آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍رجب المرجب 1440ھ 19؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

’’لقطہ‘‘ کے بارے میں شرعی حکم

سوال:ہمارے یہاں (ہسپتال میں) مریضوں کے ساتھ کئی اور لوگ آتے ہیں اور اکثر چھوٹی بڑی چیزیں بھول جاتے ہیں ۔اگر ہمیں نام پتا مل جاتا ہے تو انہیں وہ چیزیں واپس دے دیتے ہیں ،لیکن بعض دفعہ اصل مالک کا پتا نہیں چلتا وہ چیزیں ہمارے پاس جمع رہتی ہیں ،معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ہم اُنہیں فروخت کرکے اُس رقم کو غریب مریضوں پر خرچ کرسکتے ہیں ،اصل مالک کے انتظار میں یہ چیزیں کتنی مدت تک رکھنا چاہئیں ؟ (ہارٹ انسٹیٹیوٹ ، کراچی)

جواب: شریعت کی اصطلاح میں ایسی چیز کو ’’ لُقطہ‘‘ کہتے ہیں ،جو کسی شخص کو راستے میں گری پڑی ہوئی مل جائے ۔حدیث پاک میں ہے:’’حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسے لُقطہ(گری پڑی چیزوں ) کے بارے میں سوال ہوا،آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لُقطہ حلال نہیںہے، جو شخص پڑا مال اٹھائے ،اُس کی ایک سال تشہیر کرے اگر مالک آجائے تواُسے دےدے اور نہ آئے تو صدقہ کردے‘‘۔(سنن دارقطنی)

لُقطہ کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم وہ اشیاء ہیںجو قیمتی نہیں ہیںاور اُن کا مالک اُن کی تلاش میں سرگرداں نہیں ہوتا،جیسے کھجور کی گٹھلیاں ،انار کے چھلکے ،ردی کاغذ ،خالی بوتلیں ، رَدّی کپڑے وغیرہ ۔دوسری قسم وہ چیزیںجن کے بارے میں علم ہوتاہے کہ اُن کا مالک اُن کو طلب کرے گا، جیسے قیمتی اشیاء ۔

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے عصا اور کوڑے اور رسّی اور اِس جیسی چیزوں کے بارے میں رخصت دی ہے کہ کوئی شخص اٹھالے تو اُس سے فائدہ اٹھالے ‘‘۔(سُنن ابو داؤد :1717)

علامہ برہان الدین ابو بکر الفرغانی حنفی لکھتے ہیں : ’’ لُقطہ اُس شخص کے پاس امانت ہے جو اُسے اٹھائے ،بشرطیکہ اٹھاتے وقت اُس نے اِس بات پر کوئی گواہ مقرر کرلیاہو کہ وہ اِس کی حفاظت کرے گا، اور اس کے مالک سے ملاقات ہوجانے کی صورت میں اُسے واپس کردے گا،اِس غرض سے اُفتادہ چیز کو اٹھانے کی شرعاً اجازت ہے ،بلکہ عام علماء کے نزدیک ایسے مال کو اسی طرح پڑارہنے سے اٹھالینا ہی افضل ہے ۔اگر اُس مال کے ضائع ہوجانے کا خوف ہو تو اُسے اٹھالینا واجب ہے‘‘۔ (ہدایہ ، جلد4،ص:336)

اُس شے کے مالک تک پہنچانے کے لئے ایک مدت تک اُس کا اعلان یا تشہیر کرانا ضروری ہے ،اِس مدت کو فقہاء نے مختلف بیان کیاہے ، علامہ برہان الدین ابو بکر الفرغانی حنفی لکھتے ہیں : ’’( صاحبِ قدوریؒ نے )فرمایا،اگر وہ لُقطہ دس درہم سے کم کا ہو تو چند دنوں تک اس کی شناخت اور تشہیر کراتا رہے اوراگر وہ دس درہم یا اس سے زیادہ کا ہو توایک سال تک اُس کی تشہیر کرے ۔مصنف نے کہا کہ امام ابوحنیفہؒ سے یہ ایک روایت ہے ۔یہاں جو چند دن تشہیر کرنے کا قول کیاہے ،اُس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی سمجھ کے مطابق مناسب دنوں تک تشہیر کرے ۔امام محمد ؒ نے اصل (مبسوط ) میں قیمت میں کمی بیشی کے فرق کے بغیر ایک سال کی مدت مقررکی ہے اورامام مالکؒ وامام شافعی ؒ کا بھی یہی قول ہے ،کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص لُقطہ اٹھائے ،وہ ایک سال تک اُس کا اعلان کرے ‘‘۔حدیث میں بھی تھوڑی چیز کی قیمت کی تفصیل میں جائے بغیر یہ مدت مقرر کی گئی ہے ۔

پس آپ وہ اشیاء اپنے ادارے میں کسی جگہ اسٹور کرتے رہیں اور اِس دوران اُن اشیاء کے مالکان کی تلاش کے لئے مناسب تشہیر کے ذرائع اختیار کریں ،جس کی مدت آپ کی صوابدید پر منحصر ہے ،مالک کے نہ ملنے کی صورت میں آپ اُسے صدقہ کردیں یا فروخت کرکے اُس رقم کو غریب ونادار مریضوں کے علاج معالجے میں صرف کریں ۔اِس مسئلے پر شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی نے ’’تبیان القرآن‘‘ جلد5،پرتفصیلی بحث فرمائی ہے ،وہاں مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔ہماری رائے میں آپ کے لئے تشہیر کی یہی صورت کافی ہے کہ اس مقصد کے لئے ہاسپٹل میں ایک نوٹس بورڈ آویزاں کردیں اور اُس پر اُن اشیاء کی فہرست لگادیں کہ اگر کوئی اُن کا مالک ہے تو نشانی بتاکر لے جائے ،آج کے دور میں ایک سے تین ماہ کی مدت بھی کافی ہے ،مدت میں کمی بیشی چیز کی نوعیت پر منحصر ہے ،کیونکہ جس کو اپنی چیز کی تلاش میں دلچسپی ہوگی ،وہ اس عرصے میں رجوع کرلے گا، کیونکہ طویل مدت کے لئے اِن اشیاء کی حفاظت بھی ایک مسئلہ ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں