آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر17؍ رجب المرجب 1440ھ 25؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوائیں 15 فیصد تک مہنگی، جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں 9 فیصد بڑھ گئیں،دوا ساز اداروں کامطالبہ مان لیاگیا، فیصلہ ڈالر کی وجہ سے ہوا

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک بھر میں دواؤںکی قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے ،ڈریپ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جان بچانے والی تقریباً450دوائوں کی قیمت میں 9فیصد جبکہ بقیہ تمام دوائوں کی قیمت میں15فیصد اضافہ کیا گیا ہے ، یہ اضافہ دوا کی پیکنگ پر تحریر کرنا ہو گا۔ جمعہ کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے فارما سیوٹیکل کمپنیوں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ترجمان کے مطابق مختلف ادویات کی قیمتوں میں9 اور 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہےتاہم اضافے کے باوجود پاکستان میں ادویات کی قیمتیں بین الا قوامی اور علاقائی سطح پر قیمتوں سے کم رہیں گی‘نئی سرمایہ کاری اورفارماسیوٹیکل صنعت کے فروغ کیلئے ادویہ کے نرخوں میں اضافہ کرنا ضروری تھا‘مریضوں اور ملک کے وسیع تر مفاد میں قیمتوں میں مناسب اضافے کا قدم اٹھایا گیا‘

پچھلے ایک برس میں ڈالر کی قیمت میں 30 فیصد تک اضافہ کے بعد مارکیٹ میں ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال اور پیکنگ میٹریل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح یوٹیلیٹی (جس میں گیس اور بجلی شامل ہیں) کی قیمتیں بڑھنے سے بھی فارما سیوٹیکل انڈسٹری پر اضافی بوجھ پڑا۔ مزید برآں ایڈیشنل ڈیوٹی میںبھی اضافہ ہوا۔ انٹرسٹ ریٹ اور ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان کی زیادہ فارماسیوٹیکل درآمدات چین سے ہوتی ہیں۔ چین میں ماحولیاتی وجوہات کی بناءپر آدھی سے زیادہ انڈسٹری کی بندش سے خام مال کی قیمتوں میں 2 گنا اضافہ ہوا۔ ملک میں آئے دن کچھ ادویات اور ویکسین کی عدم دستیابی کی شکایات موصول ہو رہی تھیں جس کی وجوہات میں ایک وجہ ادویات کی قیمت بھی پائی گئی ۔ انڈسٹری سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ بہت سی ادویات کم قیمت ہونے کی وجہ سے تیار کرنا کاروباری لحاظ سے موزوں نہیں رہا ہے ، ڈریپ کے لیے جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی فراہمی ایک اولین ترجیح ہے۔ اسی طرح کچھ عرصہ پہلے چند ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کر کے واپس جا چکی ہیں اور کچھ کمپنیاں مزید انوسٹمنٹ کرنے کی بجائے اپنے کاروبار سمیٹنے کا ارادہ ظاہر کر رہی ہیں یہ ساری صورت حال ملکی مفاد کے منافی ہے۔ ان تمام وجوہات کی بناءپر فارماسیوٹیکل انڈسٹری ادویات کی قیمتوں میں ڈالر کی قدر کے لحاظ سے اضافہ کا مسلسل مطالبہ کر رہی تھی۔ ڈریپ نے جہاں تک ممکن ہو سکا ادویات کی قیمتوں کے مشکل فیصلے کو روکے رکھا لیکن جب مارکیٹ میں جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی عدم دستیابی بڑھنے لگی تو مریضوں اور ملک کے وسیع تر مفاد میں قیمتوں میں مناسب اضافے کا قدم اٹھایا گیا۔ ملک میں ادویات کی نوے فیصد ضروریات ملکی صنعت پوری کرتی ہے جس کی بقاءکےلئے ادویات کی قیموں میں جائز اضافہ ضروری تھا۔ ڈریپ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ ملک میں ادویات کی دستیابی، نئی انوسٹمنٹ اور فارماسیوٹیکل صنعت کے فروغ کےلئے قیمتوں میں 9 اور 15 فیصد اضافہ کیا جائے، اس مقصد کےلئے منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز کی ضروری کارروائی کے بعد وفاقی حکومت کی منظوری سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں