آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناروے کی وزیر اعظم ارنا سولبرگ کاکہنا ہےکہ’ مسئلہ کشمیر ہو یا شام کا مسئلہ، ان کا کوئی فوجی حل نہیں ہو سکتا لہذا بھارت اور پاکستان کو مذاکرات شروع کرنے کا وقت طے کر لینا چاہئے۔

ناروے کی وزیر اعظم ارنا سولبرگ نے دس سال بعد بھارت کاسرکاری دورہ کیا ۔

بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برصغیر کے باہر سے کوئی بھی شخص اس مسئلے کے حل کیلئے کچھ نہیں کر سکتا تاہم اگر بھارت اور پاکستان ایک دوسرے سے اس مسئلے پر بات چیت کرنا چاہیں تو ناروے یقیناً ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان بڑے ملک ہیں اور وہ اس بات کو خود یقینی بنا سکتے ہیں کہ دیگر ممالک کی مدد کے بغیر اپنے درمیان تناؤ کم کریں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں بھارت اور پاکستان کو فوجی اخراجات میں کمی کر کے تعلیم اور صحت پر خرچ کرنا چاہئے مگر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ دونوں ممالک کی تاریخ کافی تلخ ہے ،پھر بھی  دونوں کو مذاکرات سے حل نکالنا چاہئے۔

واضح رہے ناروے نے گزشتہ چند برسوں کے درمیان متعدد عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے جن میں فلسطین اور سری لنکا میں جاری تنازعات بھی شامل ہیں۔

خیال رہے ناروے کے سابق وزیراعظم جیل میگنے بانڈوِک نے گزشتہ سال نومبر میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تھا، ان کے اس اچانک دورے سے جہاں لوگ حیران تھے وہیں اس پر کئی طرح کے سوال بھی اٹھائے جا رہے تھے۔

اس سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ ناروے کشمیر کے مسئلے پر بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ارنا سولبرگ سے جب سابق وزیر اعظم بانڈیوک کے دورہ سری نگر کے بارے میں سوال کیا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ اُنہوں نے یہ دورہ ذاتی حیثیت میں کیا اور یہ ناروے کے کسی سرکاری منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔

سولبرگ نے اعتراف کیا کہ سری لنکا میں ناروے کی ثالثی کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئی تھیں اور جس انداز میں سری لنکا میں جاری تنازعے کا اختتام ہوا ، اُنہیں اس کا افسوس ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں