آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍جمادی الاوّل 1440ھ 23؍جنوری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن کی کارروائیوں کی وجہ سے سابق وزراء اور بیورو کریٹس سمیت 170 افراد سرکاری مہمان بنے ہوئے ہیں۔

کراچی کی جیلیں بدعنوانی میں ملوث سیاسی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائر افسران کا دوسرا گھر بن گئیں۔

کراچی کی سینٹرل جیل ہو یا قومی شاہراہ پر واقع لانڈھی جیل، ان دنوں سندھ کی کئی سیاسی شخصیات اور سرکاری افسران کی قیام گاہ بنی ہوئی ہیں۔

سابق وزیر سندھ شرجیل میمن ہی نہیں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی اور سابق بیورو کریٹ جاوید حنیف اور پیپلز پارٹی کے سابق رکن سندھ اسمبلی بابل خان بھئیو کئی ماہ سے کراچی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف کراچی سینٹرل جیل میں قید سرکاری افسران و ملازمین کی تعداد 132 ہے جبکہ لانڈھی جیل میں 30 سے زائد سرکاری افسران و ملازمین شامل ہیں۔

نیب مقدمات میں گرفتار سابق صوبائی سیکریٹری ذولفقار شلوانی، سابق کمشنر غلام مصطفی پھل، سابق سیکریٹری اقبال بابلانی، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈی جی ناصر عباس، سابق چیئرمین فشریز نثار مورائی، ضلع ملیر کے سابق ڈپٹی کمشنر شوکت جوکھیو سمیت کئی اسسٹنٹ کمشنر شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق دونوں جیلوں میں قید پولیس افسران و اہلکاروں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 50 ہے،سینٹرل جیل میں کے ڈی اے کے 14، بلدیہ عظمی کراچی کے 10، محکمہ ریونیو کے 8، کراچی واٹر بورڈ کے 7، افسران و اہلکاروں سمیت محکمہ بلدیات، محکمہ صحت، اینٹی کرپشن، محکمہ جیل خانہ جات، محکمہ تعلیم ، کسٹم، سندھ اسمبلی اور دیگر محکموں کے افسران و اہلکار قید ہیں۔

اسی طرح لانڈھی جیل میں محکمہ جیل خانہ جات اور پولیس کے 14 اہلکاروں سمیت ضلعی میونسپل کارپوریشن، محکمہ ریونیو سمیت کئی سرکاری محکموں کے افسران و ملازمین قید ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قید افسران کی اکثریت بدعنوانی کے مقدمات ی وجہ سے گرفتار ہوئی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں