آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍جمادی الاوّل 1440ھ 20؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئے23برس 23لمحوں میں بیت گئے۔ سلطان راہی کی 23ویں برسی کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا حالانکہ سلطان راہی سے تعلق تعارف تو دور کی بات، میں نے تو آج تک اس کی کوئی فلم بھی نہیں دیکھی کہ میرا تعلق اس نسل سے ہے جو لارے، مکھڑا،پھیرے، ناجی، پینگاں، پلکاں، مرزا صاحباں، ہیررانجھا، مٹی دیاں مورتاں، کرتارسنگھ، پتن،یکے والی، ماہی منڈا جیسی میٹھی، مدھر، سریلی پنجابی فلمیں دیکھتے ہوئے ٹین ایج سے گزری اور اس کے بعد جب پنجابی فلموں نے ونجلی پھینک کر گنڈاسہ اٹھایا، ہیرو ئینز نے سرگوشیاں کرنے کی بجائے بڑھکیں مارنی شروع کر دیں تو ہم جیسوں نے پنجابی فلم دیکھنی ہی چھوڑ دی لیکن کبھی نہ دیکھے بغیر بھی صاف دکھائی دیتا تھا کہ ’’ٹیڈی شفٹ‘‘ ایجاد کرنے والا سلطان راہی پنجابی فلم کا اکلوتا ’’سلطان‘‘ ہے ۔ کیسا سلطان تھا جس کے قتل ہوتے ہی پوری سلطنت یعنی فلم انڈسٹری قتل ہو گئی اور قتل بھی اس طرح ہوئی کہ آج تک اس کے ا عضاء ہی یکجا نہیں ہو سکے۔ سلطان راہی کے بارے میں جو بات مجھے فیسی نیٹ کرتی ہے وہ اس کا سپر سٹار ہونا نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ وہ قیام پاکستان سے تقریباً نو دس سال پہلے سہارن پور (یوپی) میں پیدا ہونے والا وہ اردو سپیکنگ تھا جس نے نہ صرف پنجابی فلموں پر راج کیا بلکہ ان کا رخ اور کیریکٹر تک تبدیل کرکے رکھ دیا۔بات اچھے

برے کی نہیں، فردِ واحد کے دھانسو امپیکٹ کی ہے لیکن آج میرا موضوع سلطان راہی نہیں .....بالکل ہی مختلف ہے۔سلطان راہی کی 23ویں برسی کی خبر پر مجھے وہ شام یاد آ گئی جب منوبھائی، عباس اطہر اور میں آفس میں اکٹھے بیٹھے تھے اور کسی نے سلطان راہی کے قتل کی خبر سنائی تو ہماری تندوتیز بحث قبرستان کے سے سناٹے میں تبدیل ہو گئی۔ سوگوار سناٹا۔شاہ جی ، عباس اطہر نے حسب عادت اپنے ابرو کے بالوں کو مسلتے مروڑتے ہوئے حادثہ کی تفصیلات سنیں اور میرا کلپ بورڈ بال پوائنٹ سمیت اٹھا کر سرخی لکھی،’’راہی رستوں پہ مارا گیا‘‘یا شاید.....’’راہی رستے میں مارا گیا‘‘گزشتہ 23سال میں میری یادداشت بھی 23سال مزید بوڑھی ہو چکی اس لئے اتنا کنفیوژ ہونا تو بنتا ہے کہ یہ 23سال کبھی 23لمحے اور کبھی 23صدیوں جیسے لگتے ہیں کہ آج نہ عباس اطہر زندہ اور چند دنوں بعد ہی منوبھائی کی بھی پہلی برسی ہے کیونکہ ہم سب بنیادی طور پر چلتی پھرتی زندہ برسیاں ہیں۔ چند ہفتے قبل میرے سٹاف نے منوبھائی،شاہ جی اور میری ایک نایاب تصویر اپ لوڈ کرکے نیچے کیپشن جڑ دیا....’’اردو صحافت کے تین ناقابل فراموش کردار ‘‘ میں نے پیار سے سمجھایا کہ ’’بیٹا ! یہ دونوں یعنی منوبھائی اور شاہ جی تو واقعی ناقابل فراموش ہیں تم نے مجھ جیسی ’’جھاڑی ‘‘ کو ان قدآور گھنے درختوں کے ساتھ کیسے بریکٹ کر دیا۔‘‘سچ یہ ہے کہ میں روزنامہ ’’صداقت‘‘مرحوم جوائن کرنے سے پہلے ہی جانتا تھا کہ ان ‘‘مِٹھے بابوں‘‘ سے اخبار چلے گا نہیں ۔یہ بات میں نے برادر محترم محمد علی درانی سے شیئر بھی کی اور ان کی حیرانی پر بتا بھی دیا کہ ’’فنکار کبھی اخبار کامیاب نہیں کر سکتے۔اس کیلئے کچھ اور قسم کی مہارتیں بھی درکار ہوتی ہیں جو ان کے قریب سے بھی نہیں گزریں۔ میں تو فقط اس شوق میں انہیں جائن کر رہا ہوں کہ کبھی لکھ سکوں کہ میں نے منوبھائی اور عباس اطہر جیسے لوگوں کو بھی قریب سے دیکھا، برتا اور ان کے ساتھ کام کیا ہے ۔‘‘اور واقعی ان دونوں مِٹھے بابوں کے ساتھ کام کرنا میری زندگی کے خوبصورت ترین تجربوں میں سے ایک تھا۔اسی لئے تو آج تک یقین نہیں آ رہا کہ یہ جا چکے ہیں۔ آج کل اپنی آپ بیتی’’ لائل پور سے بیلی پور تک ‘‘ پر کام کر رہا ہوں۔منوبھائی اور عباس اطہر اس آپ بیتی کے خوبصورت ترین باب ہوں گے بشرطیکہ میں اس کام کو مکمل کر سکا کیونکہ کون جانے کب کس وقت میں خود منوبھائی اور عباس اطہر ہو جائوں کہ انہیں یاد کرنے کیلئے تو مجھ جیسے رومانٹک ناسٹیلجیا کے لاعلاج مریض موجود ہیں .....ہم جیسوں کا تو والی وارث ہی کوئی نہ ہو گا کہ یہ تو ہے ہی عہدِ کم ظرفاں۔نوچتے رہتے ہیں اپنے ہی بدن کی بوٹیاںحاسدوں کو خود ہی اپنا میزباں بننا پڑابچپن سے سنتے آئے ہیں کہ ’’وقت سے پہلے نہیں اور مقدر سے زیادہ نہیں‘‘ میری ہی شاعری بھگتیںہونی کیا اور انہونی کیاجو ہونا ہو، ہو جاتا ہےجو ملنا ہے مل کے رہے گاجو کھونا ہو، کھو جاتا ہےزندگی کا اصل پبلک ریلیشنگ یا سوشلائز کرنا ہرگز نہیں ۔بائولوں کی طرح بھاگے پھرتے ہیں۔ناشتہ کہیں، لنچ کہیں، شام کی چائے کسی کے ساتھ، ڈنر کہیں اور ۔جتنی انرجی بہت سے لوگ ان کاموں میں برباد کرتے ہیں، اس سے آدھی اپنے اصل کام میں لگائیں تو شاید انہیں ادھر ادھر اتنا بھاگنا نہ پڑے لیکن اب تو یہی کلچر ہے ۔اس سے بھی کہیں بڑھ کر یہ کہ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں اپنے اپنے شعبوں میں منوبھائی اور شاہ جی جیسے میسر آئیں لیکن مسئلہ یہ کہ آج کل ایسے لوگ ہوتے اور ملتے کہاں ہیں .....سیاست سے لیکر صحافت تک انحطاط اور زوال میں کمال ہی مقدر ٹھہراگرو تو ساتھ گرے شانِ شہسواری بھیزوال آئے تو پورے کمال میں آئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں