آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دکھ کیسے نہ ہو، عوام، عدلیہ، پارلیمنٹ کو بیوقوف بنانے، احتساب عدالت سے سپریم کورٹ تک، قومی اسمبلی سے نیب تک 8فورمز پر جھوٹ بولنے، بچوں کے ساتھ مل کر کرپشن کرنے اور ڈیلی میل کے پینٹ ہاؤس بحری قزاق نواز شریف صاحب لیگیوں کے تاحیات قائد اور شہباز شریف نیب حراست میں ہو کر بھی مسلم لیگ کے صدر، ایک لیگی میں یہ اخلاقی جرأت نہیں کہ کہہ سکے جب تک جیل، نیب کی حراست میں، تب تک تو بخش دو، قائداعظم ثانی نہ بنو۔ دکھ کیسے نہ ہو، بھٹو کی پارٹی کے سربراہ زرداری صاحب، ان کی مبینہ لٹ مار کے سربراہ انور مجید اور زرداری صاحب سے انور مجید تک سب کا دفاع کر رہا ذوالفقار بھٹو کا نواسہ اور بے نظیر بھٹو کا بیٹا، بلاول، پاکستان پیپلز پارٹی اب زرداری پیپلز پارٹی، جہاں ہونا تھا عوامی راج وہاں ہے اومنی راج۔

دکھ کیسے نہ ہو، شہباز شریف پر پبلک منی کے مبینہ کرپشن الزامات اور وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین، حالات یہ، ابھی کل ہی رمضان شوگر مل کیلئے سرکاری پیسوں سے نالہ بنانے کے کیس میں احتساب عدالت کے جج نے نیب پراسیکیوٹر سے جب پوچھا ’’شہباز شریف کہاں، عدالت کیوں نہیں آئے‘‘ تو نیب وکیل نے بتایا ’’چھوٹے میاں اسلام آباد‘‘ جج صاحب حیرت زدہ ہو کر ’’راہداری ریمانڈ میں توسیع کے بنا اسلام آباد، کیسے‘‘، جج صاحب نے کوٹ لکھپت جیل سپرنٹنڈنٹ سے پوچھا ’’شہباز شریف تو تمہارے پاس تھے‘‘ وہ بولے ’’میرے پاس تھے، اب اسلام آباد سب جیل میں اور وہ جیل میرے نہیں اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے ماتحت‘‘ جج صاحب نے جب یہ کہا ’’سب کچھ عدالت سے بالا بالا ہی، کیوں نا شہباز شریف کو بلا کر پو چھا جائے‘‘ تو چھوٹے میاں کے وکیل بولے ’’میڈیکل بورڈ نے کمر درد زیادہ ہونے پر ایک ہفتے کے آرام کا کہہ رکھا، پلیز یہ سختی نہ کریں‘‘ یوں سختی ٹلی، سماعت 10جنوری تک ملتوی ہوئی۔

جمہوری مزے یا جمہوری برکتیں، کوٹ لکھپت جیل کا قیدی لیٹا ہوا منسٹر کالونی کے بنگلے میں، اوپر سے قیدی نے اگلے ماہ پی اے سی کے 6اجلاس بلا رکھے، یہ اجلاس ختم ہوں گے تو قومی اسمبلی کا سیشن بلا لیا جائے گا، جہاں سعد رفیق، شہباز شریف مطلب مل بیٹھیں گے قیدی دو، سیشن ختم ہو گا تو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس بلا لیں گے، یوں یہ سلسلۂ جمہوریت تب تک چلے گا جب تک ضمانت نہیں ہو جائے گی، کیا تبدیلی آئی، یہ روایت تو تھی کہ بھانت بھانت الزامات والے ملزم، وزیر، مشیر لگ جاتے، یہ جمہوری بمپر آفر پہلی بار کہ نیب کا زیر حراست ملزم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین، اب تو استحکامِ جمہوریت کی خاطر جتنی جلدی ہو سکے نواز شریف کو ’لٹی دولت واپس لاؤ‘، آصف زرداری کو ’انسدادِ منی لانڈرنگ‘، جہانگیر ترین کو ’انسائڈ ٹریڈنگ‘ علیم خان کو ’ہاؤسنگ‘، بلاول کو ’کیسے ایک سالہ بچے کو کمپنی سربراہ بنایا جائے‘ کمیٹیوں کے سربراہ بنا دیں، جمہوریت کو چار چاند لگ جائیں گے۔

دکھ کیسے نہ ہو، 5ماہ میں تبدیلی سرکار نے بونگیوں، نالائقیوں کی اخیر کر دی، کبھی خاور مانیکا شرمندگی، کبھی احسن جمیل گجر شرمندگی، کبھی ناصر درانی شرمندگی، کبھی اعظم سواتی شرمندگی، کبھی رزاق داؤد ٹھیکہ شرمندگی تو کبھی فرخ سلیم شرمندگی، وزیروں کا حال یہ، بحیثیت وزیر علی زیدی قوم کو خوشخبری سنائیں ’’فکر نہ کرو ڈالر 145روپے تک جائے گا‘‘، خالد مقبول صدیقی بولے ’’الیکشن میں دھاندلی سے انکار ممکن نہیں اور میں تو ڈاکٹر، مجھے آئی ٹی کی وزارت کیوں دے دی گئی‘‘، سالارِ معیشت اسد عمر تو مایوس ہی نکلے، آخری دموں پر ملی معیشت کا تڑپنا انجوائے کرنا کوئی اسد عمر سے سیکھے، منی بجٹ سر پر، آؤٹ آف کنٹرول ڈالر، بڑھتے قرضے، طاعون بنی مہنگائی، ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی کے بعد گیس لوڈشیڈنگ، تنخواہ دار طبقہ تڑپ رہا، کسان دہائیاں دے رہے، بزنس کمیونٹی مایوس، کرپشن، رشوت، منی لانڈرنگ اور بجلی و گیس چوری میں رتی بھر کمی نہ آئی، ٹیکس نیٹ ورک بڑھانا، ابھی تک باتیں ہی باتیں ، بلاشبہ 5ماہ ہی ہوئے مگر 5ماہ اچھے آغاز کیلئے تو کافی، 5مہینوں میں اچھا آغاز بھی نہ ہو سکا، آگے اللہ خیر کرے۔ باقی مراد سعید سے فیاض الحسن چوہان تک ہر وزیر کسی نہ کسی گربیان سے لٹکا ہوا، خواہ مخواہ کی زباں درازیاں، نیب، عدالتوں کی ترجمانیاں، منتشر اپوزیشن کے ٹریپ میں آکر چڑھائیاں اور پھر پسپائیاں، یاد آیا، عارف علوی فرمایا کرتے ’’صدر بن گیا تو ایوانِ صدر میں نہیں رہوں گا، پروٹوکول نہیں لوں گا‘‘ اب ایوانِ صدر میں رہ رہے، پروٹوکول انجوائے کر رہے بلکہ عمران اسماعیل سے عثمان بزدار تک کل جو پروٹوکول سے بیزار تھے، آج مرچ مسالوں والے پروٹوکول کے مزے لوٹ رہے۔

دکھ کیسے نہ ہو، 11سال پہلے زلزلہ آیا، دنیا بھر سے 5ارب ڈالر کے وعدے ہوئے، پرویز مشرف کے دو سال گزرے، پی پی، ن لیگ کے 10سال نکل گئے، چیف جسٹس بالا کوٹ گئے تو پتا چلا کہ اک باتھ روم بھی نہ بنا، جو پیسے زلزلہ زدگان کیلئے تھے، ان میں سے یوسف رضا گیلانی 56کروڑ ڈالر ملتان لے گئے، 33کروڑ ڈالر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دیئے گئے، زلزلہ زدگان کیلئے بنے محکمے ’ایرا‘ کے افسروں نے گاڑیوں اور دوروں پر جو پیسے اُڑائے وہ علیحدہ، حالت یہ، بے گھروں کیلئے گھر نہیں، بیماروں کیلئے اسپتال نہیں، بچے سخت سردی میں کھلے آسمان تلے ٹھٹھر رہے۔

دکھ کیسے نہ ہو، گزشتہ 11مہینوں میں 2410ملین بدعنوانوں سے نکلوا کر قومی خزانے میں جمع کروانے، مضاربہ اسکینڈل کے 616ملین لوگوں کو واپس کروانے، 179میگا کرپشن اسکینڈلز میں سے 105کو منطقی انجام تک پہنچانے والے نیب جس کے 9سو ارب کے 1210ریفرنسز 26احتساب عدالتوں میں زیرِ سماعت، اس کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈا مہم عروج پر، مخالفت اس لئے نہیں کہ نیب کے قوانین کالے، قانون اتنے ہی کالے ہوتے تو مل کر چیئرمین لگانے والے مل کر کالا قانون بھی بدل لیتے، مخالفت اس لئے نہیں کہ یہ آمر کا بنایا ادارہ، کیونکہ یہ نواز شریف جنہوں نے 97میں احتساب بیورو بنایا، پرویز مشرف نے تو اسے ’قومی احتساب بیورو‘ بنایا اور اگر آمر کی بنائی ہر شے بری تو بھٹو صاحب کا نام بھی نہ لیا کریں کیونکہ انہیں بھی تو میجر جنرل اسکندر مرزا اور ایوب خان نے بنایا، نواز شریف کو بھی چھوڑ دیں، انہیں بھی آمر ضیاء الحق بنا گئے، اسلام آباد کو ختم کر دیں کیونکہ یہ بھی آمر کا بنایا ہوا شہر، منگلا، تربیلا سے بجلی بھی نہ لیں کیونکہ یہ بھی آمر کے بنائے ہوئے، لیکن چونکہ نیب کے حوالے سے مسئلہ، آمر کا ادارہ، کالا قانون نہیں، مسئلہ کالے کرتوتوں والے، جن سے نیب یہ پوچھنے کی جسارت کر بیٹھا کہ کہاں سے آئیں دولتیں، کہاں سے بنائی یہ جائیدادیں، اب بھلا با اختیاروں سے کالے کرتوتوں کا پوچھنا، نیب کی یہ جرأت، لہٰذا چاروں طرف سے نیب پر حملے ہو رہے، کسی کو احساس تک نہیں کہ ملک لٹ گیا، نسلیں لُٹ گئیں اور ہم لیٹروں کو جمہوری چوغے پہنا کر ان کا دفاع کر رہے، دکھ کیسے نہ ہو، ایک اورنج ٹرین منصوبے کا حال یہ، ٹرین نہ چلائیں تو منصوبے پر لگ چکا تین سو ارب ضائع، ٹرین چلائیں تو سالانہ بارہ ارب سے زائد خسارہ، چلانے میں تاخیر کریں تو روزانہ پانچ لاکھ ڈالر جرمانہ چین کو دینا، یہ ایک منصوبہ، ایسے درجنوں منصوبے اور، دکھ کیسے نہ ہو، آج کا پاکستان یہ، امیروں کی جیلیں غریبوں کے گھروں سے زیادہ آرام دہ، دکھ کیسے نہ ہو، دکھ تو ہونا ہی تھا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)