آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میں سال ِ نو 2019ء کااپنا پہلا کالم حضرت خواجہ سیّد محمد معین الدین چشتی المعروف خواجہ غریب نوازکے نام کرناچاہوں گا جنکی آخری آرام گاہ کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کیلئے میں درگاہ اجمیر شریف میں حاضری دے رہا ہوں، میں نے یہاں اپنے پیارے وطن پاکستان کی ترقی و خوشحالی ، علاقائی امن و استحکام اورپاک بھارت دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے خصوصی دعائیںبھی مانگی ہیں۔ راجستھان میں واقع حضرت خواجہ غریب نواز کی درگا ہ اجمیر شریف کو برصغیرپاک و ہند میں موجود بزرگان دین کے مقدس مزارات میں سب سے اہم ترین سمجھا جاتا ہے۔ حضرت خواجہ غریب نواز ایک ایسی قابل احترام شخصیت ہیں جن کے ماننے والے ہر مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، ایک محتاط اندازے کےمطابق روزانہ ایک لاکھ پچاس ہزار عقیدت مند درگاہ اجمیر شریف کی زیارت کرتے ہیں اور مختلف نوعیت کی دعائیں مانگتے ہیں۔مجھے درگاہ اجمیر شریف میں مختلف مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے زائرین سے تبادلہ خیال کرنے کا بھی موقع ملا جن میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی، بدھ مت سے تعلق رکھنے والے بھی شامل تھے، زیادہ تر پاکستانی زائرین کو ویزےکے مسائل کا تذکرہ کرتے پایا۔درگاہ اجمیر شریف میں غیرمسلم زائرین بھی مسلمانوں کی طرح چادریں، پھول اور نذرانے پیش کرنے میں آگے آگے ہوتے ہیں اور اپنی بے پناہ عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی ولادت سیستان میں کھاتے پیتے گھرانے میں ہوئی لیکن انہوںنے تمام مال و اسباب فروخت کرکے غریبوں میں تقسیم کردیا اورحق کی تلاش میں غریب الوطنی راہ اختیار کی، اپنے طویل سفر میں ظاہری اور باطنی علوم کی تکمیل کی، بغداد میںبھی مقیم رہے اورحج وعمرہ بھی کیا ۔سمرقند، بخارا،خراسان، وسط ایشیا کے مختلف علاقوں میں اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے آخرکار ہندوستان کو اپنا وطن بنایا، پہلے لاہور میں حضرت داتا گنج بخش کے مزارپر چلہ کشی کی، بعدازاں ملتان میں بھی کچھ وقت گزارا، پھر دہلی سے ہوتے ہوئے سرزمین اجمیر کو اپنا مستقل مسکن بنالیا، روایات کے مطابق خواجہ صاحب نے کم و بیش چالیس برس اجمیر شریف میں قیام کیا۔حضرت خواجہ غریب نوازکو انکے مرشد خواجہ عثمان ہارونی نے نصیحت کی تھی کہـ اے معین الدین! اب تم نے فقیری اختیار کرلی ہے، اس کا تقاضا ہے کہ فقیروں کی طرح اعمال کرو مثلاََ غریبوں سے محبت ، ناداروں کی خدمت ، برائیوں سے اجتناب ، مصیبت اور پریشانی میں ثابت قدمی کا مظاہرہ۔ حضرت خواجہ غریب نواز نے ساری زندگی نہ صرف اس نصیحت پر خود عمل کیا بلکہ اپنے ماننے والوں کو بھی ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہوکر خدمتِ انسانیت کا درس دیا۔ خواجہ صاحب سادگی کے قائل تھے ، وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ انسان کیلئے اصل اہمیت ظاہرداری کی نہیں بلکہ نیک اعمال کی ہونی چاہئے،یہی وجہ ہے کہ خواجہ غریب نواز کے اعلیٰ اخلاق ، برداشت اور رواداری پر مبنی رویہ نے لاکھوں انسانوں کو آپ کا گرویدہ بنادیا۔خواجہ صاحب برصغیر میں روحانی سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں، آپ قطب الدین بختیار کاکی، بابا فرید الدین گنج شکر اور نظام الدین اولیاء جیسے عالی القدر پیرانِ طریقت کے مرشد ہیں،غریبوں سے خاص شفقت اور بندہ پروری کرنے کی بناء پر عوام نے آپ کو غریب نواز کا لقب دیا ۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے بارے میں زبان زدعام ہے کہ وہ برصغیر کے طول وعرض پر پھیلے روحانی امور کے انچارج ہیں، اسلئے انہیں سلطان ہند بھی کہاجاتا ہے۔درگاہ اجمیر شریف پر چادر چڑھانے کی روایت گزشتہ آٹھ سو سالوں سے جاری ہے، کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے سلطان التمش نے یہاں چادر چڑھائی، مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے جاہ و جلال کے سامنے پورا ہندوستان سرنگوں تھا لیکن وہ خود خواجہ غریب نواز کے در پرفقیروں کی مانند حاضری دیتاتھا، تاریخ میں درج ہے کہ اولادِ نرینہ کی خاطر اکبر بادشاہ نے پیدل ننگے پائؤں درگاہ اجمیر شریف پہنچ کرسب کے سامنے سوالی کی طرح ہاتھ پھیلائے،اکبرہر جنگ میں جانے سے پہلے اور کامیابی کے بعد یہاں حاضری دینا کبھی نہ بھولتا، اکبربادشاہ کے بعد جہانگیر تخت نشین ہوا تو وہ بھی خواجہ معین الدین چشتی کا سچا عقیدت مند ثابت ہوا، اسی طرح اورنگ زیب عالمگیرباقاعدگی سے پیدل اجمیر شریف حاضری دیتا، برصغیر پر جب انگریزقابض ہوئے تووہ بھی خواجہ غریب نواز کے روبرو پیش ہوتے، ملکہ برطانیہ میری ہر سال باقاعدگی سے درگاہ پر چادر چڑھانے کیلئے بھیجا کرتی، وائسرائے لارڈ کرزن نے خواجہ صاحب کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایک ایسا بزرگ دیکھا ہے جو اپنی وفات کے بعد بھی ہندوستانیوں کے دِلوں پر راج کرتا ہے ، انگریزوں کے جانے کے بعدمقدس درگاہ کو درگاہ خواجہ صاحب ایکٹ 1955ء کے تحت راجستھان حکومت کی تحویل میں دے دیا گیا۔ درگاہ اجمیر شریف پر انڈیاکے تقریباََ ہر حکمران نے حاضری دی ہے ، پاکستانی حکمرانوں میں ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے بھی درگاہ اجمیر شریف میں حاضری دی، بے نظیر بھٹوشہید کے بارے میں مشہور ہے کہ جب آصف زرداری جیل میں قید تھے تو انہوں نے اجمیر شریف آکر رہائی کی منت مانی تھی اور جب زرداری صاحب کو رہائی نصیب ہوئی تو محترمہ انہیں لیکر یہاں آئیں، موجودہ وزیراعظم عمران خان نے بھی پندرہ برس قبل درگاہ اجمیر شریف کا دورہ کیا تھا، انڈیا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کانگریس اور بی جے پی کے رہنماؤں کے مابین تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود درگاہ اجمیر شریف پر چادر چڑھانےپر مکمل اتفاق ہے۔پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے حکمرانوں کی جانب سے بھی مقدس درگاہ کیلئے چادر بھیجی جاتی ہے، امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے دور اقتدار میں خواجہ معین الدین چشتی کے عرس کے موقع پر خصوصی طور پر درگاہ کیلئے چادر بھیجی، یہ کسی بھی جنوبی ایشیا سے باہر کے سربراہ حکومت کی طرف سے پہلا نذرانہ عقیدت تھا ۔درگاہ اجمیر شریف میں حاضری کے دوران مجھے وہاں نصب دو بڑی دیگوںمیں نذرانہ ڈالنے کا شرف بھی حاصل ہوا، بڑی دیگ مغل بادشاہ اکبر کے نام سے منسوب ہے جس میں ایک سو بیس من غذاپکائی جاسکتی ہے جبکہ جہانگیر بادشاہ سے منسوب دیگ میں ساٹھ من غذا پکائی جاسکتی ہے، یہ دونوں دیگیں درگاہ کے صحن میں نصب ہیں اور اتنی بڑی ہیں کہ زائرین سیڑھیاں چڑھ کر دہانے پر پہنچتے ہیں۔خواجہ کی نگری اجمیر شریف پاکستان کے صوبہ سندھ سے ملحقہ ریاست راجستھان میں واقع ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہر پاکستانی ہندو اور مسلمان کی دِلی خواہش ہے کہ وہ ایک باردرگاہ اجمیر شریف کی زیارت ضرور کرے ۔ وزیراعظم عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو روحانیت اور خدمتِ انسانیت سے خاص لگاؤ ہے، وہ بابا فرید گنج شکر کے پاک پتن میں واقع مزار کا دورہ کرتے رہتے ہیں، اسلئے میںوزیراعظم صاحب سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ وہ بابا فرید الدین گنج شکر کے مرشد خواجہ غریب نواز کی درگاہ اجمیر شریف پر بھی حاضری دیں جہاںسینکڑوں سال سے فیض عام جاری ہے۔ پاکستان اور بھارت نے گزشتہ ستر سالوں میں جنگیں بھی لڑی ہیں اور ایک دوسرے کی ہر محاذ پر مخالفت بھی کی ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ اب امن کی خاطر خدمت انسانیت کا درس دینے والی مقدس شخصیات کے پیغامِ محبت کو اہمیت دی جائے، میں کرتارپور راہداری کے تناظر میں دونوں ممالک کی حکومتوں سے اپنا یہ مطالبہ دہرانا چاہوں گا کہ دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے اجمیر شریف راہداری بنانے کیلئے مشترکہ اقدامات اٹھائے جائیںتاکہ پاکستانی زائرین بھی خواجہ غریب نواز کی نگری میں بغیر ویزہ حاضری دینے کی سعادت حاصل کرسکیں، اسی طرح اگلے مرحلے میں درگاہ نظام الدین اولیاء دہلی،ہنگلاج ماتا مندربلوچستان، شری آنندپور مندر ٹیری خیبرپختونخوا وغیرہ سمیت دیگر مذہبی مقدس مقامات کی زیارت کیلئے آنے والے یاتریوں کو ویزہ فری سفری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)