آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍جمادی الاوّل 1440ھ 23؍جنوری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن لیڈر نیب کا سامنا کر سکتا ہے تو وزیراعظم کیوں نہیں؟ چیئرمین نیب کے بیان کا محرک وزیر اطلاعات کا جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں وہ انٹرویو ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے وزیراعظم پر کیس چلانا وزیراعظم اور پاکستان کے نظام کی توہین ہے اور دنیا نیب کی اس کارروائی پر ہنس رہی ہے۔ چیئرمین نیب کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ نیب کی کارروائی کا سامنا کرنا وزیراعظم کی توہین نہیں بلکہ ان کی عزت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، ان کی توقیر ہوئی اور قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے۔ لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ (اس کیس سے) یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہے جبکہ وزیراعظم کا بھی یہی نعرہ تھا کہ وہ پاکستان سے بدعنوانی ختم کریں گے۔ نیب نے گزشتہ سال فروری میں عمران خان کی جانب سے کے پی حکومت کے دو سرکاری ہیلی کاپٹرز 74گھنٹوں تک غیر سرکاری دوروں کیلئے نہایت ارزاں نرخوں پر استعمال کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ نیب رپورٹ کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف نے ایم آئی 17اور ایکیوریل ہیلی کاپٹر پر مجموعی طور پر 74گھنٹے پرواز کی، جس کا انہوں نے اوسطاً فی گھنٹہ 28ہزار روپے ادا

کیا حالانکہ ایم آئی 17ہیلی کاپٹر کا فی گھنٹہ خرچ 10سے 12لاکھ جبکہ ایکیوریل ہیلی کاپٹر کا فی گھنٹہ خرچ 5سے 6لاکھ ہے، اس حساب سے عمران خان کو 1کروڑ 11لاکھ روپے ادا کرنا چاہئے تھے۔ موجودہ برسر اقتدار جماعت ریاستِ مدینہ کو اپنا رول ماڈل تصور کرتی ہے، اگر ریاستِ مدینہ میں ایک عام شخص امیر المومنین سے ان کے کُرتے کے بار ے میں سوال کر سکتا ہے اور وہ اسکی وضاحت پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تو ہمارے حکمران کیونکر اسے اپنی بے عزتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ وزیراعظم کو نیب کیس کا سامنا کر کے تمام لوگوں کیلئے ایک مثال قائم کرنا چاہئے تاکہ واضح ہو سکے کہ ریاستِ مدینہ اور ’احتساب سب کیلئے‘ کےنعرے محض انتخابی نہیں بلکہ حکومت اس حوالے سے کوشاں و سنجیدہ ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں