آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍جمادی الاوّل 1440ھ 23؍جنوری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معروف مبلغ جنید جمشید سمیت 53 افراد کی موت کا سبب بننے والے طیارہ حادثے کی وجوہات سامنے آگئیں۔

جیو نیوز کے پروگرام’ نیاپاکستان‘ میں سامنے آنے والی 2016ء کے حادثے کی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ حادثہ انجن نمبر ون کے پاور ٹربائن بلیڈ ٹوٹ کر طیارے کے انجن میں چلے جانے کی وجہ سے انجن بند ہونے سے ہوا۔

رپورٹ کے مطابق طیارے کی آخری جانچ اور مرمت حادثے سے 25 دن پہلے ہوئی تھی۔

اس وقت تک انجن کے پاور ٹربائن بلیڈز 10 ہزار 4 گھنٹے چل چکے تھے، بلیڈز فوری تبدیل ہونا لازمی تھے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، سی اے اے کے فلائٹ اسٹینڈرڈ ڈپارٹمنٹ نے طیارے کو درست چیک نہیں کیا اور پرواز کی اجازت دی۔

رپورٹ کے مطابق حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن دونوں کو حادثے کا ذمے دار قرار دے دیا، حادثے میں جنید جمشید اور ان کی اہلیہ سمیت 53 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ (ایس آئی بی) نے اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں پی آئی اے کی جانب سے طیاروں کے منٹیننس کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔

7 دسمبر 2016 کو چترال سے اسلام آباد پرواز کرنے والا پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تھا، اس حادثہ میں معروف مبلغ جنید جمشید اور ان کی اہلیہ سمیت 53 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

سروس بلیٹن کے مطابق اے ٹی آر طیارے کے انجن کے پاور ٹربائن بلیڈز 10 ہزار گھنٹے بعد تبدیل ہونا ضروری ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدقسمت طیارے کی آخری منٹیننس 11 نومبر 2016 کو ہوئی تھی، اس وقت تک انجن کے پاور ٹربائن بلیڈز 10 ہزار 4 گھنٹے چل چکے تھے، بلیڈز فوری تبدیل ہونا ضروری تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، آخری منٹیننس کے بعد بھی طیارہ حادثہ سے قبل مزید 93 گھنٹے اڑ چکا تھا۔

ایس آئی بی نے حادثے کی ذمہ داری سول ایوی ایشن اتھارٹی پر بھی عائد کی ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ سی اے اے کے فلائٹ اسٹینڈرڈ ڈپارٹمنٹ نے طیارے کو درست چیک نہیں کیا اور پرواز کی اجازت دے دی۔

ایس آئی بی نے اپنی سفارشات میں پی آئی اے پر زور دیا ہے کہ وہ سروس بلیٹن پر سختی سے عمل کرے اور طیاروں کی منٹیننس کا عمل بروقت مکمل کرے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ فلائٹ اسٹینڈرڈ ڈپارٹمنٹ کو بہتر بنائے اور طیاروں کو کلئیرنس دینے کے اپنے مکینزم کو درست کرے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے نے سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کی رپورٹ ملنے کی تصدیق کردی ہے۔

پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں کی گئیں سفارشات پر عمل کیا جائے گا اور رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد تفصیلی موقف دیا جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں