آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منحنی اطمینان بخش، کم وزن میں ماڈلنگ غیر صحتمندانہ ہے، مایا امیرائز

لندن ( مرتضیٰ علی شاہ) پاکستان نژاد ماڈل لیڈی مایا امیرائز نے کہا ہے کہ پاکستانی خواتین دنیا کی خوبصورت ترین خواتین ہیں لیکن ان کی زیادہ پذیرائی کی ضرورت ہے، جو ثقافتی رکاوٹوں کی وجہ سے محدود ہے۔ لیڈی مایا برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک میں زیادہ وزن کے ماڈلنگ مقابلوں میں ہمیشہ موجود رہتی ہیں اور وہ اس خیال کا پرچار کرتی ہیں کہ کم وزن کی ماڈلنگ صحت، فیشن اور انسانی معاشرے کیلئے بری چیز ہے۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ کم وزن کی ماڈل کا استعمال اور منحنی اور صحت مند خواتین کو شرم دلانا غلط اور غیر اخلاقی ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ لیڈی مایا نے 16سال کی عمر میں ایک پاکستانی سے شادی کی تھی جس سے ان کے 4بچے ہیں لیکن اس کے بعد ان کا موٹاپا آڑے آیا اور ان کے درمیان مسائل پیدا ہونے لگے، میری توہین کی گئی، یہی وجہ ہے کہ مجھے اپنی کمزوریوں کا پتہ چلا اور ان کمزوریوں کو میں نے اپنی طاقت بنالیا۔میں نے 15سالہ ازدواجی زندگی میں خود کو بااختیار بنایا اور اپنی جیسی دوسری خواتین کو ترغیب دی، غیر یقینی کے مختلف اسباب کی وجہ سے میں نے شوہر سے علیحدگی کا فیصلہ کیا اور ایسیکس میں ایک سیلون اور فیشن کا کاروبار شروع کیا اور بچوں کی پرورش کے ساتھ ہی کاروبار شروع کردیا۔انہوں نے اب40 کی عمر میں لندن

یونیورسٹی سے بی اے آنرزکی ڈگری حاصل کی، موٹی خواتین کی ماڈلنگ کے حوالے سے اس کا عزم اسے ایک درجن سے زیادہ ممالک میں لے جا چکا ہے۔ انھوں نے 2013میں مس برٹش بیوٹی کروو کے زیر عنوان ایک قومی مقابلے میں شرکت کی تھی۔ انھوں نے اس مقابلے میں پہلی مرتبہ ایشیائی خواتین کے مقابلے میں حصہ لیا۔ انھوں نے اس مقابلے کی یادیں مجتمع کرتے ہوئے بتایا کہ اس مقابلے میں دنیا بھر سے 300سے زیادہ موٹی خواتین نے حصہ لیا تھا اور اور مس برٹش بیوٹی کروو 2013کا تاج میرے سر سجا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ میامی گئیں، جہاں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کیلئے ایک سپانسر مل گیا ۔ انھوں نے بتایا کہ میں بھارت، برازیل، پرتگال اور پاکستان سمیت ایک درجن سے زیادہ ممالک کی ماڈلز سے مقابلہ کرنے کیلئے برطانیہ کی سفیر بن کر میامی گئی تھی، اس مقابلے میں جیتنے والی خواتین کو مس اقوام متحدہ کہا جاتا ہے۔ وہاں جا کر مجھے اندازہ ہوا کہ میں موٹی خاتون ہوں، وہاں بیشتر دوسری خواتین کے نمبر 6سے8تک تھے جبکہ میرا سائز 14تھا، میں سمجھ رہی تھی کہ میرے جیتنے کا کوئی امکان نہیں ہے، میں نے مسلمان خاتون ہونے کے ناتے پیراکی کا لباس پہننے سے انکار کردیا تھا اور منتظمین سے کہہ دیا تھا کہ میں صرف مناسب لباس ہی پہنوں گی۔ میں نے ریمپ پر ججوں کے سامنے چلتے ہوئے ایک لمبا کافتان پہنا اور مس اقوام متحدہ منتخب کرلی گئی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اپنی صلاحیتوں پر فخر ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں