جاری ہے کہ کیا انسان نے چاند پر پائوں رکھا ہے یا نہیں۔ دونوں طرف سے دلائل بڑے مضبوط ہیں سو یقین سےکوئی بات نہیں کی جا سکتی مگر اب پہلی بار یہ فیصلہ ہونے جارہا ہے کہ کیا امریکی دعویٰ درست تھا یا دنیا بھر کے لوگوں کو بے وقوف بنایا گیا تھا۔کیونکہ چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے مطابق خلائی جہاز چاند کے مدار میں 80میل اندر تک داخل ہوچکاہے اور چند دنوں میں چاند کی سطح تک پہنچ جائے گا۔اب دیکھتے ہیں کہ چین کے چاند اور امریکہ کے چاند میں کتنا فرق ہے۔امریکہ کے چاند تو خیر اکثر بدلتے رہتے ہیں ابھی چنددن پہلے امریکی صدر کوپاکستانی چاند بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔اس نے پاکستان کے خلاف ٹویٹ کرنے کااحمقانہ عمل بھی کیاجس کا پاکستانی چاند نے ترکی بہ ترکی جواب بھی دیا۔کل صدر ٹرمپ نے اسی چاند یعنی عمران خان سےملنے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔عمران خان پاکستان کے وہ وزیر اعظم ہیں جنہوں نے وزیر اعظم بننے کے بعد امریکہ کا دورہ کرنے کے مشورے کو درخور اعتنا نہ سمجھا تھا۔پاکستانی امریکی ایجنٹ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے تھے۔پاکستان میں ہزاروں امریکی ایجنٹ ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ننانوے فیصد بغیر تنخواہ کے کام کرتے ہیں۔امریکہ سے ویسے ہی انہیں عشق ہے۔انہیں امریکہ کا اسٹیچو آف لبرٹی بہت پسند ہے۔ اسٹیچو تو ویسے ہی درمیان میں آ گیا ہے اصل قصہ لبرٹی کا ہے۔مکمل لبرٹی۔لبرٹی اچھی چیز ہےمگر اس کی بھی حدود ہیں اس وقت پاکستان میں بھی ان ہی حدود کی جنگ جاری ہے۔جب سےعمران خان کی حکومت آئی ہے۔وزارت ِ خزانہ کی لبرٹی مارکیٹ کا حساب کتاب شروع ہو گیا ہے۔ ’’حدود‘‘ سے باہر نکلنے والوں پر حدود کے مقدمات قائم ہونے لگے ہیں۔بے نامی اکاونٹس کی حدود تک پہنچنےوالے خاصے پریشان ہیں۔

عمران خان اب اگر امریکہ جاتے ہیں تو دیکھنا یہ ہو گاکہ امریکی انہیں کتنا پروٹوکول دیتے ہیں۔صدر ایوب جب امریکہ گئےتھے تو امریکی بچوں کو امریکیوں نے ہاتھوں میںجھنڈیاں پکڑا کر استقبال کیلئے کھڑا کیا تھا۔عمران خان کےلئے ہم اس سے کم پروٹوکول پر راضی نہیں ہونے والے۔ کیونکہ یہ تو وہ پروٹوکول ہے جو وزیر اعظم بننے سےپہلے بھی انہیں پاکستان میں ملتا تھاحتیٰ کہ کبھی کبھار وہ اگر قومی اسمبلی چلے جایا کرتے تھے تو سب کی حیثیت صفر ہو کر رہ جاتی تھی۔ ساری آنکھیں عمران خان کی طرف مرکوز ہوتی تھیں۔ سارے اشارے انہی کی طرف ہو رہے ہوتے تھے۔ہاں ایک مسئلہ ہے کہ عمران خان خود پروٹول کو پسند نہیں کرتے مگر یہ تو پاکستانی وزیر اعظم کی عزت کو بحال کرنے کا معاملہ ہے۔پاکستانی عوام کیا یاد کرے گی کہ اسے کیسے کیسے وزیر اعظم نصیب ہوئے ہیں۔راجہ پرویز اشرف اورشاہد خاقان عباسی تووہ انتہا ئیں ہیں جسے شاید صدیوں تک کوئی نہ چھو سکے۔ویسے اس وقت صدر ٹرمپ کو پاکستان آنے کی دعوت دی جانی چاہئے۔اس نے بڑی ہمت سے کام لیا ہے۔ پینٹاگون کے نہ چاہتے ہوئے بھی شام اور افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔یہی اعلان باراک اوباما نے بھی امریکی صدر بنتے ہی کیا تھا مگر اپنے رنگ اور اپنے باپ کے مذہب کی وجہ سےوہ پینٹاگون کےمقابلے میں کھڑانہیں ہوسکاتھا جبکہ صدر ٹرمپ ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں۔صدر ٹرمپ سے پہلے پینٹاگون کے سامنے صدر کینیڈی کھڑا ہوا تھا۔ چاندکے کسی بھی کونے میں پڑی ہوئی سوئی ڈھونڈھ لینے کا دعویٰ کرنے والی امریکی آج تک اُس بیچارے کا قاتل تلاش نہیں کر سکے۔ پینٹاگون کےلئے اس سے زیادہ تکلیف دہ بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ صدر ٹرمپ نے افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کو جائز قرار دیا۔ یعنی افغانستان میں امریکہ نے ماضی میں جو کچھ کیا وہ سب غلط کیا۔ سنا ہے صدر ٹرمپ کئی مرتبہ امریکیوں سے پوچھ چکےہیں کہ ہم نائن الیون کے بعد افغانستان کس مقصد کیلئے گئے تھے۔وہاں کیوں سینکڑوں بلین بلکہ ٹریلین ڈالرزبرباد کر چکے ہیں۔یہ تو نہیں سوچا جا سکتاکہ پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کو افغانستان جانے کا مقصد نہیں بتایا ہوگا مگریہ واضح ہے کہ صدر ٹرمپ کےلئے وہ مقصد کوئی مقصد ہی نہیں۔بالکل اسی طرح کا معاملہ ہے جیسے امریکی پچاس سال پہلے چاند پر گئے تھے اور پھر چاند کو بھول گئے جیسے اب وہ رات کو نکلتا ہی نہیں۔آسمان کے چاند سے تو شاید صدر ٹرمپ کی کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی مگروہ صرف نیلی روشنیوں میں دہکتے ہوئے زمین کےچاند کو دیکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی پاکستانی قیادت سےملنے کی خواہش جیسے ہی بیجنگ پہنچی تو گراں خواب چینی اپنی کرسی پر سنبھل کر بیٹھ گیا۔ لیپ ٹاپ پر اس کی انگلیاں تیزی سے چلنے لگیں۔اس نے لکھاہے کہ امریکہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان سے نہیں نکل سکتا۔ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ نائن الیون کے بعدچین اور روس دونوں چاہتے تھے کہ امریکی فوجیں افغانستان میں آئیں۔ پہلے مجھے اس بات پر یقین نہیں آتا تھامگر اب بات سمجھ آرہی ہے جب امریکی معیشت افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے ٹکرا ٹکرا کر اتنی مخبوط الحواس ہو چکی ہے کہ کچھ مت پوچھئے۔اس کا اندازہ صرف امریکہ میں رہنے والے ہی لگا سکتے ہیں۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ اگر صدر ٹرمپ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے میں کامیاب ہو گیا تو اگلے پانچ سال بھی اسے وائٹ ہائوس سے کوئی نہیں نکال سکتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں