آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینی قونصل خانے پرحملہ، منصوبہ افغانستان میں بنا، 5 سہولت کار گرفتار

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر احمد شیخ نے کہا ہےکہ اسپیشل سکیو رٹی یونٹ دیگر ونگز نے حساس ادارے کے تعاون سے چینی قونصل خانے پر حملے کے 5سہولت کاروں عبداللطیف ، حسنین ،عارف،ہاشم اور اسلم مغیری کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 3کلوشنکوف ،3دستی بم ،2پستول ،2 راکٹ لانچربمعہ گولے ،ڈیڑھ کلو بارودی مواد ،بھاری مقدار میں گولیاں ،لانچ کا گیئربکس اور دیگر سامان برآمد کرلیا‘ ملزمان کا تعلق کالعدم بی ایل اے سے ہے‘چینی قونصل خانے پر حملے کا منصوبہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ایماپر افغانستان میں بنایا گیا تھا ۔ یہ بات انھوں نےڈی آئی جی ایسٹ زون میں جمعہ کو پریس کانفرنس میں کہی ، انھوں نے کہا کہ دہشت گرد گروپ کی موجو دگی کی اطلاع پر تیسر ٹائون صادق بلوچ گوٹھ میں جمعہ کو علی ا لصباح کارروائی کی گئی جہاں دہشت گرد شہر میں بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ، دوران تفتیش معلوم ہوا کہ گرفتار دہشت گرد 23نومبر 2018کو کلفٹن میں واقع چینی قونصل خانے پر بھی حملے میں ملوث ہیں

‘دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے ہے‘کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ چینی قونصل خانے پر حملے کا منصوبہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ایماپر افغانستان میں بنایا گیا تھا، جس کی سربراہی بی ایل اے کمانڈر اسلم اچھو ،نائب بشیر زیب نے کی تھی‘گرفتار دہشت گردوں نے مزید بتایا کہ عبداللطیف اور حسنین نے اگست 2018 میں رزاق سے چینی قونصل خانے کی تفصیلی ریکی کروائی، عارف عرف نادر نے اسلحہ و بارودی مواد کی ترسیل کی، جبکہ دہشت گردوں کو رہائش بھی فراہم کی ،اسلم مغیری بی ایل اے کے تمام دہشت گردوں کو جعلی شناختی کارڈ بنوا کر دیتا تھا جبکہ ہاشم اور اسلم مغیری تنظیم کے اہم کمانڈر بھی ہیں ،جبکہ مرکزی کمانڈر اسلم اچھو کے قریبی ساتھی اور تمام کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں شامل بھی رہے ہیں ،ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کی تحقیقات میں بہت سے نام سامنے آئے ہیں اور واقعے میں ملوث کئی ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے‘انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بلوچستان اور کراچی میں موجود تھے، جبکہ حملے کے سہولت کار مختلف وقتوں میں چینی قونصلیٹ میں آکر بیٹھ کر ریکی کرتے رہے، ریکی کرنے والے ملزمان زیادہ تر ویزہ سیکشن میں آکر بیٹھتے تھے اور جائزہ لیتے تھے جبکہ حملہ آور دہشت گرد اگست سے نومبر تک کراچی آتے جاتے رہے ہیں ،دہشتگرداسلحہ ریلوے کے ذریعے کراچی لائے تھے اور کراچی میں بلدیہ ٹائون میں رہائش اختیار کی تھی‘تمام اسلحہ برآمد شدہ گیئر بکس میں چھپا کر کراچی لایا گیا تھا۔ دریں اثناء کراچی میں چین کے قونصل خانے پر حملےمیں ملوث بی ایل اے کے گرفتار دہشتگردوں نے مزید انکشافات کئے ہیں کہ حملےکا منصوبہ اینا میناافغانستان میں بنایاگیا،ذرائع کےمطابق بی ایل اےکےسربراہ اسلم اچھونےذمہ داری رازق کو دی اور وہ حملے سے ایک روزقبل افغانستان سے براستہ چمن کراچی پہنچ کر تیسرٹاؤن میں مقیم رہے۔ تیسرٹاؤن میں رات گزاری، صبح خودگاڑی چلا کرچینی قونصل خانے پہنچے ، اسلحہ بلوچستان سے کشتی کے انجن میں ڈال کر کراچی منتقل کیاگیا‘حملے کامقصدسی پیک کو نقصان پہنچانا تھا ‘دہشتگردوں نےتفتیش میں انکشاف کیا ہے کہ کالعدم بی ایس اوآزادبلوچستان میں بی ایل اےکی نرسری ہے جوبی ایس اوآزادبلوچستان میں لڑکوں کوبھرتی کرکے افغانستان بھیجتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں