آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍جمادی الاوّل 1440ھ 23؍جنوری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی بھی ملک کی معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھنے میں کاروبار کو سہل اور تمام بنیادی ضروریات سے آراستہ کرنا حکومتی ترجیحات کا حصہ ہوتا ہے۔ نچلی سے بالائی سطح تک مائیکرو اور میکرو دونوں شعبوں کی آپس میں ہم آہنگی ہی اقتصادی نظام کو پائیدار بناتی ہے لیکن اسے بدقسمتی کہیے کہ ملکی تاریخ کے 71برسوں میں یہ ایک خواب ہی رہا جو سیاسی ناہمواریوں کی نذر ہو گیا۔ اب موجودہ حکومت نے یہ بیڑا اٹھانے کاعزم ظاہر کیا ہے،جو یقیناً ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں کاروبار آسان بنانے اور سرمایہ کاری کے حالات بہتر بنانے پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی و صوبائی سطح پر کاروبار کو آسان بنانے کے لئے ایسے دفاتر قائم کئے جائیں گے جو بزنس کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور بزنس آپریشن کو سہل بنانے میں سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کریں گے۔ منطقی طور پر یہ ایسا معاملہ ہے جس میں پیداوار، اس کی رسد و طلب کا توازن، آجر و اجیر اور حکومت کے مابین مثالی ورکنگ ریلیشن شپ کا ٹھوس بنیادوں پر استوار ہونا ناگزیر ہے، تاہم اس نوعیت کے اقدامات ماضی میں بھی کیے گئے جو بعض پیچیدگیوں اور قباحتوں کے باعث موثر نہ ہو سکے۔ پاکستان جیسی کثیر آبادی کے حامل زرعی و صنعتی ملک میں کاٹیج انڈسٹری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے جس کا اولین مطمح نظر روزگار عام کرنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اسی روز وفاقی دارلحکومت میں منعقدہ وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤدکی زیر صدارت کپاس اور کاٹن سے متعلق دو علیحدہ علیحدہ اجلاسوں میں بھی ٹیکسٹائل صنعت کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت کے متذکرہ اقدامات اور عزائم کی روشنی میں امیدِ واثق ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو سامنے رکھتے ہوئے قومی معیشت کے مفاد میں دور رس نتائج کے حامل فیصلے کئے جائیں گے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں