آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ سلجوقی حکمرانوں نے وزارتِ خارجہ کے معاملات پر ہمیشہ مولانا جلال الدین رومی سے رہنمائی حاصل کی ۔رومی صرف فقیر اور فقیہ ہی نہیں تھے اپنے زمانے کی بین الاقوامی سیاست پر بھی گہری نظر رکھتے تھے ۔برصغیر کے بادشاہوں سےبھی اُن کی خط و کتابت تھی ۔وہ دین کو حکمرانی سے علیحدہ نہیں سمجھتے تھے۔بیسویں صدی کےمجدد اعظم حضرت علامہ اقبال کی یہ فکر اُنہی کی دین ہے کہ ’’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘۔وہ انہیں اپنا مرشد قرار دیتے ہیں ۔عمران خان بھی اُنہی کےنقشِ قدم پر چلتے ہوئے دین اور سیاست کی یکجا ئی پر ایمان رکھتے ہیں ۔صوفیوں سے رہنمائی مانگتے ہیں ۔یقیناً اسی لئے ترکی گئے تو سب سے پہلے مولاناروم کے پاس قونیہ حاضر ہوئے ان کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور برکتیں حاصل کیں ۔اُس کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے ملے۔اردوان کا شماربھی رومی کے دربار پر رقص کرنے والوں میں ہوتا ہے ۔عمران اور اردوان دونوں نے ایک امام کے پیچھے ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر جمعہ کی نماز ادا کی اورایک ہی طرح کی دعائیں مانگیں ۔کچھ عرصہ پہلے چیف جسٹس ثاقب نثار بھی مولانا رومی کے مزار پر گئے تھے ۔اُن کی دعائیں بھی اُنہی کی طرح کی تھیں ۔ابھی دو تین ہفتے پہلے رومی کے عرس کی تقریب میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے بھی خصوصی شرکت کی تھی۔خیال ہے کہ اُن کی دعائوں میں عالم اسلام اور پاکستان کے ساتھ بلوچستان بھی خصوصی طور پر شامل ہوگا۔ مولائے روم کے پاکستانی مسلمانوں پر بہت گہرے اثرات ہیں ۔ان کی کتاب ’’مثنوی معنوی‘‘ جسے ہست قرآں در زبان پہلوی کہا جاتا ہے ، اسے پڑھنا پرانے زمانے میں ہر ولی عہد کےلئے لازم تھا اب اسے پڑھے بغیر کوئی مولوی نہیں بن سکتا۔ان دنوں امریکہ میں اُن کی شاعری بہت مقبول ہےمگر عمران خان تو بابا فرید کی وساطت سے مولائے روم تک پہنچے ہیں ۔ شایدانہوں نے اپنےدورے کا آغازقونیہ سے اسی لئے کیا۔وہ ساری دنیا کو یہ میسج دینا چاہتے تھے کہ اُن کے راستے میں رومی کا ترکی پہلے آتا ہے اتا ترک کا بعد میں ۔عمران خان نے اتا ترک کے مزار پر بھی پھولوں کی چادر چڑھائی ۔بے شک پاکستانی اور ترک عوام ایک دوسرے کے ہیروز سے محبت کرتے ہیں ۔ترکوں نے بھی اپنی مصروف ترین سڑک کا نام محمد علی جناح کے نام پر رکھا ہوا ہے ۔ ترک اسے ’’جناح جادیسی‘‘ کہتے ہیں۔ پاکستان میں کئی سڑکیں اتا ترک کے نام پر ہیں۔عمران خان کو ظہیر الدین بابر کے بعد ترکی زبان کے سب سے بڑے شاعر یونس ایمرے کے مزار پر بھی جانا چاہئے تھا۔کہتے ہیں اُس مزار پر جا کر دعا مانگنے والا کبھی نامراد نہیں لوٹا۔یہ اُسی کا شعر ہے جسے شاعر مشرق نے اردو زبان کا لباسِ دلنوار عطا کیا تھا

ہر لحظہ نیا طور نئی برق ِ تجلیٰ اللہ کرے مرحلہ ء شوق نہ ہو طے

یہی یونس ایمرے تھا جس نے کہا تھا مجھے مختلف زبانوں کے لفظی و معنوی اختلافات میں الجھا کر مجھ سے میرا کوئی بھائی جد ا مت کرو۔کائنات میں میرے لئے کوئی اجنبی نہیں۔یہ کشادہ دلی ہر دور میں ترک تہذیب کا خاصہ رہی ہے ۔انہوں نے کبھی کسی مسلمان کو خود سے جدا نہیں سمجھا ۔مغربی دنیا کا خیال ہے کہ اس وقت ترک حکومت اور پاکستانی حکومت کے درمیان تعلق کی مضبوطی کے پس منظر میں گولن نیٹ ورک ہے جسے ترکی کے بعد صرف پاکستان نے دہشت گرد قراردیا ہےحالانکہ یہ بات درست نہیں ۔سچ یہ ہے کہ پاکستان اور ترکی کے مراسم میں کبھی سرد مہری آئی ہی نہیں ۔جب بھی ترکی یا پاکستان پر کوئی مشکل وقت آیا دونوں نے ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ۔ جب خلافت ِعثمانیہ کو تباہ کیا جارہا تھا تو برصغیر کے گلی کوچوں میں یہ نعرہ گونج رہا تھا’’بولی اماں محمد علی کی ۔ جان بیٹا خلافت پہ دے دو ‘‘۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید افغانستان کے معاملات میں ترکی اور پاکستان کسی زمانے میں ایک پیج پر نہیں تھے حالانکہ یہ بھی درست بات نہیں ۔پاکستان اور ترکی کے درمیان جتنے فوجی معاہدے ہیں شاید ہی پاکستان کےکسی اور ملک کے ساتھ اتنے ہوں ۔پچھلے سال ترکی اور پاکستان میں ڈیڑھ ارب ڈالر کافوجی معاہدہ ہوا۔ابھی عمران خان کے دورے کے موقع پر ترک صدر نےترک دفاعی نظام میں شامل میزائل پاکستان کو فروخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ہم نے پاکستان سےتربیتی طیارے حاصل کئے ہیں ۔۔ ترک صدر کے خیال میں دوہزار انیس میں ترک پاک تعلقات نئی جہتوں سے روشناس ہونگے ۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھیں اِ س وقت جن دو لیڈروں پر مرتکز ہیں ان میں طیب اردوان ہیں اور دوسرے عمران خان ۔دونوں کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کچھ زیادہ اچھے نہیں ۔دونوں اپنے ممالک کو ریاست ِ مدینہ جیسی ریاست بنانے کےلئے سنتِ محمدی پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔دونوں کے ذہنی افق پر ایک جیسی روشنی ہے ۔ہر ترک حکومت نے مسئلہ کشمیر پر کھل کر پاکستان کی حمایت کی ہے ۔ترک صدر اردوان نے جب دوہزار سترہ میں بھارت کا دورہ کیا تھا اور بھارت کے ساتھ کئی سمجھوتوں پر دستخط کئے تھے تو خیال اٹھا تھا کہ کہیں ترکی مسئلہ کشمیر پراپنا موقف بدلنے کا ارادہ تو نہیں رکھتا لیکن یہ خیال باطل ثابت ہوا ۔ترکی نے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی واضح حمایت جاری رکھی ۔اِسی سبب ترکی کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں زیادہ بہتری نہ آ سکی ۔عمران خان کے دورے کے اعلامیہ میں پھر مسئلہ کشمیر کو شامل کیا گیا ہے اور بھارت پر زور دیا گیا ہےکہ مذاکرات کے ذریعے جموں و کشمیر کا تنازع فوری طور پر حل کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں