آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (اسد ابن حسن) بینک اکاؤنٹس کی بائیو میٹرک تصدیق کے حوالے سے 70برس سے زائد عمر کے بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ منی لانڈرنگ کے لیے 70برس سے زائد عمر کے افراد کے شناختی کارڈ بآسانی استعمال ہوسکیں گے۔ تفصیلات کے مطابق بینکوں نے اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ازسرنو اپنے اکاؤنٹ جاری رکھنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کرائیں مگر 70برس یا اس سے زائد عمر کے افراد کو کافی پریشانی ہورہی ہے کہ اس عمر میں انگوٹھے کی لکیریں تبدیل ہوچکی ہوتی ہیں اور بائیو میٹرک مشین زیادہ تر تصدیق نہیں کرپاتی جس پر ایسے افراد کو نادرا سے تصدیق کرانے کا کہا جارہا ہے اور سینٹروں پر اس حوالے سے کافی رَش دیکھا جارہا ہے اور بحث مباحثہ بھی ہوتا ہے۔ اس حوالے سے نادرا کے کراچی ریجن کے سربراہ گوری شنکر نے ’’جنگ‘‘ کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے دو طریقے وضع کئے ہیں یا تو بائیو میٹرک اور یا پھر بینک میں موجود نادرا کے ریکارڈ کو ورائسز سے تصدیق، بینکوں کے پاس کم درجے کی بائیومیٹرک مشینیں ہیں جس سے 70برس سے زائد کے افراد کی تصدیق نہیں ہوپارہی مگر بینک ورائسز کے عمل کو کرنے سے بھی اجتناب کررہے ہیں اور ایسے افراد کو نادرا سے رابطہ کرنے کا کہتے ہیں جبکہ ورائسز میں سب سامنے آجاتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں