آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ11؍جمادی الاوّل 1440ھ 18؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران کیخلاف کیسز سے نیب کی توقیر میں اضافہ نہیں ہوتا،فوادچوہدری

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاہے کہ عمران خان کے خلاف کیسز سے نیب کی توقیر میں اضافہ نہیں ہوتا، ،میزبان شاہزیب خانزادہ نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی بہن کی ایک اور جائیداد سامنے آگئی ہے، علیمہ خان کی امریکا میں بھی ایک جائیداد ہے جو انہوں نے 2017ء تک پاکستان میں ظاہر نہیں کی بلکہ 2018ء میں ظاہر کی۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے ذاتی احترام کا تعلق ہے، عمران خان کے مقدمہ کا آصف زرداری اور نواز شریف کے مہا کرپشن کے کیسوں سے کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا، نیب ڈیڑھ سال سے عمران خان کیخلاف فضول مقدمہ لے کر بیٹھا ہوا ہے جو اس کے احتساب کے طریقہ کار کی توہین ہے، عمران خان کے خلاف کیسز سے نیب کی توقیر میں اضافہ نہیں ہوتا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کیخلاف مقدمہ سے پوری حکومت پر دھندلا پن چھاجاتا ہے، احتساب ہونے اور احتساب ایسا بنادینے میں فرق جس میں ملک کے نظام کو ہی گدلا کردیں ، ہیلی کاپٹر کیس کے جو میرٹس ہے کسی مہذب ملک میں ایسا کیس چلنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، صوبائی حکومت مجھے اپنے پراجیکٹ کے افتتاح کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر بھیج کر بلاتی ہے اور نیب اس پر

کیس بنادیتا ہے تو اس طرح ملک کا نظام جامد ہوجائے گا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ علی محمد خان سے میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے سنا تھا کہ میں نے کیا کہا تھا تو انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے نہیں سنا، انہیں پتا ہی نہیں کہ کیا بات ہورہی ہے تو اس پر میں کیا کہہ سکتا ہوں، عمران خان کیخلاف مقدمہ غیر متوازن ہے جس کے نتیجے میں غلط مثال بن رہی ہے، نیب کو عمران خان کیخلاف ہیلی کاپٹر کیس فوری طور پر ختم کرنا چاہئے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نہیں حکومت چاہتی ہے کہ بلاول اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل میں رہے، حکومت میں دیگر جماعتیں بھی شامل ہیں، شیخ رشید اور ایم کیو ایم بھی ہماری حکومت کا حصہ ہیں، کابینہ میں اس مسئلہ پر بہت سنجیدہ بحث ہوئی ہے، قانونی پوزیشن یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ سامنے آئے بغیر اس پر عملدرآمد نہیں کرسکتے ہیں، سپریم کورٹ کا تحریری آرڈر پڑھ کر فیصلہ کریں گے معاملہ آگے کیسے چلانا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو مستعفی ہوجانا چاہئے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ مراد علی شاہ کے کردار کے بغیر یہ اسکینڈل مکمل ہوسکتا ہے، مراد علی شاہ گیارہ سال سے وزیر خزانہ سندھ ہیں ان کے بغیر اومنی گروپ، زرداری گروپ، سمٹ بینک اور نیشنل بینک کا کردار مکمل نہیں ہوتا، مراد علی شاہ کے معاملہ میں نظرثانی اپیل میں جاناچاہئے ۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ میں کوئی نئی کمیٹی نہیں بنائی گئی بلکہ ایک ریویو کمیٹی پہلے ہی بنی ہوئی ہے جس کا کام ای سی ایل میں آنے والے ناموں کو ریویو کر کے سفارشات دینا ہوتا ہے، اس ریویو کمیٹی کی سفارشات سے متفق ہونا یا نہ ہونا کابینہ کا اختیار ہے، آج کابینہ نے ریویو کمیٹی کی سفارشات سے اتفاق نہیں کیا۔ ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی شہباز اسلام نے کہا کہ اپریل میں وزیراعظم کی سربراہی میں میٹنگ میں کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کا تنازع حل کرنے کیلئے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم ہائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، کے الیکٹرک کو اگست میں ٹی آر او سائن کر کے دیدیا تھا مگر انہوں نے ابھی تک اس پر سائن نہیں کیے، جب تک یہ ٹی آر او سائن نہیں ہوگا کوئی اکاؤنٹنٹ فرم ہائر نہیں ہوگی، اس کے بغیر کے الیکٹرک اورسوئی سدرن گیس کی جانب سے واجبات میں فرق کا معاملہ حل نہیں ہوسکتا ، کے الیکٹرک ٹی آر او پر سائن کرنے سے منع نہیں کررہی مگر ہر دفعہ کوئی نئی بات کردیتی ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک سعدیہ دادا نے کہا کہ انرجی کی کابینہ کمیٹی کے ساتھ طے ہوا تھا کہ ٹی او آرز میں صرف کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کے واجبات سے متعلق بات نہیں ہوگی بلکہ واٹربورڈ نے کے الیکٹرک کے جو 32ارب روپے ادا کرنے ہیں وہ بھی اس کا حصہ ہوں گے، کے الیکٹرک نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے 13.7ارب پرنسپل ہیں جبکہ باقی ان کا جو متنازع کلیم ہے اس کے ساتھ واٹر بورڈ کے 32ارب اور وفاقی و صوبائی حکومت نے کے الیکٹرک کے جو واجبات دینے ہیں ان کیلئے یکساں رائے قائم ہونی ہے۔میزبان شاہزیب خانزادہ نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی دبئی کی جائیداد پاکستانی حکام سے چھپائی، سپریم کورٹ میں معاملہ سامنے آنے کے بعد ایف بی آر نے ان پر جرمانہ عائد کیا، اپوزیشن نے الزام لگایا کہ علیمہ خان کی جائیداد عمران خان کی ہے اس لئے حکومت انہیں بچانے کی کوشش کررہی ہے، یہ الزام بھی لگایا گیا کہ حکومت نے وزیراعظم کی بہن کوا ین آر او دیدیا ہے، اب وزیراعظم عمران خان کی بہن کی ایک اور جائیداد سامنے آگئی ہے، علیمہ خان کی امریکا میں بھی ایک جائیداد ہے جو انہوں نے 2017ء تک پاکستان میں ظاہر نہیں کی بلکہ 2018ء میں ظاہر کی،دی نیوز کے رپورٹر احمد نورانی کی تحقیقات کے مطابق امریکی پراپرٹی ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان امریکی ریاست نیوجرسی میں چار منزلہ عمارت میں تین فلیٹس کی مالک ہیں، انہوں نے یہ فلیٹس پاکستانی ٹیکس حکام کے سامنے 30 جون 2017ء تک ظاہر نہیں کیے تھے، امریکی پراپرٹی ریکارڈ کے مطابق اس جائیداد کا ایڈریس 154، 16th اسٹریٹ ،ہوبوکن سٹی، نیو جرسی درج ہے، ریکارڈ کے مطابق علیمہ خان نے یہ جائیداد 5اگست 2004ء میں اس وقت کے اپنے بزنس پارٹنر کے ساتھ مل کر خریدی اور کاغذات میں اس جائیداد کی مالیت 7لاکھ 58ہزار ڈالرز درج ہے، دستاویزات کے مطابق علیمہ خان اس جائیداد کی 75فیصد اور ان کے بزنس پارٹنر 25فیصد کی مالک تھیں، اس جائیداد کی موجودہ مالیت 30لاکھ ڈالرز یعنی 45کروڑ روپے ہے، یہ جائیداد 2004ء میں مارگیج کے ذریعہ خریدی گئی ، اسی جائیداد کیلئے علیمہ خان اور ان کے بیٹے شاہ ریز نے ری مورگیجنگ کر کے بینکوں سے مزید قرضے لیے، اس کیلئے علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز نے اپنی والدہ کے سابق بزنس پارٹنر کے پاور آف اٹارنی کا استعمال کیا، اس جائیداد سے متعلق جنوری 2018ء میں اپ ڈیٹ ہونے والے پراپرٹی ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ اس جائیداد سے متعلق رابطے کیلئے علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز خان کا نمبر دیا گیا ہے، احمد نورانی کی تحقیقات کے مطابق علیمہ خان نے بیرون ملک خریدی گئی جائیدادیں پاکستان میں اپنے ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر نہیں کیں اور برائے نام ٹیکس ادا کیا، علیمہ خان کے ٹیکس ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 30جون 2011ء میں ایک لاکھ 960روپے ٹیکس ادا کیا، 2012ء میں ایک لاکھ 88ہزار روپے ٹیکس ادا کیا، ان کے ٹیکس ریٹرنز بھی آنے والے برسوں میں بھی اتنے زیادہ نہیں تھے جس کی وجہ سے وہ یہ پراپرٹی افورڈ کرسکتیں، کیا مسئلہ تھا کس طریقے سے یہ چھپائی گئی۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں