آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍رمضان المبارک 1440ھ19؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان کا موقف تسلیم کرلیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف نے اینٹی منی لانڈرنگ پر پاکستان کا موقف بھارت کے سوا تمام رکن ممالک نے تسلی بخش قرار دے دیا۔

سڈنی میں ہونے والے3 روزہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی سیکریٹری خزانہ نے کی،ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بھارت کو چھوڑ کر باقی تمام رکن ممالک نے پاکستانی اقدامات کو درست قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارت کے اعتراضات پر ترکی بہ ترکی جواب دیا،بھارتی مندوب نے مطالبہ کیا کہ پاکستان نے جو کارروائیاں کی ہیں انہیں پبلک کیا جائے۔

جس پر پاکستانی وفد نے جواب دیا کہ ایف اے ٹی ایف ہیڈکوارٹر کی سفارشات پر اقدامات کر کے مطلع کیا جا چکا ہے،کالعدم تنظیموں کے خلاف اقدامات عام کرنا یا نہ کرنا پاکستان کا اپنا فیصلہ ہوگا لہٰذا اس معاملے پر کوئی دوسرا ملک پاکستان کو ہدایات جاری نہیں کر سکتا۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے کہا کہ زبانی سوالات کی بجائے اگر تحریری سوالات کئے جائیں تو مفصل جواب دیں گے،بھارتی مندوب نے ایف اے ٹی ایف کے ذریعے پاکستان کو 28 سوالات فراہم کیے ہیں۔

پاکستانی وفد کا مؤقف تھا کہ بھارتی سوالوں کے جوابات 17 فروی کو پیرس کے اجلاس میں فراہم کریں گے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف کے وفد نے انسداد منی لانڈرنگ کیسوں میں جائیدادیں ضبط کرنے کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

ایف اے ٹی ایف کے انسپکٹرز نے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی کارکردگی کو غیر مطمئن قرار دیا تھا،ایف اے ٹی ایف انسپکٹرز کی سفارشات پر جون 2019 ءمیں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکلانے کا فیصلہ ہوگا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 38 ہے، جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خلیج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں،تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا، جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 2012 سے 2015 تک بھی پاکستان ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ میں شامل تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں