آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فہمیدہ ریاض 22نومبر کو فوت ہوئیں اور ڈاکٹر سلیم اختر کا انتقال 30دسمبر کی شام کو ہوا۔ فہمیدہ ریاض کی موت کی خبر پاکستانی میڈیا نے یوں جاری کی جیسے ایک اور قرۃ العین حیدر کا انتقال ہو گیا ہو، تمام ٹی وی چینلز نے خصوصی کوریج دی، انگریزی اردو اخبارات میں سرخیاں جمائی گئیں، ان کے فن اور شخصیت پر مضامین شائع کیے گئے، جن میں اُن کی ادبی خدمات اور سیاسی جدوجہد پر روشنی ڈالی گئی، انگریزی اخبارات نے خاص طور پر فہمیدہ ریاض کی بھرپور پروجیکشن کی اور انہیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کیا جو اسّی کی دہائی میں مزاحمت کے استعارے کے طور پر ابھریں اور جنہوں نے اردو ادب میں نسائیت کی ایک نئی جہت متعارف کروائی۔ دوسری طرف ڈاکٹر سلیم اختر کے انتقال کی خبر بمشکل ہی کسی چینل پر نشر ہوئی، کسی انگریزی اخبار (سوائے دی نیوز‘ جس میں ایک مضمون شائع ہوا) میں اُن کے فن یا شخصیت کے حوالے سے کوئی مضمون شائع نہیں ہوا یا کم از کم میری نظر سے نہیں گزرا، ایک آدھ استثنا کو چھوڑ کر اردو اخبارات کا بھی کم و بیش یہی حال رہا، کسی نے سلیم اختر کی موت کو اِس قابل نہیں سمجھا کہ اُس پر اپنے ادبی صفحات میں ہی کوئی ڈھنگ کا مضمون چھاپ دے یا اپنے سنڈے میگزین میں اُن کی کوئی تحریر ہی شائع کر دے۔ فہمیدہ ریاض اور ڈاکٹر سلیم اختر کی موت پر میڈیا کوریج کو اگر دس میں سے نمبر دے کر ماپا جائے تو فہمیدہ ریاض کو نو نمبر ملیں گے اور سلیم اختر کو بمشکل ایک۔

مجھے اس بات پر قطعا ً کوئی اعتراض نہیں کہ فہمیدہ ریاض کے انتقال کی خبر کو ہمارے میڈیا نے اتنی زیادہ کوریج کیوں دی! ہمارے ملک میں زندہ ادیبوں کو کوئی نہیں پوچھتا، مرے ہوؤں کی کیا بات کریں، ادیب بیچارے کی کمائی کا کوئی لگا بندھا ذریعہ بھی نہیں ہوتا وہ غریب بس اپنی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ ہوتا ہے، اپنے ہاں کتابیں پڑھنے کا رواج ہے، نہ ادبی محفلوں کا، ادبی جرائد بھی رفتہ رفتہ ناپید ہوتے جا رہے ہیں، چند ایک ہیں جو لاہور اور کراچی سے شائع ہوتے ہیں باقی انتقال فرما چکے ہیں۔ ایسے معاشرے میں کسی بھی ادیب کو اُس کی موت کے بعد ہی سہی اگر کوئی شناخت یا پذیرائی ملتی ہے، چاہے وہ اُس کی شخصیت سے بڑھ کر ہی کیوں نہ ہو، تو اُس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ کم از کم خدمت ہے جو ہم اس معاشرے میں ادب کی کر سکتے ہیں۔ مگر خیال رہے خدمت کا یہ جذبہ ہر ادیب کے لیے ہونا چاہئے ناکہ صرف اُن ادیبوں کے لیے جنہیں کوئی طاقتور نقاد زمین سے اٹھا کر آسمان پر صرف اِس لئے بٹھا دے کہ وہ ادیب اُس کی ’’کلاس‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کلاس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے ادیبوں کا تعلق امرا کے طبقے سے ہوتا ہے بلکہ اس کلاس میں شامل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ویسا ہی ادب تخلیق کریں جو اُن کے نظریات سے مطابقت رکھتا ہو، آپ کا اوڑھنا بچھونا، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا بھی انہی جیسا ہو، ادبی محفلوں میں ہمیشہ فیض احمد فیضؔ کی مثالیں دیں اور احمد ندیم قاسمی سے پرہیز کریں کیونکہ احمد ندیم قاسمی ایک دیسی ادیب تھے جو ڈرنک کرتے تھے اور نہ ارسٹو کریٹ دکھتے تھے اس لیے اُن کی اِس کلاس میں کوئی جگہ نہیں، اسی طرح اگر آپ نے ایک اور دیسی ادیب منشا یاد کے کسی افسانے کا کوئی حوالہ دے دیا تو یہ کلاس آپ کو کھڑے کھلوتے نکال باہر کرے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ منٹو اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار تھا مگر غلام عباس بھی کم نہیں تھا، دونوں کو آپ اردو کے پہلے پانچ بڑے افسانہ نگاروں میں شامل کر سکتے ہیں، تاہم غلام عباس بھی اُس ’’کلاس‘‘ میں جگہ نہ پا سکے جو بعد میں ہمارے نقادوں نے منٹو کو عنایت کر دی۔ وجہ وہی کہ جو گلیمر منٹو کی زندگی میں تھا وہ غلام عباس کی دیسی زندگی میں نہیں تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے جو گلیمر فہمیدہ ریاض کی زندگی میں تھا وہ ڈاکٹر سلیم اختر کی سادہ سی زندگی میں نہیں تھا، کہاں ستّر کی دہائی کی فہمیدہ ریاض جس کی سگریٹ پیتے ہوئے تصویر میگ کے سرورق پر شائع ہوئی اور کہاں سائیکل پر کالج جاتا ہوا لیکچرر سلیم اختر، ادبی خدمات کو کو ن پوچھتا ہے! ٹھیک ہے کہ سلیم اختر نے بیسیوں کتابیں لکھیں، لسانیات اور اقبالیات کے ماہر تھے، شاندار افسانہ نگار تھے، ناولٹ اور آپ بیتی بھی لکھی، صرف نفسیات پر ہی ان کی کتب کی تعداد آٹھ ہے، تنقید کی پچیس کتابیں ہیں، دو سفر نامے ہیں، اس کے علاوہ عالمی ادب کے حافظ تھے، آپ اُن سے جب چاہیں کسی بھی عالمی سطح کے ادیب کے فن کے بارے میں بات کر سکتے تھے، ذاتی طور پر وہ دوستوفسکی کے بہت قائل تھے، ان کا کہنا تھا کہ اُس سے بڑا لکھاری پیدا نہیں ہوا، اسے پڑھ کر انسان کے دماغ پر اثر ہو جاتا ہے۔ ’’جب میں نے دوستوفسکی کو پڑھا تو کئی ماہ تک میرے دماغ پر اُس کے تخلیق کردہ کرداروں کا اثر رہا، میں اُس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا‘‘۔ یہ میری ڈاکٹر سلیم اختر سے آخری گفتگو تھی جو فون پر ہوئی۔

فہمیدہ ریاض کا کمال یہ تھا کہ پاکستانی مرد معاشرے میں انہوں نے پہلی مرتبہ ایک دبنگ عورت کے طور پر نسائیت کی بات کی اور بغیر لگی لپٹی کے کی۔ اس سے پہلے ادا جعفری، زہرہ نگاہ اور کشور ناہید کی مثالیں ملتی ہیں جن میں کشور ناہید کی مثال قریب ترین ہے مگر وہ بھی ایک رواج کے اندر رہ کر بات کرتی ہیں، فہمیدہ نے رواج توڑ دیا، وہ ایک بیباک عورت کے روپ میں ادبی افق پر ابھریں اور چھا گئیں، ان کی نظموں میں عورت تھی، جنس تھی اور وہ سب کچھ تھا جو اُس سے پہلے کوئی عورت لکھنے کی ہمت نہ کر سکی، یوں بھی اگر ہم خواتین ادیبوں کی فہرست بنائیں تو کل ملا کر نو یا دس نام ذہن میں آتے ہیں اُن میں فہمیدہ ریاض ایسی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں جو شاید اُن سے پہلے کوئی اور نہ لے سکا۔ وہ ایک شاندار مترجم تھیں مگر ادب میں ان کی پہچان ایک feministشاعر کے طور پر ہے۔ اس کے علاوہ فہمیدہ ریاض سیاسی جدوجہد کا استعارہ بھی تھیں، جنرل ضیاء کے دور میں بھارت چلی گئیں، ان پر غداری کا مقدمہ بھی بنا، بعد میں پاکستان آ گئیں اور بالآخر لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ ڈاکٹر سلیم اختر اور فہمیدہ ریاض کی ادبی خدمات کا اگر موازنہ کیا جائے تو ڈاکٹر صاحب بہرحال ایک جناتی ادبی شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں، ان کی تصانیف کی تعداد اور معیار کو فہمیدہ ریاض نہیں چھو سکتیں مگر پھر فہمیدہ کا شعبہ بھی مختلف تھا، وہ شاعرہ اور مترجم تھیں اور وجہ شہرت ایک ایسی دبنگ عورت کی تھی جس نے پہلی مرتبہ مردوں کے اس معاشرے میں عورت کے جنسی جذبات کی بات کی، ان کی نظم ’’لاؤ، ہاتھ اپنا لاؤ ذرا‘‘ ایک ایسی لڑکی کے جذبات کی ترجمانی ہے جو پہلی مرتبہ حاملہ ہوئی ہے۔

میرا مقدمہ یہ نہیں کہ ہمارے طاقتور ادبی نقاد کسی ادیب کو ضرورت سے زیادہ کیوں چڑھا دیتے ہیں، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پاکستان جیسے ملک میں یہ بھی غنیمت ہے، انہی کے پاس بین الاقوامی معیار کی ادبی کانفرنسیں کروانے کے ذرائع ہیں، جو دو چار ادبی جرائد رہ گئے ہیں وہ بھی یہی لوگ نکال رہے ہیں اور ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں بھی انہی کی رسائی ہے، ان تمام باتو ں پر کوئی اعتراض نہیں کہ ان لوگوں کا دم غنیمت ہے۔ گلہ صرف اتنا ہے کہ جہاں منٹو پر ادبی سیشن کیے جاتے ہیں، وہاں منشا یاد کو بھی یاد کر لیا جائے، جہاں فیضؔ کا ذکر آتا ہے وہاں کوئی بات احمد ندیم قاسمی کی بھی کر لی جائے اور جہاں فہمیدہ ریاض پر مضامین لکھے جا سکتے ہیں وہاں ڈاکٹر سلیم اختر پر بھی کچھ لکھ دیا جائے تو ادب کا بھلا ہو جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں