آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍جمادی الاوّل 1440ھ 23؍جنوری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کابینہ نے وزیراعظم کی وزارت کا پیش کردہ معاملہ مسترد کر دیا

اسلام آباد (انصار عباسی) وفاقی کابینہ نے جمعرات کو وزارت داخلہ کی سمری مسترد کر دی۔ وزارت کے انچارج وزیر کوئی اور نہیں بلکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان ہیں۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ملک میں فیصلہ سازی کے اعلیٰ ادارے نے وزارت داخلہ کی ان 20؍ افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے جنہیں جے آئی ٹی نے جعلی اکائونٹس کیس میں ملوث قرار دے رکھا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارت داخلہ کا قلمدان وزیراعظم عمران خان کے پاس ہے اور طے شدہ اصولوں کے مطابق کابینہ میں کسی بھی وزارت کی جانب سے پیش کی جانے والی سمری میں متعلقہ وزیر انچارج کی منظوری بھی شامل ہوتی ہے۔ اس معاملے میں، وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جے آئی ٹی کی جعلی اکائونٹس کی رپورٹ میں شامل 20؍ افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کرنے کی تجویز پیش کی۔ جب یہ معاملہ وفاقی کابینہ میں پیش ہوا تو اس نے وزارت داخلہ کی تجویز کیخلاف فیصلہ

کیا اور معاملے کا جائزہ لینے کیلئے وزارتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ بہترین جمہوری اقدار کا معاملہ ہے، جس میں مشترکہ فورم پر وزیراعظم کے موقف کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا، یا اسے وزیراعظم کی رائے پر ان کے اپنے ہی وزراء کی جانب سے عدم اعتماد کا اظہار سمجھا جانا چاہئے۔ یہ ایک منفرد معاملہ ہے۔ طے شدہ روایات اور مروجہ اصولوں کے مطابق دیکھا جائے تو کابینہ کے روبرو پیش کیے جانے والے تمام معاملات میں متعلقہ ڈویژن کے سیکریٹری کابینہ سیکریٹری کو کیس کا مختصر، واضح اور مطبوعہ میمورنڈم (جسے آگے خبر میں صرف سمری لکھا جائے گا) بھیجتے ہیں جس میں کیس کا پس منظر، متعلقہ حقائق اور فیصلے کے نکات شامل ہوتے ہیں۔ اس سمری میں انچارج وزیر کی منظوری بھی شامل ہوتی ہے۔ اگر وزارت کے سیکریٹری کی رائے وزیر انچارج کی رائے سے مختلف ہوتی ہے تو سمری میں دونوں آراء شامل کی جاتی ہیں۔ طے شدہ اصولوں کے مطابق، اپنے ڈویژن کی پالیسی کا ذمہ دار متعلقہ وزیر ہوتا ہے۔ ان اصولوں (رولز) میں یہ بھی واضح ہے کہ جب کسی وزیر کے روبرو سیکریٹری کوئی معاملہ پیش کرتا ہے تو یہ وزیر کا استحقاق ہے کہ وہ سیکریٹری کی تجاویز یا آراء سے اتفاق کرے یا انہیں نظرانداز کر دے۔تاہم، اگر سیکریٹری کو یہ محسوس ہو کہ وزیر کا فیصلہ غلط ہے اور اس سے سنگین نا انصافی یا مشکلات پیش آ سکتی ہیں تو وہ اپنی وجوہات دوبارہ بیان کرکے وزیر کو یہ کیس دوبارہ پیش کر سکتا ہے۔ اگر وزیر اپنے سابقہ فیصلے پر قائم رہے اور معاملہ اہمیت کا حامل ہو تو سیکریٹری متعلقہ وزیر سے درخواست کر سکتا ہے کہ وہ یہ معاملہ وزیراعظم کو بھیج دیں اور وزیر مزید احکامات کیلئے وہ معاملہ وزیراعظم کو بھیج دیتا ہے۔ اگر یہ معاملہ وزیراعظم کو نہیں بھیجا جاتا تو سیکریٹری اسے براہِ راست وزیراعظم کو ارسال کر دیتا ہے جس میں وزیر انچارج کے مشاہدات بھی شامل ہوتے ہیں۔ ذریعے کے مطابق، اس معاملے میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے رابطہ کرنے پر اس نمائندے کو بتایا کہ اگرچہ وزیراعظم عمران خان اس وزارت کے انچارج ہیں لیکن مذکورہ سمری میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کی منظوری شامل تھی۔ چوہدری نے واضح کیا کہ سمری میں بنیادی طور پر وزارت داخلہ کی کمیٹی کی سفارشات شامل تھیں۔ کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل سیکریٹری ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں