آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ میں فارم ہاؤسز پر تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان اور نیئر رضوی کے درمیان ’مجھے کیوں نکالا‘ پر دلچسپ مکالمہ ہوا۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ اسلام آباد میں فارم ہاؤسز پر تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں سی ڈی اے نے فارم ہاوسز پر زائد تعمیرات سےمتعلق اپنی رپورٹ پیش کی۔

دوران سماعت سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں کل 478 فارم ہاؤسز ہیں، 117 فارم ہاؤسز میں قواعد سے ہٹ کر زائد تعمیرات کی گئیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نےتعمیر کی حد12,500 مربع فٹ مقررکی تھی، اس سے زائد پر 7000 روپےفی مربع فٹ جرمانہ عائد کیا تھا، عمارتیں گرانے سے لوگوں کا نقصان ہوگا، ہم چاہتے ہیں ریگولرائزئیشن کیلئے سی ڈی اے کو پیسے دیں، ہم سی ڈی اے کو امیر کرنا چاہتے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر برآمدے گرائے گئے تو پوری عمارت کو نقصان ہوگا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کورنگ دریا سے تجاوزات ختم ہوگئیں؟ اس پر سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے بتایا کہ کورنگ دریا سے تجاوزات ہٹانے کے لیے 22 دسمبر کی تاریخ دی گئی تھی۔

نیئر رضوی نے کہا کہ کورنگ دریا سے تجاوزات ہٹانے کے کیس کی وجہ سے مجھے نکالا گیا، اس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کیا کہ ’آپ کو کیوں نکالا‘، جس پر نیئر رضوی نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا ’جی مجھے کیوں نکالا‘۔

اس موقع پر عدالت نے کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں