آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ22؍ربیع الاوّل 1441ھ 20؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ ہی دیکھئے کہ ٹرمپ صاحب پر بھی ہمارے اثرات گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور انہوں نے بھی یو ٹرن لے لیا ہے۔ اب ہم اپنے یوٹرن خان کو شاباش دیں یا ٹرمپ صاحب کو یا پھر اس بات پر قائل ہو جائیں کہ ’’یوٹرن تو اچھے ہوتے ہیں‘‘۔ شکر ہے کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے کہ دیر آید درست آید کی مانند ٹرمپ صاحب نے بھی کوئی عقل کی بات کر کے ہمارے افغان بیانیے کو کسی حد تک تسلیم کرلیا ہے اور اب گورے صاحب بھی افغانستان میں بھارت کے کردار پر گھورنے لگے ہیں اور فرماتے ہیں کہ مودی مجھے افغانستان میں ’’لائبریری‘‘ بنانے پر عرصے سے قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور میں اس سے پوچھتا رہا کہ آخر ’’لائبریری‘‘ کیوں؟ اور پھر جو کچھ تم افغانستان میں کر رہے ہو اس کا فائدہ مجھے کیا؟ وہ مودی سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ آخر تم طالبان کے خلاف افغانستان کی مدد کیوں نہیں کرتے اور غصے میں یہ بھی کہتے ہیں کہ مجھے تمہاری مدد کا کوئی فائدہ نہیں۔ ٹرمپ صاحب افغانستان میں مودی کے کردار سے مطمئن نہیں اور امریکی قوم کو سمجھا بھی رہے ہیں کہ ماضی میں افغان جنگ کے دوران سوویت یونین جو روس بنا، کہیں ایسا نہ ہو امریکہ بھی دیوالیہ ہو جائے اور روس کی تاریخ امریکہ میں دہرائی جائے۔ ٹرمپ صاحب اپنے سوال کا جواب خود ہی دیتے جا رہے ہیں کہ آخر افغانستان میں پاکستان کیوں

نہیں، روس کیوں چپ بیٹھا ہے؟ بھارت کیا کر رہا ہے؟ وہاں ہم ہی کیوں دھکے کھا رہے ہیں؟ پیسہ بھی بے دریغ پھینکا اور جانیں بھی ضائع ہوئیں، حاصل بھی کچھ نہ ہوا۔ اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے کہ نہلے کو دہلا ٹکر اگیا۔ ہمارے وزیراعظم کے ٹویٹ در ٹویٹ نے ٹرمپ کو بھی یو ٹرن لینے پر مجبور کر دیا کہ ’’یوٹرن تو اچھے ہوتے ہیں‘‘۔ بات ابھی یہیں ختم نہیں ہوئی مودی سرکار نے چائے کی پیالی میں پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں دہشت گردی کے الزامات لگا لگا کر جو طوفان برپا کر رکھا تھا اس کاذائقہ چکھنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ پاک فوج کے جوانوں نے ارضِ پاک کی حرمت کی خاطر افغان بارڈر پر جو باڑ لگائی اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہزاروں افسروں، جوانوں کی جانوں کا جو نذرانہ پیش کیا آج اس کا ثمر ملنے کا وقت آ چکا ہے۔ مودی سرکار کی پاکستان مخالف منافقانہ چالیں دنیا کے سامنے آشکار ہونے جا رہی ہیں اور وہ وقت قریب آچکا ہے کہ دنیا اس نکتے پر قائل ہو سکے کہ دہشت گردی کی اصل جڑ پاکستان نہیں انتہا پسند ہندو مودی سرکار ہے اور پاکستان کو دہائیوں سے جس دہشت گردی کا سامنا ہے اس کے پیچھے بھی بھارت سرکار ہی ہے۔ ٹرمپ کے یوٹرن میں ان تمام سوالوں کے جواب موجود ہیں کہ بھارت افغانستان میں امریکہ کی مدد کرنے یا طالبان کے خلاف جنگ لڑنے نہیں بلکہ دھوکہ دینے اور امن کی آڑ میں پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے بیٹھا ہے اور اس نے پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں منفی پروپیگنڈا بیچ کر جو پیسہ اینٹھا ہے اب اس کا حساب دینے کا وقت آ گیا ہے۔ کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی جاسوسوں، ان کے سہولت کاروں کی گرفتاریاں اور ان کے پھیلائے ہوئے دہشت گردی کے نیٹ ورک اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ ٹی ٹی پی کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانے والا کوئی اور نہیں، یہی مودی سرکار ہے جس نے پاکستان کی سرحد کے قریب افغان علاقوں میں بھارتی قونصل خانوں کے نام پر دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ بنائے اور ان دہشت گردوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ ایران اور دیگر ممالک میں ایکسپورٹ بھی کیا۔ اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت بھارت میں گائو ماتا کی رکشا کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندی کا فروغ اور مودی سرکار کی درندگی ہے۔ کہنا صرف یہ تھا کہ ہمارے وزیراعظم کے یوٹرن کو آج گورے صاحب بھی مان رہا ہے۔ چین اور روس کی اشیرباد پر وزیراعظم عمران خان کا یہ یوٹرن بظاہر ’’رائٹ ٹرن‘‘ محسوس ہو رہا ہے مگر ذرا احتیاط سے! گورے صاحب کے پاکستانی قیادت کو خیر سگالی پیغام کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ہمارے وزیراعظم سے بھی زیادہ تیزی سے یوٹرن لے جاتا ہے اور پھر تیزی سے ریورس گیئر بھی لگاتا ہے جیسا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا اعلان اور پھر یوٹرن۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ کیا گورا صاحب اور ہمارے وزیراعظم ملکی سیاسی صورت حال میں یکساں طور پر کمزور وکٹ پر تو نہیں کھیل رہے ۔ امریکی ایوانِ نمائندگان میں گورے صاحب کو پے درپے شکستوں کا سامنا ہے اور آئے دن ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پنٹاگون سے بین الاقوامی پالیسیوں پر اس کا ٹکرائو گویا کہ ماضی میں جو پاکستان میں سیاسی اتار چڑھائو حکومتوں کے زوال کا سبب بنا، آج وہ اثرات امریکی سیاست پر بھی چھائے ہوئے ہیں اور ان کے مثبت اثرات ہماری طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ آج ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکومت افغانستان، کشمیر، بھارت، امریکہ سمیت تمام ملکی و بین الاقوامی امور پر ایک صفحے پر نظر آتی ہے مگر ہماری اپوزیشن دوسرے صفحے پر ہے۔ پارلیمنٹ کے برآمدوں اور خفیہ سیاسی بیٹھکوں میں جو سیاسی کھچڑی پک رہی ہے جبکہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔دیکھتے ہیں کہ گورے صاحب کیا کہتے ہیں اور کس سے ملاقات کرتے ہیں کہ ہندو بنیا بڑا شاطر ہے۔ اس کی شاطرانہ چالیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ وہ پاکستان میں سیاسی استحکام چاہتا ہے نہ اقتصادی، وہ پاکستان کے خلاف ہر وہ سازش کرے گا جس میں اس کا مفاد ہو اور وہ اس مقصد کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ وہ ایک بار پھر پاکستان کے اندر اور باہر اپنے نیٹ ورک متحرک کر کے نئی چال چل سکتا ہے۔ بس اتنا ہی کہنا ہے کہ یوٹرن ضرور لیں مگر احتیاط سے!