آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر17؍ رجب المرجب 1440ھ 25؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ، اصغرخان کیس بند نہیں ہوگا، فوج بھی ہمارے دائرہ اختیار میں ہے، سیکرٹری دفاع کو نوٹس، ایف آئی اے کی درخواست مسترد

اسلام آباد (مانیٹرنگ سیل،نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان عملدرآمد کیس ختم کرنے کیلئے ایف آئی اے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ اصغر خان کیس بند نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اصغر خان کی کوشش رائیگاں نہیں جانے دینگے، عدالتی فیصلے سےاسکینڈل ثابت ہوچکا ہے، معاملےکی مزید تحقیقات کرائینگے، ایف آئی اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کرالیتے ہیں، کابینہ سے بھی جواب مانگیں گے،اس کیس میں فوجیوں کا بھی ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو رہا ہے، لیکن ہمیں نہیں پتا ملٹری والے کیا کارروائی کررہے ہیں، کیوں نہ ان سے بھی رپورٹ طلب کرلیں، فوج بھی ہمارے دائرہ اختیار میں ہے۔ سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سیکرٹری دفاع بتائیں جن آرمی افسران کا معاملہ بھیجا گیا تھاوہ تحقیقات کہاں تک پہنچی؟۔عدالت عظمی نے ایف آئی اے کی طرف سے اخذ کیے گئے نتائج اور وجوہات پر عدم

اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اصغر خان کے ورثا کی درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کر تے ہوئے سماعت 25؍ جنوری تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اصغرخان کی زندگی کا بڑا حصہ اس کیس میں گزرا،اصل تحقیقات کا وقت آیا تو رکاوٹیں آنے لگیں،ایف آئی اے کہتا ہے کہ ان کے پاس شواہد نہیں تاہم عدالت نے تاحال کیس بند نہیں کیا، عدالت کا مقصد صرف 2 افسران کیخلاف تحقیقات نہیں، عدالت اصغر خان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے،اصغر خان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جانے دینگے،ایف آئی اے سے جواب طلب کرینگے جبکہ کابینہ سے بھی جواب مانگیں گے کیونکہ کچھ افراد کے مقدمات کابینہ کو دیئے گئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہر ادارہ سپریم کورٹ کو جوابدہ ہے۔اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ایف آئی اے کا مینڈیڈیٹ فوجداری تحقیقات کا تھا،جس نے 10 سیاستدانوں سے تحقیقات کرنا تھیں،جن میں سے 6 کا انتقال ہوچکا ہے، چالان کیلئے ضروری ہے کہ شواہد ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کم از کم اس کیس میں اصغر خان کی فیملی سے بھی پوچھ لیتے،عدالتی فیصلے کے ایک ایک صفحے سے ثابت ہوا کہ یہ اسکینڈل ہوا ہے،چیف جسٹس نے اصغر خان کے اہلخانہ کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ آپ عدالت کی معاونت کریں کہ کیس کو کیسے آگے بڑھایا جائے؟۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک فیصلہ آیا اور اب عملدرآمد کے وقت ایسا ہو رہا ہے،کچھ افراد کو اس معاملے سے علیحدہ کرنے کی تجویز تھی،جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جبکہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ہاں میں نے رقم تقسیم کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس کے بعد پھر کیا رہ جاتا ہے؟،کیس بند کرنے کے معاملے میں اصغر خان فیملی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،اگر ایف آئی اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کرالیتے ہیں،جب فیصلہ آیا تو میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے ملا اور کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ کیا کہ اب عدالت کچھ نہ کرے تو یہی کافی ہے،سلمان اکرم راجا نے اس موقع پر کہا کہ اصغر خان اور آسیہ بی بی کیس کے دونوں فیصلے تاریخ ساز ہیں،اصغر خان کیس میں عدالت با ضابطہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں