آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍جمادی الاوّل 1440ھ 24؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیو ٹائون میں پولیس کے ہمراہ اپنے بچوں سے ملنے کے لیے آنے والے شخص نے پولیس کے سامنے ایک شخص کو گولیاں مار کر قتل کردیا ،پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا،تفصیلات کے مطابق نیو ٹائون تھانے کی حددو شرف آباد مسجد کے قریب واقع توسو اپارٹمنٹ میں ڈیفنس کا رہائشی شخص 60 سالہ سہیل درخشاں پولیس کے ہمراہ منور علی نامی شخص کے گھر اپنے بچوں سے ملنے آیا تھا تاہم ملاقات کرتے ہی سہیل نے پستول نکال کر منور علی کو 4گولیاں مار دیں ،ساتھ آنے والے اہلکاروں نے فوری ملزم کو تحویل میں لیتے ہوئے زخمی حالت میں منور کو اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم راستے میں ہی اس نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے دم توڑ دیا ،پولیس نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے پستول اور 4خالی خول قبضے میں لیے گئے ہیں اور اس کو تھانے منتقل کردیا گیا ہے ،ایس پی گلشن طاہر نورانی نے بتایا کہ مقتول اور ملزم کا فیملی تنازعہ تھا جو کہ عدالت میں 3سال سے چل رہا تھا ، ملزم سہیل نے مقتول اور دیگر افراد کے خلاف عدالت میں اپنی بیوی اور تین بیٹیوں کے اغوا کا کیس کر رکھا تھا ،انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل ملزم سہیل کی بیوی نے عدالت کے ذریعے خلع لے لی تھی اور گذشتہ ڈھائی سال سے وہ اپنی بیٹیوں کیساتھ منور علی کے فلیٹ میں کرائے پر رہ رہی تھی اورمقتول منور علی بھی

اپنی بیوی اور بیٹی کیساتھ اسی بلڈنگ میں رہتا تھا،ایس پی طاہر نوارنی نے مزید بتایا کہ اتورا کو عدالتی حکم پر ملزم کو اس کی بچیوں سے ملوانے کے لیے بھیجا گیا تھا،ملاقات کے بعد جب ملزم فلیٹ سے نیچے آیا تو اس نے اپنے پاس موجود لائسنس یافتہ پستول جو کہ ایک سال پہلے اس نے لکی اسٹار سے خریدا تھا اور ملاقات کے لیئے آنے سے قبل اپنے زیر جامہ چھپا دیا تھا سے اچانک منور علی پرگولیاں چلادیں۔ ،انہوں نے کہا کہ ہم نے 4 اہلکاروں سے بھی تفتیش شروع کر دی ہے، اہلکاروں کے خلاف بھی غفلت برتنے پر انکوائری کی جائے گی،انہوں نے بتایاکہ ملزم بیروزگار اور ڈیفنس میں رہتا ہے، ملزم نے بیان دیا ہے کہ اس نے اپنا ذاتی گھر بیچ دیا تھا اور کرائے پر رہ رہا تھا،‎واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم نے جب مقتول پر فائرنگ کی تو پولیس نے اسے روکنے میں بہت دیر کی،حراست میں لیئے گئے پولیس اہلکاروں سے تفتیش جاری ہے۔مقتول منور علی کے بھائی تنویر علی نے الزم عائد کیا ہے کہ وہ پولیس کو کہتا رہا کہ اسکا بھائی زخمی ہے اسلیئے پولیس اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کرے لیکن پہلے پولیس ٹال مٹول سے کام لیتی رہی جبکہ بعد ازاں پولیس اسے اسپتال لے جانے کے بجائےپولیس تھانے لے گئی ،اگر پولیس وقت پر اسکے بھائی کو اسپتال لے جاتی تو اسکی جان بچ سکتی تھی،دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سہیل کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن کے بعد ہائی کورٹ کی جانب سے ایس ایس پی ساؤتھ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ملزم کی سابقہ بیوی اور بیٹیوں کو عدالت میں پیش کریں، جس پر درخشاں پولیس کے قائم مقام مقام ایس ایچ او اور تین اہلکار اسے لیکر وہاں گئے تھے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں